جمعہ، 3 اپریل، 2020

دنیا کا مظلوم ترین قوم!

پرانے زمانے میں غلاموں کو جیل نما کالونیوں میں رکھا جاتا تھا۔ جہاں انہیں کسی بھی قسم کی انسانی حقوق حاصل نہیں تھا۔ ان سے صرف اپنی مفادات تک کی حدتک لگاو رکھا جاتا تھا۔ ان کے بستیوں کے باہر آنے جانے پر پابندی ہوتا تھا۔ وہ صرف محافظوں کے اجازت سے باہر اور اندر جاسکتے تھے۔ ٹھیک اسلام کے قلعے میں ہزارہ قوم کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جارہا ہیں۔ انہیں بھی غلاموں کی طرح شہر کے کناروں میں ان کے اپنے علاقوں میں قید کردیاگیا ہے ۔ جہاں انہیں صرف زندہ رہنے کیلئے سہولیات زندگی دیا جاتا ہے۔
اس طرح پاکستان کو دنیا میں سب سے بڑا جیل رکھنے کا اعزاز حاصل ہیں۔
1۔ سینٹرل جیل مری آباد۔
2۔ سینٹرل جیل ہزارہ ٹاون ۔
یہ دونوں جیل بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں واقع ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ان جیلوں میں قیدیوں کی تعداد 6 لاکھ سے 9 لاکھ کے درمیان تک ہے۔
حکومت وقت کو سب سے زیادہ جزیہ انہی جیلوں سے حاصل ہوتا ہے۔ ان قیدیوں کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ یہ اپنی نوعیت کے واحد قیدی ہے جو اپنی زندگی پر رضامند ہے اور انہیں کسی بھی قسم کی حقوق حاصل کرنے کے شوق نہیں۔ شاہ کی فرمابرداری میں یہ لوگ شاہ کو بھی پیچھے چھوڈتے ہے۔ یہ قیدی آپس میں تو کافی ظالم ہے مگر جیلر کے ساتھ ان کا رویہ انتہائی شائستہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے شاید انہیں جلد دنیا میں سب سے بہترین قیدی ہونے کا اعزاز حاصل ہو۔ ان کے نسلیں یہی پیدا ہوتے ہے اور پھر یہی مرجاتے ہے۔ جیل کی آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے حکومت وقت کبھی کبھار نسل کش مہم کا اعلان بھی کرتے رہتے ہے۔ ان کے نوجوانوں میں کسی بھی قسم کی قید و تعصب کے متعلق بیداری اور جدوجہد نظر نہیں آتے۔ دنیا کے سب سے شریف قیدی انہیں جیلوں میں رہتے ہے۔
جان محمد انصاری

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیانت اور خیانت کاروں کا یہ سلسلہ آخر کب تک ؟

خیانت اور خیانت کاروں کا یہ سلسلہ آخر کب تک ؟ تاریخ کے اوراق اس بات کی گواہ ہے کہ تحریکوں اور غلام قوموں کے درمیان ہمیشہ سے غدار پیدا ہوئے ہ...