حقیقی رہنما کیسے ہوتے ہیں۔
انیسویں صدی کے شروع میں جہاں مغرب صنعتی انقلاب کے بعد شاہراہیں ترقی پر سفر کررہے تھے اور دنیا کے بیشتر ممالک کو اپنی کالونی بناچکے تھے ۔ وہی چین ایک پسماندہ اور غربت زدہ ملک تھا۔ ملک بھر میں منشیات ، جسم فروشی اور جوئے جیسی لعنتوں کا عروج تھا۔ وہی بے روزگاری عام تھی ، چوری چکاری اور ڈاکہ زنی کا زور تھا۔
جس طرح آج ہمارا معاشرہ ان لعنتوں میں مبتلا ہیں۔ بہر حال ہمارے ہاں جوئے سے زیادہ سود لینے کا رواج عام ہے، جہاں تک بات چوری چکاری، اور ڈاکہ زنی کا تعلق ہے اس کا شرح ہمارے معاشرےمیں بہ نسبت دوسرے سوسائٹس کے کم ہیں۔ لیکن آج کل سر آٹھارہے ہیں۔ چینی عوام کی اکثریت جاہل تھی- لوگ ریاضیات اور ساینسی علوم سے بے بہرہ تھے۔ ادب اور فلسفے کا کوئی وجود تک نہ تھا ۔ گویا چین ظلمت کے بحر میں غرق تھا۔
ٹھیک اسی طرح ہمارے ہاں بھی اکثریت معاشرتی معاملات میں شعور نہیں رکھتے۔ بلکہ تعلیمی لحاظ سے بھی تاریکی میں زندگی بسر کررہے ہیں۔
میرے خیال میں تعلیم یافتہ ہونے کا معیار صرف تعلیمی اداروں سے سند لینے کا نہیں بلکہ تعلیم سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے انفرادی و اجتماعی زندگیوں کو اسان اور سہولہت بخش بنانا ہیں۔ اور معاشرے کے اندر بحرانوں اور مسائل کا راہ حل نکلنے کے فنکار کو میں تعلیم یافتہ کہتا ہوں اگر اس روح سے دیکھا جائے تو ہم ابھی تک پتھر کے زمانے میں زندگی بسر کررہے ہیں۔
بقول اقبال؛-
جس کھیت سے میسر نہ ہو دھقان کو روٹی
اس کھیت کے ہر خوشائیں گندم کو جلادوں۔
خودغرضی جیسی خطرناک نفسیاتی بیماری جو کروناوائرس سے بھی خطرناک ہے جو سماج کو آندر ہی اندر سے کھا جاتا ہے ایسے صفات رزیلہ یہاں ہر بچے کو گھر کےاندر سے ہی سیکھائی جاتی ہیں۔ لوگوں اخلاقیات اور سماجی زندگی کے گور نہیں جانتے۔ اخلاقیات کا تعلق بلاواسطہ طور پر معاشیات سے ہے جب یہاں معاشیات نام کا منصوبہ بندی ہی موجود نہ ہوں قومی یا معاشرتی سطح پر تو ان سے مزید کیا توقع کیا جائے۔ پھر چین کی عوام کو اللہ نے ایک محسن عطا کیا۔
اللہ کا محسن بھی کوئی کام نہیں کرسکتا ہے جب تک اللہ کے بندے اس محسن کا ساتھ نہ دے ۔ امامت کا نظام اس کا واضح مثال ہیں۔
چین کے عوام نے اشرافیہ کو چھوڈ کر حقیقی قیادت کے پرچم تلے جمع ہوئے۔
اس محسن کا نام تھا مازوئے تنگ۔ جس نے چینی قوم کا مقدار بدل کے رکھ دیا ۔ آج چین دنیا کی سب بڑی معاشی طاقت ہیں۔ آج جب چین دنیا سے مقابلہ کررہا ہیں اس کے پیچھے صرف اور صرف ایک شخصیت کی قربانیوں کا کردار شامل ہے۔ وہ ماوزے تنگ کی قربانی ہیں۔
عوامی و حقیقی لیڈران ہمیشہ قربانی دیتے ہے اور ان کی قربانیوں سے ہی ملت سر بلند ہوتے ہے۔ آج بے چارے مظلوم اور پسماندہ اور قتل عام کا شکار ہزارہ قوم کو بھی ایک مازوے تنگ جیسے قیادت کی ضرورت ہیں۔
ہمارے آبادی کوئٹہ شہر کے اندر 7 سے 10 لاکھ کے قریب ہے ۔ جس کے مسائل حل کرنے کیلئے صرف اور صرف ایک رہبر اور ایک نظام کی ضرورت ہے آپ بغیر حکومتی تعاون کے بھی اپنے مسائل حل کرسکتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے لیڈران لفظ لیڈران اس لئے استعمال کرتا ہوں کہ ہزارہ قوم میں ہر دوسرا بندہ لیڈر ہونے کا دعوے دار ہے اور کہتا بھی نہیں کہ قوم کو کس طرح بچایا جائے۔
کہنے کا مقصد یہ تھا کہ کیا ہمارے موجودہ لیڈران مازوئے تنگ جیسے اپنے قوم کیلئے قربانی دے سکتےہیں؟؟ کیا ان کی طرح اپنے قوم کو دنیا کی بہترئن قوم بنانے کیلئے کوئی منصوبہ بندی رکھتا ہے ،؟ اجتماعی دھرونوں، پریس کلبوں ، اور اخباری بیانات کے علاوہ کیا ان کے پاس کوئی اور راہ حل ہیں۔؟؟ مازوئے تنگ نے اپنے قوم کی مفادات کی خاطر اپنے بیوی ، بھائیوں اور بیٹوں کی قربانی دی۔ کیا ہمارے قومی و مذہبی لیڈران یہ قربانی دے سکتے ہیں۔ ؟؟؟
ہزگز نہیں دے سکتے کیونکہ یہ لیڈر نہیں سیاست دان ہے جن کی سوچ صرف اور صرف انتخابات اور حلقہ بندیوں کی حد تک محدود ہیں۔ ان کی ساری جدوجہد صوبائی یا وفاقی سیٹ کی حصول تک ہے تو محدود ہوتے ہیں ۔
اس قوم کو مازوئے تنگ جیسے رہنما کی ضرورت ہے جو اس قوم کو ادارے دے۔
اس قوم میں اقدار پیدا کرئے ۔ ان کے مسائل کے متعلق بیانات نہیں نظام رکھتے ہوں۔ جس کی بہترین شکل کمیونٹی نظام کی طرح کوئی نظام ہوسکتا ہیں۔ ۔۔۔
جان محمد انصاری
انیسویں صدی کے شروع میں جہاں مغرب صنعتی انقلاب کے بعد شاہراہیں ترقی پر سفر کررہے تھے اور دنیا کے بیشتر ممالک کو اپنی کالونی بناچکے تھے ۔ وہی چین ایک پسماندہ اور غربت زدہ ملک تھا۔ ملک بھر میں منشیات ، جسم فروشی اور جوئے جیسی لعنتوں کا عروج تھا۔ وہی بے روزگاری عام تھی ، چوری چکاری اور ڈاکہ زنی کا زور تھا۔
جس طرح آج ہمارا معاشرہ ان لعنتوں میں مبتلا ہیں۔ بہر حال ہمارے ہاں جوئے سے زیادہ سود لینے کا رواج عام ہے، جہاں تک بات چوری چکاری، اور ڈاکہ زنی کا تعلق ہے اس کا شرح ہمارے معاشرےمیں بہ نسبت دوسرے سوسائٹس کے کم ہیں۔ لیکن آج کل سر آٹھارہے ہیں۔ چینی عوام کی اکثریت جاہل تھی- لوگ ریاضیات اور ساینسی علوم سے بے بہرہ تھے۔ ادب اور فلسفے کا کوئی وجود تک نہ تھا ۔ گویا چین ظلمت کے بحر میں غرق تھا۔
ٹھیک اسی طرح ہمارے ہاں بھی اکثریت معاشرتی معاملات میں شعور نہیں رکھتے۔ بلکہ تعلیمی لحاظ سے بھی تاریکی میں زندگی بسر کررہے ہیں۔
میرے خیال میں تعلیم یافتہ ہونے کا معیار صرف تعلیمی اداروں سے سند لینے کا نہیں بلکہ تعلیم سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے انفرادی و اجتماعی زندگیوں کو اسان اور سہولہت بخش بنانا ہیں۔ اور معاشرے کے اندر بحرانوں اور مسائل کا راہ حل نکلنے کے فنکار کو میں تعلیم یافتہ کہتا ہوں اگر اس روح سے دیکھا جائے تو ہم ابھی تک پتھر کے زمانے میں زندگی بسر کررہے ہیں۔
بقول اقبال؛-
جس کھیت سے میسر نہ ہو دھقان کو روٹی
اس کھیت کے ہر خوشائیں گندم کو جلادوں۔
خودغرضی جیسی خطرناک نفسیاتی بیماری جو کروناوائرس سے بھی خطرناک ہے جو سماج کو آندر ہی اندر سے کھا جاتا ہے ایسے صفات رزیلہ یہاں ہر بچے کو گھر کےاندر سے ہی سیکھائی جاتی ہیں۔ لوگوں اخلاقیات اور سماجی زندگی کے گور نہیں جانتے۔ اخلاقیات کا تعلق بلاواسطہ طور پر معاشیات سے ہے جب یہاں معاشیات نام کا منصوبہ بندی ہی موجود نہ ہوں قومی یا معاشرتی سطح پر تو ان سے مزید کیا توقع کیا جائے۔ پھر چین کی عوام کو اللہ نے ایک محسن عطا کیا۔
اللہ کا محسن بھی کوئی کام نہیں کرسکتا ہے جب تک اللہ کے بندے اس محسن کا ساتھ نہ دے ۔ امامت کا نظام اس کا واضح مثال ہیں۔
چین کے عوام نے اشرافیہ کو چھوڈ کر حقیقی قیادت کے پرچم تلے جمع ہوئے۔
اس محسن کا نام تھا مازوئے تنگ۔ جس نے چینی قوم کا مقدار بدل کے رکھ دیا ۔ آج چین دنیا کی سب بڑی معاشی طاقت ہیں۔ آج جب چین دنیا سے مقابلہ کررہا ہیں اس کے پیچھے صرف اور صرف ایک شخصیت کی قربانیوں کا کردار شامل ہے۔ وہ ماوزے تنگ کی قربانی ہیں۔
عوامی و حقیقی لیڈران ہمیشہ قربانی دیتے ہے اور ان کی قربانیوں سے ہی ملت سر بلند ہوتے ہے۔ آج بے چارے مظلوم اور پسماندہ اور قتل عام کا شکار ہزارہ قوم کو بھی ایک مازوے تنگ جیسے قیادت کی ضرورت ہیں۔
ہمارے آبادی کوئٹہ شہر کے اندر 7 سے 10 لاکھ کے قریب ہے ۔ جس کے مسائل حل کرنے کیلئے صرف اور صرف ایک رہبر اور ایک نظام کی ضرورت ہے آپ بغیر حکومتی تعاون کے بھی اپنے مسائل حل کرسکتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے لیڈران لفظ لیڈران اس لئے استعمال کرتا ہوں کہ ہزارہ قوم میں ہر دوسرا بندہ لیڈر ہونے کا دعوے دار ہے اور کہتا بھی نہیں کہ قوم کو کس طرح بچایا جائے۔
کہنے کا مقصد یہ تھا کہ کیا ہمارے موجودہ لیڈران مازوئے تنگ جیسے اپنے قوم کیلئے قربانی دے سکتےہیں؟؟ کیا ان کی طرح اپنے قوم کو دنیا کی بہترئن قوم بنانے کیلئے کوئی منصوبہ بندی رکھتا ہے ،؟ اجتماعی دھرونوں، پریس کلبوں ، اور اخباری بیانات کے علاوہ کیا ان کے پاس کوئی اور راہ حل ہیں۔؟؟ مازوئے تنگ نے اپنے قوم کی مفادات کی خاطر اپنے بیوی ، بھائیوں اور بیٹوں کی قربانی دی۔ کیا ہمارے قومی و مذہبی لیڈران یہ قربانی دے سکتے ہیں۔ ؟؟؟
ہزگز نہیں دے سکتے کیونکہ یہ لیڈر نہیں سیاست دان ہے جن کی سوچ صرف اور صرف انتخابات اور حلقہ بندیوں کی حد تک محدود ہیں۔ ان کی ساری جدوجہد صوبائی یا وفاقی سیٹ کی حصول تک ہے تو محدود ہوتے ہیں ۔
اس قوم کو مازوئے تنگ جیسے رہنما کی ضرورت ہے جو اس قوم کو ادارے دے۔
اس قوم میں اقدار پیدا کرئے ۔ ان کے مسائل کے متعلق بیانات نہیں نظام رکھتے ہوں۔ جس کی بہترین شکل کمیونٹی نظام کی طرح کوئی نظام ہوسکتا ہیں۔ ۔۔۔
جان محمد انصاری

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں