ہفتہ، 11 اپریل، 2020

ہمارے تعلیمی ادارے اور منشیات!!




کسی بھی معاشرے کی تباہی اور بربادی کے پیچھے سب سے بڑا ہاتھ منشیات کا ہوتا ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ آج کل ہمارے تعلیم یافتہ نوجوان اس لعنت میں مبتلا ہوتے جارہے ہیں۔ اس کی روک تھام کیلئے باقاعدہ وفاقی اینٹی نارکوٹکس فورس کے نام سے بھی ایک ادارہ موجود ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑھتا ہے کہ وہ بھی یاتو منشیات سمگلروں کے ہاتھوں بے بس ہے یا پھر دال میں کچھ کالا ہے ۔ ماہرین کے مطابق منشیات کے لعنت میں مبتلا روزانہ نشے کے عادی افراد تقریبا 700 افراد اپنے ہاتھوں اپنی زندگی ختم کررہے ہیں۔ 2019 کی ورلڈ ڈرگ رپورٹ کے مطابق دنیا کے تقریبا 35 ملین افراد منشیات کو مختلیف طریقوں سے استمعال کرتے ہیں۔ جن کی عمر 12 سے 64 سال تک کی ہیں ۔ خطرے کی بات تو یہ ہے کہ اب یہ لعنت اب ہمارے تعلیمی اداروں کے پھیل چکا ہے ۔ جس سے معصوم طلباء و طلبات کی صحت اور زندگی پر مضر اثرات پڑرہے ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ لوگ تعلیم پر بھی بھرپور توجہ دینے سے قاصر رہتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق ہمارے اسکولوں اور کالجوں اور یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی مراکز پر ہر دس میں سے ایک طالب علم منشیات کا عادی ہے اور تیزی سے اس کی اعدادوشمار میں اضافہ ہوتا جارہاہیں۔ جو واقعی ہمارے لئے قابل تشویش بات ہے۔ نوجوان نسل دن بدن اس لعنت کی جانب راغب ہورہے ہیں۔ یقین اس کے پیچھے کچھ لوگوں کا خاص ہاتھ شامل ہے جو چند رقم کمانے کی غرض سے قوم کے جوانوں کے سر سے کھیل رہے ہیں۔ اس لعنت کا اندازہ آپ ہزارہ ٹاون کے گلی کوچوں میں دیکھ سکتے ہے جہاں چھوٹے چھوٹے لڑکے سیگریٹ و نسوار پیتے نظر آتے ہے ۔
سیگریٹ کے ایک کش سے شروع ہوا یہ فعل بالا آخر ہیروئن ، اور دوسرے سگین اور نشے کے مواد پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ ہمارا معاشرہ کس قدر اس لعنت میں جل رہا ہے اس کا اندازہ آپ آئے روز معاشرے میں اہسپتال برائے انسداد منشیات کے ناموں سے اداروں کا افتتاح دیکھتے آرہے ہیں۔
معاشرے کو اس لعنت سے نجات دینے کیلئے والدین ، اساتذہ ،علماءکرام ،سیاسی اکابرین، سماجی تنظیمیں،سول سوسائٹی کے اراکین، اور ہر ذی شعور انسان کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
جان محمد انصاری

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیانت اور خیانت کاروں کا یہ سلسلہ آخر کب تک ؟

خیانت اور خیانت کاروں کا یہ سلسلہ آخر کب تک ؟ تاریخ کے اوراق اس بات کی گواہ ہے کہ تحریکوں اور غلام قوموں کے درمیان ہمیشہ سے غدار پیدا ہوئے ہ...