جمعہ، 17 اپریل، 2020

صرف قدرتی وسائل کافی نہیں !!!


صرف قدرتی وسائل کسی بھی قوم کو نجات نہیں دے سکتا مگر !
رقبے کے لحاظ سے بلوچستان کو سب سے بڑا صوبہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ قدرتی وسائل سے مالامال اور 760 کلومیٹر طویل ساحلی پٹی ہونے کے باوجود بھی زندگی کے بنیادی حقوق دلوانے یہاں میسر نہیں آخر کیوں؟
ورلڈ اکنامک فورم کے رپورٹ کے مطابق بلوچستان جنوبی ایشیاء کا سب سے غربت زدہ خطہ ہے ۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن( ڈبلو ایچ او ) کی حال ہی میں جاری کردہ رپورٹ کے مطابق بلوچستان کے ہیلتھ سیکٹر میں 70 فیصد پانی ، 60 فیصد بجلی اور 50 فیصد بیت الخلاء سرکاری ہسپتالوں میں دستیاب نہیں۔ قدرتی وسائل سے مالامال صوبہ اور گوادر پورٹ اور اوپر سے سی پیک پراجیکٹ جس کی تعریف کرنے سے یہاں کے نام نہاد جعلی اور نااہل حکومت کے اراکین نہیں تھکتے ہیں۔ بلوچستان کے پسمنادگی کی پچھے منصوعی حکمران بنانے والے فیکٹری والوں کے ساتھ ساتھ صوبے کے عوام بھی برابر کے شریکدار ہیں۔ بلوچستان میں آباد اقوام جن میں بلوچ، پشتون ، ہزارہ اور دوسرے اقلیتی برادری بستے ہیں۔ انہوں نے کبھی بھی حقیقی و عوامی رہنماوں کی حمایت نہیں کی ہے اور اس نا انصافی کے خلاف کبھی بھی عوامی جدوجہد نہیں کی ہیں۔ اور جن لوگوں نے کی ہے انہوں نے ان کا ساتھ نہیں دی ہیں۔
تاریخ ہمیں دیکھا رہا ہے کہ وسائل چاہئے جتنا بھی ہو اگر صحیح قیادت کی فقدان ہو تو ترقی و کامرانی پانا کسی بھی قوم کیلئے ایک افسانے سے کم نہیں۔
ہمارے اگر کوئی ساتھی بلوچستان حکومت کے رحم و کرام میں بیٹھے ہوئے ہے کہ وہ ہمارے مسائل حل کرلینگے تو وہ بیٹھتا ہی رہے۔
جان محمد انصاری

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیانت اور خیانت کاروں کا یہ سلسلہ آخر کب تک ؟

خیانت اور خیانت کاروں کا یہ سلسلہ آخر کب تک ؟ تاریخ کے اوراق اس بات کی گواہ ہے کہ تحریکوں اور غلام قوموں کے درمیان ہمیشہ سے غدار پیدا ہوئے ہ...