پیر، 27 اپریل، 2020

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے لیکر احساس کفالتی پروگرام اور غربت!




25 جولائی 2018 کو موجودہ حکومت نے اقتدار میں آتے ہی بہت سے اقدامات کرنے کی اعلانات کیں،جن میں سرفہرست کرپشن کی بیخ کنی، احتساب ، فلاحی ریاست ، پچاس ہزار نوکریاں، پانچ لاکھ گھر اور پاکستان کو معاشی بحران سے نکال کر خوشحال پاکستان بنانے کا اعلان شامل تھا۔ ۔ کرپشن کی روک تھام اور معاشی اصلاحات سمت آج تک کسی بھی دوسرے وعدے پر عمل در امد نہ ہوسکا۔
بقول شاعر ؛-
وہ وعدہ ہی کیا وعدہ ۔
جو وفاء نہ ہو۔
عالمی ادارہ صحت کے ایک حالیہ سروے کے مطابق پاکستان کے سب سے پسماندہ صوبہ بلوچستان کے شعبہ صحت میں %90 بیت الخلاء، %70 پانی اور %50 بجلی سے محروم ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق بلوچستان جنوبی ایشیا کا سب سے غربت زدہ خطہ ہے۔
پاکستان کی کل آبادی کے %70 لوگ خط غربت کے لکیر کے نیچھے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ پاکستان کے اندر لوگوں کی غربت کم کرنے کیلئے مندرجہ ذیل ادارے زیرے سرپرستی حکومت پاکستان اپنا کام سر انجام دہے ہے۔
1. Banzir Income Support.
2. Pakistan Bait-ul-Mall Zakat.
3. Poverty Alleviation Fund.
4. Trust for Volountry Organization.
5. The Sun Network.
6. Centre for Social Entrepreneurship.
کپتان نے پاکستان میں غربت کم کرنے کیلئے اپنی کابینہ کے اراکین سے مشورہ کئے۔ چونکہ خان صاحب کی کابینہ میں شامل اکثر وزراء و مشیران کا تعلق سابقہ حکومت کرنے والے سیاسی جماعتوں سے ہے لہذا انہوں نے خان صاحب کو وہی مشہورے دئے جو اس سے پہلے حکومتیں سر انجام دے چکے تھے۔ یعنی مالی امداد دے کر غربت کو کم کیا جائے۔ پھر اس حکومت سے وہی غلطی سر زد ہوا جو 2008 میں پاکستان پیپلزپارٹی کے حکومت نے کی ۔ 2008 میں پی پی پی کے حکومت نے اعلان کہ ملک سے غربت ختم کرنے کےلئے فی خاندان ایک ہزار روپے ماہانہ غریب ترین خاندانوں کو دیا جائے گا۔ بجٹ 2009۔2008 میں اس مد میں 35 ارب روپے مختص کئے اور 35 لاکھ خاندان کو یہ رقم تقسیم کرنے کا پروگرام بنایا۔ اس سکیم کے تحت ایک نیا محکمہ بنایا گیا اور اس محکمے کو ایک وزیر بھی عنایت کردی گئی۔ اس پروگرام کے تحت 342 منتخب ایم۔این۔ایز اور 100 سینٹرز کو فی نمائیندہ 8000 فارم دئے گئے تا کہ وہ اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں غریب ترین لوگوں کو یہ فارم دیں۔ ان کی تصدیق کرکے یہ فارم متعلقہ محکمہ کو واپس کریں تا کہ غریب خاندانوں کو فی خاندان ایک ہزار ماہانہ امداد شروع کی جاسکے۔ اس پروگرام کے لئے 6 کروڑ ڈالر کا قرض بھی حکومت نے حاصل کرلیا۔ یہ سب فارم سیاسی بنیادوں پر اپنے ووٹرز میں تقسیم کئے گئے۔ اس مرتبہ 27 مارچ 2017 میں عمران کی حکومت نے وہی غلطی دوبارہ دھراتے ہوئے احساس کفالتی پرگرام کا آغاز کردیا۔ جس کی مد میں سال 2019 کے بجٹ میں 80 بیلن روپے منظور کئے گئے۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب ملک انتہائی معاشی بحران کا شکار تھا۔ پاکستان میں لاکھوں کے حساب سے نوجوان بےروزگار بیٹھے ہوئے ہے۔ اگر حکومت توڈا بہت بھی سنجیدہ ہوتا تو مستقبل بنیادوں پر منصوبہ بندی کرتا تو اس سرمائے سے شہری اور ریہی حلقوں میں ٹیکس فری چھوٹی بڑی 100 کے قریب فیکڑیاں لگائی جاسکتی تھی، اور ان فیکٹریوں میں کوئی تقریبا ڈیڑھ لاکھ بے روزگار نوجوانوں کو ملازمت دی جاسکتی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ اسی سرمائے میں سے میڑک اور ایف اے پاس نوجوانوں کو ٹیکنیکل تعلیم دلواکر بے روزگاری کا چند سالوں میں حل نکالا جاسکتا تھا۔ بقول بندہ حقیر محنتی اور ہنرمند لوگ دنیا میں کبھی بھی بھوکے نہیں رہتے۔ اکیسویں صدی مشینوں کا دور ہے ، اس دور میں جس ملک کے پاس جینے ہنرمند لوگ ہوگئے وہ اتنے ہی ترقی یافتہ ہوسکتے ہے۔ جس کا واضح نمونہ ہمارے پاس بنگلادیش ہے جس نے بیران ممالک کام کرنے والے اپنے شہریوں کو وطن واپس بھولاکر ہنرمند بنا کر عالمی منڈی کے اندر داخل کے اور اب بنگلادیش ہم سے روز بروز آگے نکلتے جارہے ہیں۔
جو پاکستان کیلئے باعث شرمندگی ہے۔
اگر اس طرح کے عارضی پراجیکٹس سے ملک ترقی کرتا تو پہلے کرچکا ہوتا۔
پاکستان کے نااہل حکمرانوں کی ناقص پالیسوں کی وجہ سے یہ ملک آج تباہی کے دہانے پر پہچ چکا ہے۔
جان محمد انصاری.

ہفتہ، 25 اپریل، 2020

سوشل میڈیا اور احساس کمتری



ہمارےہاں نوجوان حضرات آج کل بڑے تیزی سے احساس کمتری میں مبتلا ہورہے ہیں۔ جس کا عملی مظاہرہ ہم معاشرے میں موجود نوجوانوں کے اخلاق و کردار سے دیکھ سکتے ہیں۔
کہ کس قدرہمارے نوجوان احساس کمتری میں مبتلاء ہے۔ ماہرین نفسیات کی ایک ریسرچ سے یہ ثابت ہوا ہے کہ جو نوجوان سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال کرتے ہے ۔ ان کا احساس کمتری میں مبتلاء ہونے کا زیادہ امکانات پایا جاتا ہیں۔ جس کے بعد وہ مکمل طور پر عملی زندگی میں ناکام ہوتے ہے ۔ کئی مرتبہ تو نوجوانوں کا خودکشی کے اطلاعات بھی ملے ہے۔ احساس کمتری دراصل ایک طرح کی نفسیاتی بیماری ہے جس کے بارے میں ہمیں علم ہونا ضروری ہے ۔ قارئین محترم
ماہر نفسیات ڈاکٹر صابر چوہدری کے
کے مطابق احساس کمتری ایک ایسی ذہنی کیفیت کا نام ہے جس میں انسان اپنا مقابلہ کسی سے کرنے کے بعد خود کو کم تر سمجھے۔
ماہر نفسیات ایڈلر کے مطابق احساس کمتری انسان کو بہتر بننے کی وجہ سے بنتا ہے مگر یہ بہتر بننے سے روکے تو یہ بیماری بن جاتا ہے۔
احساس کمتری کے شکار لوگوں کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ یہ لوگ تعریف کے معاملے میں یا تو بالکل بھی تعریف سننا پسند نہیں کرتے۔ کیونکہ دل میں سوچتے ہیں کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے ، یاپھر تعریف کے بھوکے رہتے ہیں کہ کاش کوئی ان کی تعریف کردے۔ سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال بھی نوجوانوں کو احساس کمتری یا پھر احساس برتری میں مبتلا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ ہم میں سے اکثریت نے لفظ احساس کمتری کئی مرتبہ سنے ہے لیکن بہت کم ہی احساس برتری کا لوگ ذکر کرتے ہے۔ یہ دونوں ہی ایک جیسے ذہنی کیفیات کا نام ہے۔ ہم صرف جسمانی طور پر بیمار یا پھر کمزور نہیں ہوتے بلکہ ہم میں سے بہت سارے نوجوانوں کو شاید معلوم ہی نہ ہو کہ ان کی زندگیوں میں جو مشکلات ہے وہ ان کی اپنی نفسیاتی بیماریوں کی وجہ سے ہے۔ اور اس بات سے علم بھی نہیں رکھتے ہوکہ جو وہ روزانہ پانچ پانچ گھنٹے سوشل میڈیا کے اوپر دوسروں کو دیکھتے ہے۔
اسی وجہ سے وہ نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہے۔ کچھ نوجوان ایسے بھی ہوتے ہے کہ سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال کرنے کی وجہ سے احساس کمتری میں نہیں بلکہ احساس برتری میں مبتلا ہو جاتے ہے۔ احساس برتری ایک طرح کا ذہنی کیفیت ہے کہ جس میں انسان خود کو دوسروں سے بہتر سجھتا ہے۔ مگر حقیقت میں وہ بہتر نہیں ہوتا۔
احساس برتری میں مبتلا لوگوں کی چند نشانیاں یوں ہے ۔ آپ دیکھے کئی سوشل میڈیا کے استعمال سے آپ کے اندر یہ علامات تو نہیں پائے جاتے۔
1۔ وہ اکثر تنقید کرتے رہتے ہے۔
2۔ لوگوں کا ہمیشہ مذاق آڑاتے ہیں۔
3۔ لوگوں میں عیب اور برائیاں تلاش کرتے ہیں۔
4۔ وہ دوسروں کی غلطیوں اور کمزوریوں کو اچھال کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔
5۔ اپنے آپ کو کچھ زیادہ ہی خاص سمجھتے ہے۔انہیں اپنے اندر کوئی خامی نظر نہیں آتی۔ اس لیے یہ اپنی اصلاح کی بھی کوشش نہیں کرتے ۔
اب آپ دیکھے کہ سوشل میڈیا ایک ایسا پیلٹ فارم بن چکا ہے جہاں پر دنیا بھر کے لوگ موجود ہوتے ہے۔ لازمی بات ہے اس میں ہر طبقے کے لوگ پائے جاتے ہے۔
ہمارے ہاں اکثریت کے عقلیں ان کے آنکھوں میں ہی ہوتے ہے۔ بظاہر وہ سوشل میڈیا کے اندر اپنی زندگی کو دوسروں کی ذاتی زندگی ( یعنی ان اسکرین ) سے موازنہ کرتے ہیں ۔ جس کے بعد انہیں اپنی زندگیوں میں صرف نادیدگی محرومیوں کا احساس ہوتا ہے۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ احساس کمتری یا احساس برتری دونوں آپ کے عملی سماجی روابط کے ذندگی کو خراب کرسکتے ہے ۔
جان محمد انصاری ۔

منگل، 21 اپریل، 2020

ہزارہ قوم! قائداعظم سے لیکر عمران خان تک !!

اکیسویں صدی میں معاشی ترقی کے بغیر ترقی کا مفہوم ہی نامکمل ہیں۔
معاشیات کی اہمیت کا انداز اپنے انفرادی زندگی سے لیکر عالمی قوتوں کی کردار میں دیکھ سکتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر ہم اقتصادی طور پر ترقی یافتہ ہوجائے تو خود بخود ہماری ثقافتی پسماندگی کا مسلہ حل ہوجائے گا۔ کیونکہ زبان ،اقدار , اخلاقیات ،خوراک ، پوشاک ،موسیقی اور تربیت پر انسان اس وقت صحیح طور پر توجہ دے سکتا ہیں جب انسان اور سماج کے پاس وسائل سر پلس میں موجود ہو۔ یعنی زندگی کے بنیادی ضروریات سے بڑھ کر انسان کے پاس وسائل موجود ہوں۔ معاشرہ اور قوم بھی اس وقت ترقی کرسکتا ہے کہ جب وسائل ہمارے پاس سرپلس میں موجود ہوں یا پھر موجودہ انسانی اور مالیاتی محدود وسائل کا صحیح اور درست استعمال کرنے کے طور طریقے انسان کو آتے ہو۔ چنانچہ تمام حقیقتوں کے باوجود معاشی پسمنادگی ہماری ثقافتی و مذہبی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ہمیں اس بات کا علم ہونا چاہئے کہ معاشیات اور سیاسیات کا آپس میں لازم و ملزوم ہے۔ یہ دونوں ایک سکہ کے دو روخ ہے اور ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہیں ، فلسفہ کے بعد تمام علوم سیاست کے اندر ضم ہوتا ہے۔ ہمیں اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ سیاسی میدان میں کامیاب ہوئے بغیر ہم ترقی حاصل نہیں کرسکتے ہیں۔ یہاں سیاست کی مفہوم سے مراد صرف صوبائی یا قومی اسمبلی کی نشت کی جنگ تک محدود نہیں بلکہ نظریاتی نظام ، سماجی منصوبہ بندی، کارکاردگی، کردار و شعور اور لوگوں کی معیار زندگی بہتر بنانے کیلئے جدوجہد کو سیاست کہتے ہیں۔ اگر چند کے لفظ سیاست کا مفہوم کافی وسیع ہے۔
ہزارہ قوم کو شاید صوبائی اسمبلی سے زیادہ ایک نظام کی ضرورت ہے جو اس قوم کی مذہبی و قومی تعلیمات کا سرچشمہ سے انہیں سیرآب کرلئے۔
اس قوم کو جدید بنیادوں پر ترقی دینے کیلئے معاشرے کی از سر نو تشکیل کرئے جس میں اس کی معاشی منصوبہ بندی، نئے سیاسی نصاب اور تعلیمی نصاب میں تبدیلی لائے ۔۔ کیونکہ ماضی کے روایت اور اصولوں سے ہم تجربہ و فائدہ تو آٹھاسکتے ہے لیکن آئیندہ دور کے چلینجز کا مقابلہ کرنے کیلئے اس قوم کو باقاعدہ ایک نظام کی ضرورت ہے۔ دشمن باقاعدہ ایک نظام کے تحت اس قوم کے خلاف سازشیں کرتے ہے اور سازشوں کا صحیح ادراک اور اس کا جواب بھی ایک نظام ہی دے سکتا ہے۔
اور اس صورت میں ہماری بقاء کا راز پوشیدہ ہے۔ بصورت دیگر ہم نے یہاں قائداعظم محمد علی جناح سے عمران خان تک اور نور محمد صراف سے لیکر عبدالخالق تک اس بوسیدہ نظام سیاست کو دیکھ چکے ہے ۔ جس کا اس قوم کو کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے۔۔لہذا پھر بھی اس نظام کے امید میں بیٹھنا آزمائے ہوئے کو آزمانے کی مترادف ہوگا۔۔
بلکہ اس کے بجائے ہمیں ایک نظریاتی اور منظم نظام کی تشکیل کیلئے جدوجہد کرنا ہوگا۔۔۔
جان محمد انصاری

ہفتہ، 18 اپریل، 2020

نوجوانان ذمہ دار قبول کیجئے !!!


زندگی میں آج جہاں پر بھی آپ کھڑے ہے وہ دراصل آپ کے ماضی کے خیالات اور عمل کا نتیجہ ہیں۔
کیونکہ ہر جانے والے ایام آنے والے آیام کو جنم دیتا ہیں۔ آج جو کچھ حاضر ہے وہ کبھی مستقبل ہوا کرتاتھا اور جو کبھی ماضی کہلائے گا۔ وقت کا سفر جاری ہیں اسے ہم صرف اپنی محنت، جدوجہد اور کوششوں سے اپنے مفاد میں استعمال کرسکتے ہیں۔ وقت کی سے کوئی بھی زی شعور انسان نکار نہیں کرسکتا ہے۔ اس کی قدروقیمت اگر روزمرہ کی زندگی میں دیکھنا چاہیتے ہوں تو صبح کی اخبار کو دیکھ لوں جو اخبار صبح ایک عدد 20 روپے کا ہوتی ہےوہی اخبار شام کو کوئی 20 روپے فی کلو لینے کو تیار نہیں ہوتا ۔ ہم میں سے ہر کسی نے ہر کسی نے شاید بہت سی کوشش کئے ہونگے کہ اپنی زندگیوں میں تبدلی لائے لیکن صرف چند دن کے بعد کم بخت نفس خود بخود انسان کو واپس اسی جگہ پر لاکر کھڑا کردیتا ہے جہاں سے ہم لوگوں نے شروع کی تھی۔ لیکن دراصل یہ باتیں غلط ہے کیونکہ آپ نے سنجیدگی سے کوشش کی ہی نہیں ہونگے۔ کیونکہ خیالات اور احساسات کی ڈور آپ کے اپنے ہاتھوں میں ہی ہیں۔ زمہ داری قبول کیجئے! ناکام لوگوں کی سب سے بڑی عادت اور نشانی یہ ہے کہ وہ کوئی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے صرف شکوہ و شکایت کے میدان کے غازی ہوتے ہے۔ وہ اپنی ناکامیوں کا الزام اپنے والدین ، وسائل کی کمی، خراب ماحول اور برئے لوگوں اور قمست کے کندے پر ڈالتے ہے۔ اور خود کو معصوم،شریف النفس انسان اور غیر جانبدار دکھاتے ہے۔ اور وہ خود زمہ داری لینے کو تیار نہیں ہوتے ۔ اسی وجہ سے وہ زندگی میں کبھی خوش نہیں رہ سکتے ہے۔ انسان کو اس کی زندگی میں تین چیزوں پر مکمل کنڑول ہے۔ خیالات،تصورات اور عمل و کردار آپ تینوں کا مثبت استعمال کرکے اپنی زندگی کو کامیاب اور ان کے منفی استعمال سے آپنے زندگی کو بگاڈ اور ناکام بھی بناسکتے ہیں۔ یہ میں نہیں کہتا بلکہ سائنس اور انسانی شعور کہتاہے۔ لہذا ایک عالم دین اور بزرگ وار علامہ محمد آصف حسینی صاحب فرماتے تھے کہ ہمارے نوجوان بے عمل نہیں بلکہ بے خبر ہے ۔ لہذا اسلام قوانین اور شریعت بھی بے خبر لوگوں پر اپنا ہاتھ ٹھوڈا بہت نرم رکھتاہے لیکن کسی چیز کے بارے میں آگاہی کے بعد اگر اس پر عمل نہ کاجائے تو آپ کی اپنی بدقسمتی ہوگی۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ تبدیلی چاہتے ہو ۔ چاہیے وہ تبدیلی آپ کی ذات میں ہو یا معاشرے میں دونوں صورتوں میں آپ کو زمہ داری قبول کرنے ہونگے۔ اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں۔
بقول شاعر :-
خود بخود ٹوٹ کے گرتی نہیں زنجیر کبھی
بدلی جاتی ہے بدلتی نہیں تقدیر کبھی
جان محمد انصاری

جمعہ، 17 اپریل، 2020

real leader vs fake leader

صرف قدرتی وسائل کافی نہیں !!!


صرف قدرتی وسائل کسی بھی قوم کو نجات نہیں دے سکتا مگر !
رقبے کے لحاظ سے بلوچستان کو سب سے بڑا صوبہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ قدرتی وسائل سے مالامال اور 760 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی ہونے کے باوجود بھی زندگی کے بنیادی حقوق دلوانے یہاں میسر نہیں آخر کیوں؟
ورلڈ اکنامک فورم کے رپورٹ کے مطابق بلوچستان جنوبی ایشیاء کا سب سے غربت زدہ خطہ ہے ۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن( ڈبلو ایچ او ) کی حال ہی میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے ہیلتھ سیکٹر میں 70 فیصد پانی ، 60 فیصد بجلی اور 50 فیصد بیت الخلاء سرکاری ہسپتالوں میں دستیاب نہیں۔ قدرتی وسائل سے مالامال صوبہ اور گوادر پورٹ اور اوپر سے سی پیک پراجیکٹ جس کی تعریف کرنے سے یہاں کے نام نہاد جعلی اور نااہل حکومت کے اراکین نہیں تھکتے ہیں۔ بلوچستان کے پسمنادگی کی پچھے منصوعی حکمران بنانے والے فیکٹری والوں کے ساتھ ساتھ صوبے کے عوام بھی برابر کے شریکدار ہیں۔ بلوچستان میں آباد اقوام جن میں بلوچ، پشتون ، ہزارہ اور دوسرے اقلیتی برادری بستے ہیں۔ انہوں نے کبھی بھی حقیقی و عوامی رہنماوں کی حمایت نہیں کی ہے اور اس نا انصافی کے خلاف کبھی بھی عوامی جدوجہد نہیں کی ہیں۔ اور جن لوگوں نے کی ہے انہوں نے ان کا ساتھ نہیں دی ہیں۔
تاریخ ہمیں دیکھا رہا ہے کہ وسائل چاہئے جتنا بھی ہو اگر صحیح قیادت کی فقدان ہو تو ترقی و کامرانی پانا کسی بھی قوم کیلئے ایک افسانے سے کم نہیں۔
ہمارے اگر کوئی ساتھی بلوچستان حکومت کے رحم و کرام میں بیٹھے ہوئے ہے کہ وہ ہمارے مسائل حل کرلینگے تو وہ بیٹھتا ہی رہے۔
جان محمد انصاری

منگل، 14 اپریل، 2020

سیاسی عدم پختگی



ہزارہ قوم کو سب سے زیادہ نقصان عدم سیاسی بختگی اور فکری پسماندگی کی وجہ سے لاحق ہوئے ہیں۔
یہ بات دراصل 1979 کی ہے جب سوویت یونین افغانستان میں داخل ہوچکا تھا۔ امریکی نواز سیاستدان،جنرل اور مولویوں نے امریکہ کے ایماں پر ایسے اسلام اور کفار کے درمیان جنگ کا نام قرار دیا۔ امریکہ منصوبہ بندی ، عرب ریال اور پاکستان انسانی وسائل مہیا کرنے لگا۔ اس دوران افغانستان کے پڑوسی ملک ایران کے اندر شاہ پہلوی کے خلاف انقلاب برپا ہوا۔ اور اس کے نیتجے میں ایک نئی حکومت جنم لی۔
دنیائی اسلام نے سوویت یونین کے خلاف جہاد کا اعلان کردیا۔
مجاہدین کی امداد کیلئے صوبہ سرحد اور فاٹا میں کیمپ بنائےگئے ۔ اور صوبہ بلوچستان کے جنوبی پشتون خواہ میں بھی کئی کیمپ تعمیر ہوئے جہاں سے ایک کثیر لوگوں کو تربیت دے کہ افغانستان بھجوادیا جاتا تھا۔
افغانستان میں بسنے والے اقوام جن میں ہزارہ ،پشتون ، تاجک اور ازبک شامل ہے سب کے سب سوویت یونین کے خلاف صف آرہا ہوگئے۔
افغانستان کے اندر ہزارہ قوم کے کئی حزب بنے ، جن می ں حرکتی ، سپاہ حزب وحدت شامل تھیں۔ حزب وحدت اسلامی ہزاروں کا وہ واحد جماعت تھا جس میں مذہبی، قوم پرست، کیمونسٹ اور دوسرے افکار رکھنے والے ہزارے سب شامل تھیں۔ اس دوران کوئٹہ میں آباد ہزاروں نے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے ہتھیار اور پیسے لیتے رہے۔ اور روزانہ کی بنیاد پر عملدارروڑ پر واقعہ تنظیم بیلٹنگ سے ٹھینک، اور ہتھیاروں سے بھری گاڑیاں افغانستان روانہ کئے جاتے تھیں۔ دس سال کی مسلسل جنگ کے بعد جب سوویت یونین کی واپسی ہوئی تو یہ مجاہدین جو اللہ کی راہ میں کفار کے خلاف جہاد کرنے کے دعویدار تھے اقتدار کیلئے آپس میں دست و گریبان ہوئے اور آخر میں نیتجہ یہ نکلا کہ طالبان نامی گروپ کا ظہور ہوگیا۔ جیسے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ اب پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اسی گروپ کا حامی تھا جو کہ افغانستان کے اندر ہزارہ قوم کے خلاف بھی سربکف تھے۔ جو لوگ کوئٹہ کے اندر پہلے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے مراعات لیتے تھے اب وہ بھی بے بس ہوگئے اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر بہت سے ایسے بھی افعال سر انجام دی جو میں سمجھتا ہوں کہ یہاں قابل ذکر نہیں ہزارہ قوم فکری پسماندگی اور سیاسی عدم دور اندیشی کی کمی کی وجہ سے کئی مرتبہ دیگر اقوام کی مفادات کیلئے دانستہ و نادانستہ طور پر قربانی کا بکرا بن چکے ہیں۔۔
اب ایک مرتبہ پھر افغانستان میدان جنگ بننے جارہاہے ۔
امریکہ کے انخلاء کے بعد طالبان اور بے حس افغان حکومت کے درمیان اقتدار کیلئے سخت ترین جنگ ہونے جارہا ہے ۔
جس سے واسطہ اور بلاوسطہ ہزارہ قوم متاثر ہوگا۔
خطے کے اس طرف آباد ہزارہ قوم کے قائدین طالبان کے خلاف مزاحمت کا راستہ انتخاب کرینگے یا مفاہمت سے کام لیےگئے دونوں صورتوں میں ہمیں انتہائی باریک بنی اور دوراندیشی سیاست اختیار کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر ہمارے لئے حالات ماضی کے مقابلے میں کئی زیادہ خطرناک ثابت ہونگے ۔
جان محمد انصاری

کیا ہزارہ قوم کو ایک تعلیمی نصاب کی ضرورت نہیں !!!

ہزارہ قوم کا تعلیمی نصاب !!!
کسی بھی قوم کی ترقی کا راز اس کے نظام تعلیم میں پوشیدہ ہے۔ کیونکہ گھریلو تربیت کے بعد قوم کے بچوں اور بچیوں یعنی ملت کے سرمایوں کو تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے تعلیمی اداروں میں داخل کروایا جاتا ہے۔ جس کا مقصد ہوتا کہ بچہ تعلیم حاصل کرکے اپنی انفاردی و اجتماعی زندگی کو بہترین طریقے سے گزار سکے۔۔۔
جہاں کتابوں کی شکل میں موجود علم کے ذخائر ان کے پاک ذہنوں تک اساتذہ کرام کی کرام سے پہنچایا جاتا ہیں۔
یہی طلبہ و طالبات جو ابھی چھوٹے کلاسز میں پڑھتے ہیں۔ یہی آگے جاکر اس قوم وملت کی رہنمائی کرتے ہے۔
کیونکہ فارسی زبان میں ایک کہاوت ہے کہ '' طفیل امروز قائد فردا "
بچوں کی تربیت کرنے کیلئے تا کہ وہ کل قوم و ملت کی خدمت کرسکے اس وجہ سے قوم و ملت کے بزرگ اہل دانش و قلم کار حضرات ان کیلئے ایک نصاب کا تعین کرتے ہیں۔ اس نصاب میں ایسے مواد شامل ہوتے ہے جو حال اور مستقبل کے حالات سے نمٹنے کیلئے قوم و ملت کے معماروں کو آمدہ کیا جاتا ہیں۔ ان کی انفرادی شخصیت سے لیکر اجتماعی شخصیت سازی میں ماحول، اساتذہ کرام ، والدین اور معاشرے کے ساتھ ساتھ نصاب کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہیں۔ لیکن یہ بات انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑھ رہا ہے کہ ہزارہ معاشرے میں اس سمت پر بہت کم توجہ دیا گیا ہے اور دیا جارہا ہے۔ جب دنیا کے دوسرے اقوام سائنس اور دوسرے علوم کے میدان میں آئے روز نئے نئے دریافت کررہے تھے ۔ وہی ہم اس وقت پہاڑ کی غاروں میں اپنی بقاء کی جنگ لڑھ رہے تھے۔
16 صدی میں دنیا جہاں سائنس سمت دوسرے مضامین میں ترقی کررہے تھے اور اپنے لئے تعلیمی اداروں کی بنیاد رکھ رہے تھے وہی ہزارہ قوم کا مذہبی و قومی نصاب تعلیم سی پارہ، قرآن مجید صرف تلاوت کی حد تک، اس کے بعد پنچ کتاب اور حافظ کی اشعار کا مجموعے پر مشتمل تھا۔
کیا ہزارہ قوم اس نصاب سے دنیا کے دوسرے اقوام کی برابری کرسکتے تھے۔ ہرگز نہیں پچھلے دو سو سالہ ظلم و جبر کے بعد بھی ہزارہ قوم کے دانشوروں اور اسٹیک ہولڈرز کو ایک نئے نصاب کی تشکیل دینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئے۔۔۔
لہذا دنیا مقابلہ کرنے اور اپنی بقاء کی خاطر اب ہزارہ قوم کو ایک ایسی نصاب کو ضرورت ہے جو اس کی دنیائی و آخرئ زندگی یعنی مذہبی و قومی تعلیمات و ضروریات کو پورہ کرسکے۔ یہ کام صرف ایک کمیونٹی نظام کی شکل میں ایک نظام ہی کرسکتا ہے۔ جس کیلیے ہمارے نوجوانوں کو جدوجہد کرنا ہوگا۔۔۔۔
جان محمد انصاری

پیر، 13 اپریل، 2020

امریکہ اور طالبان امن معاہدے کی کہانی


 امریکہ جب بھی کہیں سے گیا ہے وہاں مسائل چھوڈ کر گیا ہے ۔ یہ امریکہ کی فطرت میں شامل ہوتا ہے۔ امریکہ عراق سے نکل گیا لیکن تاحال بھی عراق کی حالات بہتر نہیں ہوئے بلکہ داعش نامی تنظیم جیسے امریکہ اور دوسرے قوتوں کی پوشت پناہی حاصل تھی عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ عراق آج بھی امریکہ کے پیدا کئے ہوئے مسائل حل نہ کرسکے۔ آج ایک اور امن معاہدہ ہورہا یعنی امریکہ باعزت افغانستان سے بھاگنے کی کوشش کررہاہے۔ جو معاہدے امریکہ اور طالبان کے درمیان گزشتہ روز ہوئے ہیں اس کی ثمرات افغان عوام تک  آس وقت تک نہیں پہنچ سکتا ہے جب تک بین الاافغان مذکرات کامیاب نہیں ہوتے۔ جو نکات طالبان کے اب ہے اگر اس میں لچک نہ آئے تو صاف ظاہر ہے کہ مذاکرات ممکن نہی نہیں ہوگی۔ اس من تقریب میں افغان حکومت کے کوئی بھی پور کشش سیاسی شخصیات نے حصہ نہیں لئے۔ دوسری جانب اقتدار کی  رسی کشی بھی ڈاکٹر اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے درمیان موجودہے یہ بھی بین الاافغان مذاکرات
کے راستے میں رکاوٹ ثابت ہوسکتا ہے۔ جس سے طالبان کو کافی فائدہ ہوگا ۔ کیونکہ جب ملک  میں سیاسی استحکام نہ ہو تو لازمی ہے یہ طالبان کے حق میں بہتر ہے۔ ایک لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو یہ ایک طرح کا امن معاہدہ نہیں بلکہ دنیا کو افغانستان کے اندر ایک اور جنگ دیکھنے کو ملے گا یہ اس کا معاہدہ ہے۔ جوکہ افغانستان نوئے کی دہائی کی طرف قدم رکھتا ہوا نظر آتا ہے۔ اگر امریکہ اپنی کہی ہوئی باتوں پر عمل کرتا ہے جو کہ وہ اکثر نہیں کرتا تو اس صورت میں جنگ ہی افغانستان کا مقدر بنے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک ریاست کے اندر دو دو حکومتیں نہیں بن سکتی ہیں۔ طالبان  سمجھتے ہے کہ انہوں نے روس اور امریکہ جیسی عالمی قوتوں کو شکست دی ہے اب وہ باآسانی کابل حکومت کو شکست دینے کی اہلیت رکھتا ہے تو کیوں کر افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کرلئے اور جمہوریت کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی جدوجہد کرلئے یہ طالبان کے موجودہ نکات میں نظر نہیں آتے۔
تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان کے باشندے آپس میں کبھی بھی ایک بات پر متفق نہیں ہوئے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ آپس میں ایک دوسرے کو برداشت اور حقوق دینے کی حوصلہ نہیں رکھتے تھیں۔ امن کی کنجی ابین الاافغان مفاہمت ہے نہ کہ امریکہ طالبان ڈیل۔
پاکستانی صحافی سیلم صافی لکھتے ہے کہ اگر اسی کی دہائی میں خلق اور پرچم کے رہنماوں کے برہان الدین ربانی اور حکمت یار جیسے قائدین کے ساتھ بین الاافغان مذکرات کامیاب ہوتے تو سوویت یونین کو مداخلت کا موقع نہیں ملتا ۔ پھر اگر مجاہدین آپس میں نہ لڑتے تو طالبان کا ظہور نہیں ہوسکتا تھا۔ پھر اگر طالبان اور مجاہدین کے بین الاافغان مذاکرات کامیاب ہوتے اور ان کے درمیان جنگیں نہ ہوتی تو امریکہ اور نیٹو کو مداخلت کا موقع نہیں ملتا۔ جنگ کی صورت میں حالات ماضی کے مقابلے میں بہت خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں 
جان محمد انصاری

اتوار، 12 اپریل، 2020

حبیب جالب کے اشعار !!!

حقیقت خرافات میں کھوگئ یہ امت روایت میں کھوگئی۔ اقبال


منصوبہ چاہئے کتنا ہی شاندار کیوں نہ ہو اس وقت تک بے کار ہے جب تک اس پر عمل در امد نہ کیا جائے۔ انسانی فلاح و بہبود کے لئے قران مجید میں ایک شاندار پلان موجود ہے مگر اس پر عمل نہ کرکے ہم آخرت کے علاوہ اس دنیا میں بھی ذلت و رسوائی کا شکار ہے۔ ہم افعال تو سر انجام دیتے ہے۔ لیکن اسلام کی روح پر نہیں بلکہ رسومات ادا کرنتے رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے اسلام ہمیں نجات نہیں دی سکتی ہے۔
آپ کے اذانیں، نمازوں ، روزے ، حج ، مجالس و ماتم، جشن ولادت اگر آپ کی انفرادی و اجتماعی زندگیوں میں تبدیلی پیدا نہیں کرتے تو سمجھ جائے کہ آپ صرف رسومات ادا کرکے اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں۔۔
کہتے ہے کہ جب امریکن آرمی عراق میں داخل ہوئے تو انہوں نے عراق کی سر زمین پر قبصہ کردی۔ امریکن سولجرز گلی محلوں میں گشت کررہے تھے کہ اچانک سے قریب کی کسی مسجد سے اذان کی بلند آواز گونجنے لگی۔ تمام سپاہی خوف ذدہ ہوئے اور راستے سے گزرنے والے ایک نوجوان عراقی سے پوچھا یہ آواز کس چیز کی ہے ؟اور کیا کہ رہا ہے، اتنے میں عراقی نوجوان نے اسے فلسفہ اذان اور نماز کی حکمت بتانے لگے۔ امریکی سپاہی درمیان سے بات کو کاٹ کرکہا کہ بھائی مجھے صرف اتنا بتادوں کہ کیا اس سے امریکہ یا ہمیں کوئی خطرہ تو نہیں تو اس سوال کے جواب میں عراقی نوجوان نے کہا نہیں آپ کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ یہ سن کر امریکی سپاہی نے کہا کہ دن میں ہزار مرتبہ اسے اذان دےدوں ہمیں اس سے کوئی تکلیف نہیں۔ ہماری مثال بھی یو ہی ہے اگر ہمارے ، نمازوں سے ،مجالس و ماتم سے دشمن کو نقصان نہیں پہچتا ہے یعنی ہمارے درمیان انقلاب و جدوجہد اور تبدیلی پیدا نہیں ہوتا تو سمجھ جائے کہ صرف رسومات ادا کی جارہی ہے اور رسومات ادا کرنے سے کوئی بھی قوم ترقی نہیں کرسکتا ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو افریقہ کے باشندوں کو دنیا پر حکومت کرنے چاہئے تھے کیونکہ وہ سب سے زیادہ رسومات ادا کرتے ہیں۔ اسلام صرف رسومات کا نام نہیں بلکہ انقلاب جدوجہد کا نام ہیں۔
جان محمد انصاری

ہفتہ، 11 اپریل، 2020

ہمارے تعلیمی ادارے اور منشیات!!




کسی بھی معاشرے کی تباہی اور بربادی کے پیچھے سب سے بڑا ہاتھ منشیات کا ہوتا ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ آج کل ہمارے تعلیم یافتہ نوجوان اس لعنت میں مبتلا ہوتے جارہے ہیں۔ اس کی روک تھام کیلئے باقاعدہ وفاقی اینٹی نارکوٹکس فورس کے نام سے بھی ایک ادارہ موجود ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑھتا ہے کہ وہ بھی یاتو منشیات سمگلروں کے ہاتھوں بے بس ہے یا پھر دال میں کچھ کالا ہے ۔ ماہرین کے مطابق منشیات کے لعنت میں مبتلا روزانہ نشے کے عادی افراد تقریبا 700 افراد اپنے ہاتھوں اپنی زندگی ختم کررہے ہیں۔ 2019 کی ورلڈ ڈرگ رپورٹ کے مطابق دنیا کے تقریبا 35 ملین افراد منشیات کو مختلیف طریقوں سے استمعال کرتے ہیں۔ جن کی عمر 12 سے 64 سال تک کی ہیں ۔ خطرے کی بات تو یہ ہے کہ اب یہ لعنت اب ہمارے تعلیمی اداروں کے پھیل چکا ہے ۔ جس سے معصوم طلباء و طلبات کی صحت اور زندگی پر مضر اثرات پڑرہے ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ لوگ تعلیم پر بھی بھرپور توجہ دینے سے قاصر رہتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق ہمارے اسکولوں اور کالجوں اور یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی مراکز پر ہر دس میں سے ایک طالب علم منشیات کا عادی ہے اور تیزی سے اس کی اعدادوشمار میں اضافہ ہوتا جارہاہیں۔ جو واقعی ہمارے لئے قابل تشویش بات ہے۔ نوجوان نسل دن بدن اس لعنت کی جانب راغب ہورہے ہیں۔ یقین اس کے پیچھے کچھ لوگوں کا خاص ہاتھ شامل ہے جو چند رقم کمانے کی غرض سے قوم کے جوانوں کے سر سے کھیل رہے ہیں۔ اس لعنت کا اندازہ آپ ہزارہ ٹاون کے گلی کوچوں میں دیکھ سکتے ہے جہاں چھوٹے چھوٹے لڑکے سیگریٹ و نسوار پیتے نظر آتے ہے ۔
سیگریٹ کے ایک کش سے شروع ہوا یہ فعل بالا آخر ہیروئن ، اور دوسرے سگین اور نشے کے مواد پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ ہمارا معاشرہ کس قدر اس لعنت میں جل رہا ہے اس کا اندازہ آپ آئے روز معاشرے میں اہسپتال برائے انسداد منشیات کے ناموں سے اداروں کا افتتاح دیکھتے آرہے ہیں۔
معاشرے کو اس لعنت سے نجات دینے کیلئے والدین ، اساتذہ ،علماءکرام ،سیاسی اکابرین، سماجی تنظیمیں،سول سوسائٹی کے اراکین، اور ہر ذی شعور انسان کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
جان محمد انصاری

معاشرے کو سمت دینے والے کون ہوتے ہیں؟



کسی بھی قوم یا معاشرے کو سمت دینے والے اس قوم کے اندر بیٹھے ہوئے سیاسی اکابرین، علماءکرام، ادیب ،سماجی تنظیمیں، سول سوسائٹی کے لوگ ،اساتذہ کرام، طلباء و طالبات ،تاجر طبقے سمیت ہر وہ فرد قوم یا طبقہ اس میں شامل ہوتا ہے جو معاشرے میں اثرورسوخ رکھتے ہیں۔ جیسے دنیا اشرافیہ ، حواض ، اسٹیک ہولڈرز ، وغیرہ جیسے نام و القابات سے یاد کرتے ہیں۔ دنیا کی ہر قوم جس طرح آپس میں مختلف قبائل پر مشتمل ہوتی ہے ویسے ہی ہزارہ قوم بھی بھی کئی قبائل پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جیسے ہم اپنی مادری زبان ہزارگی میں طائفہ بولتے ہے۔ اب تو یہ بھی ایک بحث سخن بن چکی ہے کہ کیا ہزارگی ایک الگ زبان کی حیثیت رکھتا ہے یا پھر فارسی دری کا ایک انتہائی خوب صورت دلکش لہجہ ہے۔ اس بحث کی طرف اب ہم نہیں جاتے بلکہ کہنے کا مقصد یہ تھا کہ ہم ہمیشہ اہم کاموں کو چھوڈکر ثانوی حیثیت رکھنے والے اعمال و اشیاء کے پیچھے اپنا رخ کرتے ہے یہ ہمارے نفسیات میں شامل ہے اس کا اندازہ آپ میرے اس کالم میں کرلئے کہ موضوع مقصد کی جانب حرکت کرنے کے بجائے میں ہزارگی زبان کی تشریح پر چلا گا ۔ کیا کرو میں بھی تو آخر میں ایک ہزارہ ہوں۔ اور میرا تعلق بھی اسی معاشرے سے ہیں۔ مزید دوسری طرف نہیں جاتے بلکہ واپس اپنے موضوغ سخن پر آتے ہے۔ ہزارہ معاشرے کے اندر ہر طائفے کے اپنی اپنی ایک چندہ ہوتا ہے ۔ بہ الفاظ عام گروپ ہوتا ہے ۔ جس کے سربراہ کو سرچندہ نام کے خطاب سے نوازا جاتا ہے۔ طائفے میں موجود جیتنے بھی گھرانے ہوتے ہے ، سرچندہ ان کے اجتماعی زندگیوں کے فیصلہ کرنے میں اختیار رکھتے ہیں۔ جو سرچندہ فیصلہ کرتا ہے اسے تمام اراکین باخوشی یا بہ غم مانا ہی پڑتا ہے۔ وہ اجتماعی فیصلہ کے اختیارات رکھتے ہے۔ فکر کی بات یہ ہے کہ ان میں اکثریت بےچارے تعلیم یافتہ نہیں ہوتے بلکہ صرف حاجی یا کربلائی ہوتے ہے کیونکہ سرچندہ بنے کا معیار ہزارہ قوم میں صرف دولت مند ہونا ہی کافی ہوتا ہے ۔ معیار صرف دولت ہے جس کے پاس بھی ہو وہ بندہ اہل ہے کہ سرچندہ بن جائے چاہے وہ معاشرتی ، سیاسی،اخلاقی،نفسیاتی اور تعلیمی شعور رکھتا بھی ہوں یا نہیں کوئی مسلہ نہیں ہے بس طائفے کے لوگوں کو ہفتے یا مہینے میں ایک یا دو مرتبہ دعوت پر کھانا دے سکے بس ۔
ان میں اکثریت زیادہ تعلیم بھی نہیں رکھتے ہے ۔ ہزارہ قوم کی سب سے بڑی خامی یہی ہے کہ یہ اپنے زندگی کے اجتماعی اختیارات کو ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں تھاماتے ہے جو حالات حاضرہ ، سیاسی و سماجی بصیرت سے پیدل ہوتے ہے۔ جو صرف اپنی ذاتی مفادات یا پھر ذاتی تجربے کی بنیاد پر فیصلے و اعمال سرانجام دیتے ہے جو اکثر موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگی نہیں رکھتے بلکہ ذمینی حقائق کے بھی متضاد نکلتےہیں۔
ہزارہ معاشرے کے اندر جتینے بھی ایسے ادارے ہے جو اس قوم کی اجتماعی زندگیوں سے تعلق رکھتے ہے۔ وہاں نوجوانوں کے بجائے ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہی ہیں۔ جو بے چارے فکر سے قاصر ہے۔ اس موقعے پر مجھے علامہ اقبال کا ایک شعر یاد آرہاہے ۔ قارئین محترم اگر آپ چاہئے تو عرض کرلوں۔ اقبال نے کہا تھا
یہاں ہر شاخ پر بیٹھے ہے آلو
انجام گلستاں کا کیا ہوگا۔
گلستان کو تباہ کرنے کیلئے ایک الو کافی ہوتا ہے ہزارہ معاشرے میں تو ہر ایک عوامی اداروں پے الو بیٹھے ہوئےہیں۔ انجام معاشرہ اور آئیندہ نسلوں کا کیا ہوگا۔ یہ اللہ اور آپ قارئین محترم بہتر جانتے ہیں۔ لہذا اب ہزارہ معاشرے کو ایک ایسی ادارے کی ضرورت ہیں کہ جس میں باقی تمام سماجی و معاشرتی ،تعلیمی و فرہنگی، مذہبی و قومی اقدار ، کاروباری سمیت تمام ادارے جو ایک معاشرےیا قوم کی ضرورت ہے ایک عظیم ادارے کے اندر انضمام ہوں۔ جیسے آپ ایکب کمیونٹی نظام بھی کہ سکتے ہیں ، ۔ جس کی قیادت نوجوان نسل ہاتھوں میں ہوں ۔ جب سب ہی ایک سرچشمہ سے پانی پیئےنگے تو آپس میں اختلاف کا کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گئی ۔ کیونکہ تمام طرح بے اتفاقیوں کے پیچھے مفادات کا کالا ہاتھ ہوتا ہے۔ جب کے مفادات ایک سرچشمہ ہونگے تو اس سے آپس میں اتحاد و اتفاق پیدا ہوگا ۔ جو کسی بھی قوم کی کامیابی کا ضامن ہوتا ہے ۔ شاید آپ لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال آیا ہوگا کہ بالا آخر ان سب کو اکٹھا کیسے کیا جائے جیسے پہلے بھی میں ذکر کرچکا ہوں کی بے اتحاد کے پیچھے مفادات کا ہاتھ ہوتا ہے ۔ مفادات کا سرچشمہ ایک ہونے سے آپس میں اتحاد و اتفاق پیدا ہوتے ہے کیونکہ ہمارے ہاں اختلافات نظریات پر نہیں بلکہ ذاتی و مفاداتی اختلافات ہوتے ہیں۔ یہ معاشرہ اس سطح فکری تک نہیں پہنچا ہے کہ یہاں کے لوگ فکر و نظریاتی اختلاف کرئے اور منطق و عوامی فلاح و بہبود کی بنیاد پر اپنے اجتماعی فیصلے و رہبر منتخب کرلئے لہذا آپ کو سمجھانے کی عرض سے ایک مثلا دیتا ہوں کہ مثال کے طور پر ایک کمرہ جماعت میں تمام طلباء و طالبات پڑھتے ہے ۔ جن میں مختلف قومیت ،مذاہب سے طلباء و طلبات تعلق رکھتے ہے ۔ ہر ایک بنیادی طور پر آپس میں ایک دوسرے متضاد ہوتے ہے ، علاقائی ، لسانی ، فرہنگی ،مذہبی اور قومی بنیادوں پر آپس میں ایک دوسرے سے الگ ہونے کے باوجود ایک کمرہ جماعت میں آپس میں کیوں بیٹھتے ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان سب کا مفاد آپس میں ایک ہے ۔ وہ سب تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس صورت میں ہی ہماری بقاء پوشیدہ ہے کہ اہم ایک ایسے ادارے کی بنیاد رکھے۔ اور اس نظام کے تحت ہی ہم لوگ اس قوم کو ترقی و کامرانی کی سمیت پے لے جاسکتے ہیں۔
جان محمد انصاری

جمعرات، 9 اپریل، 2020

ہزارہ قوم اکابرین کے نام

قوم نسل کشی کا شکار ہے ہمارے معاشرے کے خواص اور دانشور طبقہ آپس میں اس بات پہ لڑتے جھگڑتے نظر آتے ہے کہ ہم اکثریت مذہبی ہے یا پھر قوم پرست !
 بیس سالہ قتل عام کے بعد ہزارہ قوم اس وقت  بری طرح اخلاقی و معاشی بحران کا شکار ہے۔ ہزارہ ٹاون میں آپ کو  توڈا بہت کاروبار یا دولت کا سرکولیشن ہوتا ہوا نظر آتا ہے لیکن علمدارروڑ میں کاروبار اور روزگار کے مواقعے نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کا  اندازہ آپ  آئے روز بند گلیوں کے اندر پراپرٹی ڈیلرز کے دوکانوں میں اضافے کی شکل میں دیکھ سکتے ہے ۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں اور دوسرا منافع بخش کاروبار نہیں رہا دہشت گردی کے  خوف و ڈر نے  اب بھی ہمیں بازار میں کاروبار کرنے سے روکے رکھا ہے۔  ہزارہ ٹاون اور علمدارروڑ میں آباد ہزارہ قوم اس وقت صرف بیرونی ممالک سے آنے والے پیسوں پر زندگی بسر کررہے ہیں۔  جس دن یہ آنا کم ہوجائیں تو پھر یہاں قیامت صغری برپا ہوگا۔ کیونکہ یہاں کوئی معاشی اصلاحات اور سرمایہ داری نظر نہیں آتے۔  ہمارے پاس نہ تو زراعت  کیلئے زمین ، صنعت ، اور دوسرے وسائل دستیاب ہیں اور نہ ہی ایسے ادارےہمارےپاس موجود ہے جو باہر سے پیسے اس سوسائٹی کیلئے لائے۔  آخران سب کا ذمہ دار کون ہے ؟ اور ایسے کون حل کرسکتا ہیں؟ ۔ صوبائی حکومت ؟؟؟ صوبائی حکومت تو خود اپنے آپ کو سنبھال نہیں سکتی ہے وہ آپ کے معاشرے یا قوم کو کیا دے سکتے ہیں۔ جو گزشتہ بیس سالوں سے آپ کے ایک قاتل کو گرفتار نہ کرسکے یا پھر ان کا من نہیں کیا کہ گرفتار کرئے وہ آپ کے مسائل حل کرینگے ایسا ہے تو یہ ایک قسم کا دھوکا ہوگا۔
اللہ تعائی نے خود قران کریم میں فرمایا ہے میں اس قوم کی حالت نہیں بدلتا
ہو جس کو اپنے  حالت بدلنے کی فکر نہ ہوں  ۔  ہمارے اسٹیک ہولڈرز تو آپس میں ان باتوں میں الجھے ہوئے ہیں کہ سوشلزم ایسا ہے  سرمایہ دارانہ نظام ویسا ہے ، دوسری جانب ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو بے چارے قوم کے مسائل کو خانقاوں میں بیٹھتے ہوئے صرف علمی بحث و مباحثوں کے زریعےسے  حل کرنےکی کوشش کرتے ہیں۔ یہ معاشرہ ٹارگیٹ کلینک کے بعد اب معاشی و سماجی بحران کا شکار ہیں۔ خاندانی نظام یہاں درہم برہم ہوچکے ہیں۔ طلاق کی شرح آسمانوں سے باتیں کررہا ہیں۔ عورتوں کی تعداد مردوں کے مقابلے میں دوگنی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت نہیں ہے کہ ہم آپس میں کمیونزم ، سوشلزم، کس  ذکر کا کتنا ثواب زیادہ ہے اور اس جیسے دوسرے چیزوں میں بحث و مباحثہ کرتے رہے اور  میں علمی بحث و مباحثے کا مخالف نہیں بلکہ بحث و مباحثے کا ہونا بہت ضروری ہیں۔ ترقی اور منطق تک پہنچنے کیلئے لیکن موجودہ حالات کے تقاضے ایسے نہیں اس قوم کو اداروں کی شدت سے ضرورت ہیں۔ ہم اکثر  افعال و اعمال کے بظاہر عوامل کو دیکھتے ہے ان کے پیچھے حقیقت تک پہچنے کی کوشش نہیں کرتے یا پھر دلچسپی نہیں لیتے۔ یہ جومعاشرے کے اندر سماجی برائیاں آسمانوں  سے باتیں کررہے ہیں دراصل اس کے پیچھے  غربت یعنی معاشی بحران کا ہاتھ شامل ہیں۔ کہتے ہے کہ ایک پہاڑ کے دامن میں ایک گاوں واقع تھا۔ اس پہاڑ کی چوٹی پر تین بھائی رہتے تھے۔
جس میں سے ایک کانام پانی ،دوسرے کا ہوا اور تیسرے کا نام آسمانی بجلی تھا ۔ ان تینوں کی وجہ سے گاوں کے لوگ اکثر پریشان رہتے تھے۔ جب پانی آتا تو سب چیزیں اپنے ساتھ بہاکر لئے جاتا اور جب ہوا آتی تو کھیت کے کھیت کو آڈاکے لے جاتا اور راتوں کو لوگ آسمانی بجلی کی آواز اور خوف سے سو نہیں سکتے تھے۔ گاوں کے لوگ آخر تنگ آکر آپس میں فیصلے کئے کہ ایک وفد ترتیب دیا جائے اور ان تینوں سے مذاکرات کیا جائے شاید کوئی راہ حل نکل سکے ۔ بالا آخر وفد ترتیب دیا گیا اور پہاڑ کے چوٹی پر چڑھنے کیلئے روانہ ہوئے وہاں پہنچتے ہوئے انہوں نے کہا صاحب  آپ کی وجہ سے ہمیں کافی مشکلات کا سامنا ہیں لہذا آپ ہمیں زیادہ تکلیف نہ دے تو بہتر ہوگا ۔ ہم آپ کی ہر شرط مانے کو تیار ہے تو ان تینوں نے کہا صائب ہمیں کوئی کام دھندہ دے۔ ہمارے پاس اس کے کرنے کے علاوہ اور کرنے کو کچھ ہے ہی نہیں تو ہم کرئے تو کیا کریں۔؟؟
لہذا اب ہمارے دانشوروں ، اکابرین ، علماءکرام  کو یہ بات سمجھنا ہوگا کہ اب آپس میں صرف بحث و مباحثے کی مزید گنجائش نہیں رہی بلکہ اب  مل کر کام کرنے کا وقت آچکا ہیں۔
جان محمد انصاری

بدھ، 8 اپریل، 2020

امام زمان (علیہ السلام) کیوں ظہور نہیں فرماتے؟؟؟؟؟؟

قران پاک میں ارشاد باری تعائی ہے ۔ کہ اللہ تعائی نے یہود قوم کو دیگر اقوام پر فضیلت دینے کا وعدہ اس شرط پر کیا تھا کہ وہ اس کے ساتھ اپنی جانوں کا سودا کریں۔ یعنی اس کی اطاعت اور خوشنودی حاصل کرنے کیلئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کردینے کے لئے تیار رہیں۔ لیکن قوم نے یہود نے اپنی جانوں کے سودے کی شق کو فراموش کردیا صرف فضیلت دئے جانے کا وعدہ یاد رکھا۔ اور اس فضیلت والے ذہین کے ساتھ عقیدہ بنالیا کہ یہود اور صرف یہود ہی خدا کے برگزیدہ بندے ہیں۔
باقی تمام انسانیت ان کے آگے ہیچ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بلکل اسی طرح آج جس زوال کا شکار ملت مسلمہ ہے اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ اللہ تعائی کے فروموداد اور رسول اکرم (ص) کے افعال و اعمال پر عملدرآمد کرنے اور اپنی انفرادی و اجتماعی  فرائض سرانجام دینے کے بجائے صرف امت محمد (ص) خود کو کہنے پر محدود کررکاہیں۔ خدواند کریم نے دنیا میں کچھ اصول و قوانین تشکیل دی ہے جس کی روح پر جو کوئی بھی عملدرآمد کرئےگا۔ وہ کامیابی اور کامرانی کی آخری منزل تک پہچ جائےگا۔ اس میں کوئی ذات پات، مذاہب، قومیت اور دوسرے عوامل کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ یہودیوں نے اللہ تعائی سے اپنے لئے مسیح کی نزول کی التجاء کرتے رہے اور جب وہ آگیا تو اسے ماننے سے انکار کردئے۔ آج ہم بھی اپنے امام وقت یوسف زہرا ( علیہ السلام ) کی ظہور کیلئے رب کی بارگاہ میں التجاء تو کرتے ہے لیکن اگر وہ آگے تو کیا ہم اسے ماننے کو تیار ہونگے؟؟؟؟۔  اس بات کا اندازہ ہمارے اور آپ کے اعمال و افعال سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہیں۔
امام زمانہ ( علیہ السلام ) کے متعلق ہماری ذہنیت کچھ اس طرح ہے۔
ہم لوگوں نے امام کو اپنے لئے  کچھ اس طرح کا رہبر بنایا ہوا ہے کہ وہ آکے ہماری تمام مسائل خود حل کرئےگا بس ہمیں اور آپ کو کچھ بھی نہیں کرنا ہوگا۔
یہودی بھی انبیاء کرام(علیہ السلام ) کے متعلق ٹھیک اسی طرح کے ذہنیت رکھتے تھے۔
ایک دفعہ ایک صحابی نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا یا مولا
آپ کا جحت بزرگ وار امام حسین علیہ السلام نے تو قیام فرمایا ۔ آپ (ع) کیوں قیام نہیں فرماتے ! اب تو آپ (ع)  کے پاس لاکھوں کے حساب سے پیروکار اور ہزاروں کے تعداد میں شاگرد ہیں۔
امام جعفر صادق علیہ السلام  فرماتے ہے کہ اگر میرے پاس میرے نانا کی طرح چند ایسے صحابی ہوتے تو میں خدا کی قسم اب تک قیام کرچکا ہوتا۔
یہ جمع غفیر مجھے اپنا امام تو مانتے ہیں لیکن میری رہبری کوتسلیم نہیں کرتے یہ مجھے صرف استاد،فقہ، عالم دین، دانشوار ہی سمجھتے ہیں رہبر نہیں۔
آج امام زمانہ (ع) کیوں ظہور نہیں کرتے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے امام (علیہ السلام ) کواپنا رہبر اور نمونہ نہیں قرار دیا ہیں۔ ہماری انفرادی و اجتماعی زندگی کے کون سے ایسے اصول و قوانین ہے جو امام  (ع) کے قول و فعل  کے تحت ہیں۔
ہم لوگوں نے امام (ع) کو صرف اللہ رب عزت کی بارگاہ میں  اپنی حاجات مانگتے ہوئے وسیلہ اختیار کرنے کی حد تک  پہچانتے ہیں۔
 یا اللہ ہمیں امام زمانہ (ع) کی معرفت عطا فرماء۔۔۔
جشن ولادت با سعادت امام زمان (علیہ اسلام) تمام دوستوں کو مبارک باد ہو۔۔۔
جان محمد انصاری

منگل، 7 اپریل، 2020

حقیقی رہنما کیسے ہوتے ہیں؟؟

حقیقی رہنما کیسے ہوتے ہیں۔
انیسویں صدی کے شروع میں  جہاں مغرب صنعتی انقلاب کے بعد شاہراہیں ترقی پر سفر کررہے تھے اور دنیا کے بیشتر ممالک  کو اپنی کالونی بناچکے تھے ۔ وہی چین ایک پسماندہ اور غربت زدہ ملک تھا۔ ملک بھر میں منشیات ، جسم فروشی اور جوئے جیسی لعنتوں کا عروج تھا۔ وہی بے روزگاری عام تھی ، چوری چکاری اور ڈاکہ زنی کا زور تھا۔
جس طرح آج ہمارا معاشرہ ان لعنتوں میں مبتلا ہیں۔ بہر حال ہمارے ہاں جوئے سے زیادہ سود لینے کا رواج عام ہے، جہاں تک بات چوری چکاری، اور ڈاکہ زنی کا تعلق ہے اس کا شرح ہمارے معاشرےمیں بہ نسبت دوسرے سوسائٹس کے کم ہیں۔ لیکن آج کل سر آٹھارہے ہیں۔  چینی عوام کی اکثریت جاہل تھی- لوگ ریاضیات اور ساینسی علوم سے بے بہرہ تھے۔ ادب اور فلسفے کا کوئی وجود تک نہ تھا ۔ گویا چین ظلمت کے بحر میں غرق تھا۔
ٹھیک اسی طرح ہمارے ہاں بھی اکثریت معاشرتی معاملات میں شعور نہیں رکھتے۔ بلکہ تعلیمی لحاظ سے بھی تاریکی میں زندگی بسر کررہے ہیں۔
میرے خیال میں تعلیم یافتہ ہونے کا معیار صرف تعلیمی اداروں سے سند لینے کا نہیں بلکہ تعلیم سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے انفرادی و اجتماعی زندگیوں کو اسان اور سہولہت بخش بنانا ہیں۔ اور معاشرے کے اندر بحرانوں اور مسائل کا راہ حل نکلنے کے فنکار کو میں تعلیم یافتہ کہتا ہوں اگر اس روح سے دیکھا جائے تو ہم ابھی تک پتھر کے زمانے میں زندگی بسر کررہے ہیں۔
بقول اقبال؛-
جس کھیت سے میسر نہ ہو دھقان کو روٹی
اس کھیت کے ہر خوشائیں گندم کو جلادوں۔
 خودغرضی جیسی خطرناک نفسیاتی بیماری جو کروناوائرس سے بھی خطرناک ہے جو سماج کو آندر ہی اندر سے کھا جاتا ہے ایسے صفات رزیلہ یہاں ہر بچے کو گھر کےاندر سے ہی سیکھائی جاتی ہیں۔ لوگوں اخلاقیات اور سماجی زندگی کے گور نہیں جانتے۔ اخلاقیات کا تعلق بلاواسطہ طور پر معاشیات سے ہے جب یہاں معاشیات نام کا منصوبہ بندی ہی موجود نہ ہوں قومی یا معاشرتی سطح پر تو ان سے مزید کیا توقع کیا جائے۔ پھر چین کی عوام کو اللہ نے ایک محسن عطا کیا۔
اللہ کا محسن بھی کوئی کام نہیں کرسکتا ہے جب تک اللہ کے بندے اس محسن کا ساتھ نہ دے ۔  امامت کا نظام اس کا واضح مثال ہیں۔
چین کے عوام نے اشرافیہ کو چھوڈ کر حقیقی قیادت کے پرچم تلے جمع ہوئے۔
اس محسن کا نام تھا مازوئے تنگ۔ جس نے چینی قوم کا مقدار بدل کے رکھ دیا ۔ آج چین دنیا کی سب بڑی معاشی طاقت ہیں۔ آج جب چین دنیا سے مقابلہ کررہا ہیں اس کے پیچھے صرف اور صرف ایک شخصیت کی قربانیوں کا کردار شامل ہے۔ وہ ماوزے تنگ کی قربانی ہیں۔
عوامی و حقیقی لیڈران ہمیشہ قربانی دیتے ہے اور ان کی قربانیوں سے ہی ملت سر بلند ہوتے ہے۔  آج بے چارے مظلوم اور پسماندہ اور قتل عام کا شکار ہزارہ قوم کو بھی ایک مازوے تنگ جیسے قیادت کی ضرورت ہیں۔
ہمارے آبادی کوئٹہ شہر کے اندر 7 سے 10 لاکھ کے قریب ہے ۔  جس کے مسائل حل کرنے کیلئے صرف اور صرف ایک رہبر اور ایک نظام کی ضرورت ہے آپ بغیر حکومتی تعاون کے بھی اپنے مسائل حل کرسکتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے لیڈران لفظ لیڈران اس لئے استعمال کرتا ہوں کہ ہزارہ قوم میں ہر دوسرا بندہ لیڈر ہونے کا دعوے دار ہے اور کہتا بھی نہیں کہ قوم کو کس طرح بچایا جائے۔
کہنے کا مقصد یہ تھا کہ کیا ہمارے موجودہ لیڈران   مازوئے تنگ  جیسے اپنے قوم کیلئے قربانی دے سکتےہیں؟؟ کیا ان کی طرح اپنے قوم کو دنیا کی بہترئن قوم بنانے کیلئے کوئی منصوبہ بندی رکھتا ہے ،؟  اجتماعی دھرونوں، پریس کلبوں ، اور اخباری بیانات کے علاوہ کیا ان کے پاس کوئی اور  راہ حل ہیں۔؟؟ مازوئے تنگ نے اپنے قوم کی مفادات کی خاطر اپنے بیوی ، بھائیوں اور بیٹوں کی قربانی دی۔ کیا ہمارے  قومی و مذہبی لیڈران  یہ قربانی دے سکتے ہیں۔ ؟؟؟
ہزگز نہیں دے سکتے  کیونکہ یہ لیڈر نہیں سیاست دان ہے جن کی سوچ صرف اور صرف انتخابات اور حلقہ بندیوں کی حد تک محدود ہیں۔ ان کی ساری جدوجہد صوبائی یا وفاقی سیٹ کی حصول تک ہے تو محدود ہوتے ہیں ۔
اس قوم کو مازوئے تنگ جیسے رہنما کی ضرورت ہے جو اس قوم کو ادارے دے۔
اس قوم میں اقدار پیدا کرئے ۔ ان کے مسائل کے متعلق بیانات نہیں نظام رکھتے ہوں۔ جس کی بہترین شکل کمیونٹی نظام کی طرح کوئی نظام ہوسکتا ہیں۔ ۔۔۔
جان محمد انصاری

ہزارہ قوم کا احتجاج !!!۱


‏پاکستان میں دوسرے اقوام اپنی حقوق کیلئے احتجاج و مظاہر کرتے ہے۔
وہ کاروبار ، روزگار، اور زندگی کے دوسرے سہولیت کا مطالبہ کرتے ہیں۔
لیکن ہزارہ برادری کا ہر احتجاج مظاہرہ مطالبہ صرف اور صرف یہی ہوتا ہے ہمیں زندہ رہنے دیا جائے۔
ہم غلام ہی صحیح لیکن ہمیں صرف جینے کا حق دیا جائے۔
لوگ آپ کو زندہ رہنے کا حق دینے کو تیار نہیں کیا وہ آپ کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرینگے۔۔۔
آخر یہ ظلم کب تک ؟؟؟
کیا ہمارے مردوں میں غیرت نہیں ہے کہ ہم ہمیشہ زندگی کا بھیک مانگتے پھیرے 

اتوار، 5 اپریل، 2020

یہودیوں کا قومی و مذہبی نصب العین!!!


یہودیوں کو پرانے زمانے میں ایک خاص قسم کا لباس پہنایا جاتا تھا تاکہ دوسرے لوگ دور سے ہی انہیں دیکھ کر پہچان سکے کہ یہ یہودی ہے۔ دنیا کے ہر ممالک میں انہیں کوئی انسانی حقوق میسر نہیں تھے جیسے آج کل دنیا کے کسی ممالک میں بھی ہمیں کوئی حیثیت حاصل نہیں ہر جگہ ہمیں قربانی کے بکرے کے طور پر استعمال کئے جاتے ہیں۔ لیکن پھر تاریخ نے یہود پر واضح کردیا کہ وہ دنیا میں کہیں بھی بطور یہودی نہیں پنپ سکتے۔ انہیں مختلف تحریکوں اور نظریاتی فلسفوں میں پناہ لینا پڑےگی، تاجر اور صنعت کار بن کر مزدوری کمانا ہوگی اور ہر ملک کے حکمران طبقے میں اپنے لئے جگہ بنانا ہوگی، دانشوروں کا روپ دھارنا ہوگا، سائنس کے میدان میں کارنامے انجام دینا ہوں گے تا کہ وہ ہر کسی کی ضرورت بن جائیں۔ یہودی یہ بات جانگے کہ جب تک دنیا کو آپ کا کوئی ضرورت نہ ہو تو وہ آپ کو اپنی مقاصد کیلئے قربانی کا بکرا بناتا جائےگا۔ اور جب تک آپ طاقتور نہیں ہونگے آپ کی آواز میں بھی اسحتکام اور بلندی پیدا نہیں ہوگی اور پھر آپ دنیا کے کسی بھی حالات یا معاملات میں کوئی بھی کردار ادا نہیں کرسکتے ہے ۔ یہودیوں نے یہ بات درک کردی اور دنیا کے جس بھی کونے میں رہے لیکن ہمیشہ دنیا پر حکومت اور ظلم و جبر سے نجات حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کرتے رہے۔۔۔
اقوام کی تقدیر افراد کے ہاتھوں میں ہیں۔ اور قیمتی افراد قوم کے ادارے ہی بناتے ہے ۔ اسی کے پیش نظر ایک جرمن یہودی موسی ہپٹس 1875-1812 نے صیہونیت کا علم بلند کردیا۔ چنانچہ مختلف ممالک میں آباد زندگی کے مختلف شعبوں میں مصروف یہودیوں نے مرحلہ وار پروگراموں کے تحت فلسطین کا رخ کردیا ۔ ہماری قوم میں بھی ہر طرح کے افراد پائے جاتے ہے یعنی مختلف شعبہ ہائی زندگی سے تعلق رکھتے ہے اگر انہیں ایک سمت اور ایک نظام اور مقصد دیا جائے تو یہ منتشر طاقت متحدہوکر اس قوم کو غلامی و جاہلیت کے اندھیرے سے نکال سکتا ہے۔ اور یہ یہودیوں کا طویل المعیاد منصوبہ تھا۔ کیا ہمارے پاس بھی کوئی طویل المعیاد منصوبہ ہے اس ظلم و جبر سے نکلنے کا۔ ؟؟؟ یہودیوں کی کامیابی کا راز یہ تھا کہ انہوں نے صیہونیت کو قومی اور مذہبی نصب العین قراد دیا تھا۔ ۔۔
ہمیں بھی ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جیسے ہم قومی و مذہبی طور پر اپنا نصب العین قرار دے سکے ۔۔
خواجہ کمیونٹی سسٹم، میمن کمیونٹی سسٹم اور آغا خان کمیونٹی سسٹم اس کی بہترین مثالیں ہیں۔
جان محمد انصاری

ہفتہ، 4 اپریل، 2020

چیف سیکرٹری صائب!


آپ ہزارہ قوم کو مری آباد اور ہزارہ ٹاون میں قید کرکے یہ کوشش کررہے ہے کہ اس قوم میں غیرت بیدار ہوجائے تو یہ ناممکن ہے ۔ جو قوم پچھلے 200 سالوں سے بیدار نہیں ہوئے جن کی قتل عام نے بھی انہیں متحد نہ کرسکا۔ آپ انہیں کیوں احساس دینا چاہتے ہے کہ یہ لوگ انسان نہیں ہے۔ آپس کی رنجشوں نے اس قوم کو یہ سب چیزیں تحفے میں دی ہے۔۔۔
دنیا میں جو اقوام اپنے وقت کے موسی اور سامری میں فرق نہیں کرسکتے وہ اقوام دنیا میں ہزارہ قوم کی طرح زندگی گزارتے ہے۔
جان محمد انصاری

جمعہ، 3 اپریل، 2020

دنیا کا مظلوم ترین قوم!

پرانے زمانے میں غلاموں کو جیل نما کالونیوں میں رکھا جاتا تھا۔ جہاں انہیں کسی بھی قسم کی انسانی حقوق حاصل نہیں تھا۔ ان سے صرف اپنی مفادات تک کی حدتک لگاو رکھا جاتا تھا۔ ان کے بستیوں کے باہر آنے جانے پر پابندی ہوتا تھا۔ وہ صرف محافظوں کے اجازت سے باہر اور اندر جاسکتے تھے۔ ٹھیک اسلام کے قلعے میں ہزارہ قوم کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جارہا ہیں۔ انہیں بھی غلاموں کی طرح شہر کے کناروں میں ان کے اپنے علاقوں میں قید کردیاگیا ہے ۔ جہاں انہیں صرف زندہ رہنے کیلئے سہولیات زندگی دیا جاتا ہے۔
اس طرح پاکستان کو دنیا میں سب سے بڑا جیل رکھنے کا اعزاز حاصل ہیں۔
1۔ سینٹرل جیل مری آباد۔
2۔ سینٹرل جیل ہزارہ ٹاون ۔
یہ دونوں جیل بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں واقع ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ان جیلوں میں قیدیوں کی تعداد 6 لاکھ سے 9 لاکھ کے درمیان تک ہے۔
حکومت وقت کو سب سے زیادہ جزیہ انہی جیلوں سے حاصل ہوتا ہے۔ ان قیدیوں کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ یہ اپنی نوعیت کے واحد قیدی ہے جو اپنی زندگی پر رضامند ہے اور انہیں کسی بھی قسم کی حقوق حاصل کرنے کے شوق نہیں۔ شاہ کی فرمابرداری میں یہ لوگ شاہ کو بھی پیچھے چھوڈتے ہے۔ یہ قیدی آپس میں تو کافی ظالم ہے مگر جیلر کے ساتھ ان کا رویہ انتہائی شائستہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے شاید انہیں جلد دنیا میں سب سے بہترین قیدی ہونے کا اعزاز حاصل ہو۔ ان کے نسلیں یہی پیدا ہوتے ہے اور پھر یہی مرجاتے ہے۔ جیل کی آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے حکومت وقت کبھی کبھار نسل کش مہم کا اعلان بھی کرتے رہتے ہے۔ ان کے نوجوانوں میں کسی بھی قسم کی قید و تعصب کے متعلق بیداری اور جدوجہد نظر نہیں آتے۔ دنیا کے سب سے شریف قیدی انہیں جیلوں میں رہتے ہے۔
جان محمد انصاری

ہزارہ قوم کے ساتھ قادیانیوں جیسا سلوک!!!


آج ہزارہ قوم پاکستان میں رہنے والے دوسرے اقلیتوں کے مقابلے میں بدترین زندگی گزاررہے ہیں۔ آئین پاکستان کے تحت گستاخ رسول (ص) اور کافر قرار دینے کے بعد جن حالات کا قادیانیوں کو سامنا تھا آج وہی حالات ہزارہ قوم کو سامنا ہے۔ پاکستان آبادی کے لحاظ سے 97 فیصد مسلم اور 3 فیصد غیر مسلم آبادی پر مشتمل ہے۔ گوگل ویکی پیڈیا کے مطابق پاکستان میں قادیانیوں کی آبادی 4 ملین ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ریاست پاکستان میں ان کے جان، مال، اولاد اور کاروبار محفوظ نہیں تھے بلکہ آئیے روز انہیں مختلف گلی چوراہوں پر کھلے عام قتل کردیے جاتے تھے۔ جس طرح ہزارہ قوم کا بھی اسی طرح قتل عام کیا جارہا ہے۔ پاکستان کے اندر اگر کسی کو معلوم ہوجائے کہ یہ بندہ قادیانی کمیونٹی سے تعلق رکھتا ہے تو اس سے سلام و دعا ترک کردیاجاتا تھا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ان کے اوپر ہر قسم کی پابندیاں لگائی گئی تھی۔ جس طرح ہمارے اوپر بھی ہر قسم کی سیاسی فارمولے تجربہ کئے جاتے ہے۔ جس طرح لوگ ان سے کاروباری، سماجی و معاشرتی روابط رکھنے سے اجتناب کرتے تھے اور ہر جگہ ان کے جان و مال کے درپے ہوتے تھے۔ ٹھیک ہزارہ قوم کو بھی یہی حالات کا سامنا ہے۔ قادنیوں کو کسی بھی قسم کا سیاسی آزادی حاصل نہیں تھا اور نہ ہی ان کے پاس کوئی سیاسی جماعت موجود ہے۔ وہ اپنی شناخت چھپاتے پھرتے تھے اپنی جان کی امان کی خاطر ہم بھی اپنی پہچان اکثر چھپاتے نظر آتے ہے تا کہ اگر کسی علم ہوجائے تو ہماری زندگیاں خطرے میں پڑھ سکتا ہے۔ پھر انہوں نے اپنا تقدیر بدل ڈالا آج یہ کمیونٹی اتنا طاقتور ہے کہ اس کا انداز قومی اسمبلی کے حلف بیان میں ختم نبوت کے حروف کو پاک کرنے سے لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اپنی ضرورت زندگی کو پورہ کرنے کیلئے اپنا ایک خود کفیل کمیونٹی سسٹم بنایاہے۔ جو پاکستان اور دنیا بھرکے قادیانیوں کی تعلیم، صحت، روزگار ،کاروبار ، مذہبی تعلیمات نیز ضروریات زندگی کے ہر سہولیات مہیا کرتے ہے۔ انہیں پاکستان کی 97 فیصد مسلمانوں کی ضرورت ہی نہیں کہ وہ آکے ان کو تعلیم، صحت، کاروبار، نوکریاں دے بلکہ وہ ایک خودمختار ریاست کے اندر رہتے ہوئے ایک ریاستی ڈھانچہ بنائے ہوئے ہے۔ پاکستان کی رہاستی ادارے اور مسلم آبادی خود ان کے محتاج ہوچکے ہے۔ واگر نہ انہیں اب تک نسل و نابود کرچکے ہوتے۔ آج ریاست پاکستان اپنی مفادات کی خاطر انہیں تحفظ دینے پر مجبور ہے۔
ہزارہ قوم کو بھی اپنے لئے ایک ایسے کمیونٹی نظام کی تشکیل کرنا چاہئے جو اس قوم کی دنیاوئی و اوخری ضروریات کو پورہ کرسکے۔ اس طرح کی ایک نظام میں ہزارہ قوم ایک خودمختار اور خود کفیل قوم ہوگا۔ اس وقت ہمیں کوئی بھی نہیں مارسکتا ہے ۔ ریاست پاکستان اپنی مفادات کو بچانے کی خاطر جس طرح آج قادیانیوں کو تحفظ دیتے نظر آتے ہے ٹھیک اسی طرح وہ ہمیں بھی اپنی مفادات کو بچانے کی خاطر تحفظ دینے کو اپنا اعزاز سمجھے ینگے۔۔۔ اسی طرح کے ایک نظام میں ہی ہماری بقاء کا راز پوشیدہ ہے۔ ہم نے پچھلے 70 سالوں سے جمہوریت کے ساتھ انتخابات میں حصہ لیتے رہے اور اپنی قسمت آزماتے رہے لیکن سوائے گریہ و زاری ہماری مقدر میں کچھ بھی نہیں آیا ۔۔۔۔۔
اس نسل کو صرف نسل کشی، تعصب اور محرومیوں کا تحفہ ملا۔۔۔۔
جان محمد انصاری

خیانت اور خیانت کاروں کا یہ سلسلہ آخر کب تک ؟

خیانت اور خیانت کاروں کا یہ سلسلہ آخر کب تک ؟ تاریخ کے اوراق اس بات کی گواہ ہے کہ تحریکوں اور غلام قوموں کے درمیان ہمیشہ سے غدار پیدا ہوئے ہ...