قران پاک میں ارشاد باری تعائی ہے ۔ کہ اللہ تعائی نے یہود قوم کو دیگر اقوام پر فضیلت دینے کا وعدہ اس شرط پر کیا تھا کہ وہ اس کے ساتھ اپنی جانوں کا سودا کریں۔ یعنی اس کی اطاعت اور خوشنودی حاصل کرنے کیلئے اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کردینے کے لئے تیار رہیں۔ لیکن قوم نے یہود نے اپنی جانوں کے سودے کی شق کو فراموش کردیا صرف فضیلت دئے جانے کا وعدہ یاد رکھا۔ اور اس فضیلت والے ذہین کے ساتھ عقیدہ بنالیا کہ یہود اور صرف یہود ہی خدا کے برگزیدہ بندے ہیں۔
باقی تمام انسانیت ان کے آگے ہیچ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بلکل اسی طرح آج جس زوال کا شکار ملت مسلمہ ہے اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ اللہ تعائی کے فروموداد اور رسول اکرم (ص) کے افعال و اعمال پر عملدرآمد کرنے اور اپنی انفرادی و اجتماعی فرائض سرانجام دینے کے بجائے صرف امت محمد (ص) خود کو کہنے پر محدود کررکاہیں۔ خدواند کریم نے دنیا میں کچھ اصول و قوانین تشکیل دی ہے جس کی روح پر جو کوئی بھی عملدرآمد کرئےگا۔ وہ کامیابی اور کامرانی کی آخری منزل تک پہچ جائےگا۔ اس میں کوئی ذات پات، مذاہب، قومیت اور دوسرے عوامل کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ یہودیوں نے اللہ تعائی سے اپنے لئے مسیح کی نزول کی التجاء کرتے رہے اور جب وہ آگیا تو اسے ماننے سے انکار کردئے۔ آج ہم بھی اپنے امام وقت یوسف زہرا ( علیہ السلام ) کی ظہور کیلئے رب کی بارگاہ میں التجاء تو کرتے ہے لیکن اگر وہ آگے تو کیا ہم اسے ماننے کو تیار ہونگے؟؟؟؟۔ اس بات کا اندازہ ہمارے اور آپ کے اعمال و افعال سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہیں۔
امام زمانہ ( علیہ السلام ) کے متعلق ہماری ذہنیت کچھ اس طرح ہے۔
ہم لوگوں نے امام کو اپنے لئے کچھ اس طرح کا رہبر بنایا ہوا ہے کہ وہ آکے ہماری تمام مسائل خود حل کرئےگا بس ہمیں اور آپ کو کچھ بھی نہیں کرنا ہوگا۔
یہودی بھی انبیاء کرام(علیہ السلام ) کے متعلق ٹھیک اسی طرح کے ذہنیت رکھتے تھے۔
ایک دفعہ ایک صحابی نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا یا مولا
آپ کا جحت بزرگ وار امام حسین علیہ السلام نے تو قیام فرمایا ۔ آپ (ع) کیوں قیام نہیں فرماتے ! اب تو آپ (ع) کے پاس لاکھوں کے حساب سے پیروکار اور ہزاروں کے تعداد میں شاگرد ہیں۔
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہے کہ اگر میرے پاس میرے نانا کی طرح چند ایسے صحابی ہوتے تو میں خدا کی قسم اب تک قیام کرچکا ہوتا۔
یہ جمع غفیر مجھے اپنا امام تو مانتے ہیں لیکن میری رہبری کوتسلیم نہیں کرتے یہ مجھے صرف استاد،فقہ، عالم دین، دانشوار ہی سمجھتے ہیں رہبر نہیں۔
آج امام زمانہ (ع) کیوں ظہور نہیں کرتے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے امام (علیہ السلام ) کواپنا رہبر اور نمونہ نہیں قرار دیا ہیں۔ ہماری انفرادی و اجتماعی زندگی کے کون سے ایسے اصول و قوانین ہے جو امام (ع) کے قول و فعل کے تحت ہیں۔
ہم لوگوں نے امام (ع) کو صرف اللہ رب عزت کی بارگاہ میں اپنی حاجات مانگتے ہوئے وسیلہ اختیار کرنے کی حد تک پہچانتے ہیں۔
یا اللہ ہمیں امام زمانہ (ع) کی معرفت عطا فرماء۔۔۔
جشن ولادت با سعادت امام زمان (علیہ اسلام) تمام دوستوں کو مبارک باد ہو۔۔۔
جان محمد انصاری
باقی تمام انسانیت ان کے آگے ہیچ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بلکل اسی طرح آج جس زوال کا شکار ملت مسلمہ ہے اس کی بھی یہی وجہ ہے کہ اللہ تعائی کے فروموداد اور رسول اکرم (ص) کے افعال و اعمال پر عملدرآمد کرنے اور اپنی انفرادی و اجتماعی فرائض سرانجام دینے کے بجائے صرف امت محمد (ص) خود کو کہنے پر محدود کررکاہیں۔ خدواند کریم نے دنیا میں کچھ اصول و قوانین تشکیل دی ہے جس کی روح پر جو کوئی بھی عملدرآمد کرئےگا۔ وہ کامیابی اور کامرانی کی آخری منزل تک پہچ جائےگا۔ اس میں کوئی ذات پات، مذاہب، قومیت اور دوسرے عوامل کا کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ یہودیوں نے اللہ تعائی سے اپنے لئے مسیح کی نزول کی التجاء کرتے رہے اور جب وہ آگیا تو اسے ماننے سے انکار کردئے۔ آج ہم بھی اپنے امام وقت یوسف زہرا ( علیہ السلام ) کی ظہور کیلئے رب کی بارگاہ میں التجاء تو کرتے ہے لیکن اگر وہ آگے تو کیا ہم اسے ماننے کو تیار ہونگے؟؟؟؟۔ اس بات کا اندازہ ہمارے اور آپ کے اعمال و افعال سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہیں۔
امام زمانہ ( علیہ السلام ) کے متعلق ہماری ذہنیت کچھ اس طرح ہے۔
ہم لوگوں نے امام کو اپنے لئے کچھ اس طرح کا رہبر بنایا ہوا ہے کہ وہ آکے ہماری تمام مسائل خود حل کرئےگا بس ہمیں اور آپ کو کچھ بھی نہیں کرنا ہوگا۔
یہودی بھی انبیاء کرام(علیہ السلام ) کے متعلق ٹھیک اسی طرح کے ذہنیت رکھتے تھے۔
ایک دفعہ ایک صحابی نے امام جعفر صادق علیہ السلام سے عرض کیا یا مولا
آپ کا جحت بزرگ وار امام حسین علیہ السلام نے تو قیام فرمایا ۔ آپ (ع) کیوں قیام نہیں فرماتے ! اب تو آپ (ع) کے پاس لاکھوں کے حساب سے پیروکار اور ہزاروں کے تعداد میں شاگرد ہیں۔
امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہے کہ اگر میرے پاس میرے نانا کی طرح چند ایسے صحابی ہوتے تو میں خدا کی قسم اب تک قیام کرچکا ہوتا۔
یہ جمع غفیر مجھے اپنا امام تو مانتے ہیں لیکن میری رہبری کوتسلیم نہیں کرتے یہ مجھے صرف استاد،فقہ، عالم دین، دانشوار ہی سمجھتے ہیں رہبر نہیں۔
آج امام زمانہ (ع) کیوں ظہور نہیں کرتے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے امام (علیہ السلام ) کواپنا رہبر اور نمونہ نہیں قرار دیا ہیں۔ ہماری انفرادی و اجتماعی زندگی کے کون سے ایسے اصول و قوانین ہے جو امام (ع) کے قول و فعل کے تحت ہیں۔
ہم لوگوں نے امام (ع) کو صرف اللہ رب عزت کی بارگاہ میں اپنی حاجات مانگتے ہوئے وسیلہ اختیار کرنے کی حد تک پہچانتے ہیں۔
یا اللہ ہمیں امام زمانہ (ع) کی معرفت عطا فرماء۔۔۔
جشن ولادت با سعادت امام زمان (علیہ اسلام) تمام دوستوں کو مبارک باد ہو۔۔۔
جان محمد انصاری

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں