آپ ہزارہ قوم کو مری آباد اور ہزارہ ٹاون میں قید کرکے یہ کوشش کررہے ہے کہ اس قوم میں غیرت بیدار ہوجائے تو یہ ناممکن ہے ۔ جو قوم پچھلے 200 سالوں سے بیدار نہیں ہوئے جن کی قتل عام نے بھی انہیں متحد نہ کرسکا۔ آپ انہیں کیوں احساس دینا چاہتے ہے کہ یہ لوگ انسان نہیں ہے۔ آپس کی رنجشوں نے اس قوم کو یہ سب چیزیں تحفے میں دی ہے۔۔۔
دنیا میں جو اقوام اپنے وقت کے موسی اور سامری میں فرق نہیں کرسکتے وہ اقوام دنیا میں ہزارہ قوم کی طرح زندگی گزارتے ہے۔
جان محمد انصاری

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں