اتوار، 12 اپریل، 2020

حقیقت خرافات میں کھوگئ یہ امت روایت میں کھوگئی۔ اقبال


منصوبہ چاہئے کتنا ہی شاندار کیوں نہ ہو اس وقت تک بے کار ہے جب تک اس پر عمل در امد نہ کیا جائے۔ انسانی فلاح و بہبود کے لئے قران مجید میں ایک شاندار پلان موجود ہے مگر اس پر عمل نہ کرکے ہم آخرت کے علاوہ اس دنیا میں بھی ذلت و رسوائی کا شکار ہے۔ ہم افعال تو سر انجام دیتے ہے۔ لیکن اسلام کی روح پر نہیں بلکہ رسومات ادا کرنتے رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے اسلام ہمیں نجات نہیں دی سکتی ہے۔
آپ کے اذانیں، نمازوں ، روزے ، حج ، مجالس و ماتم، جشن ولادت اگر آپ کی انفرادی و اجتماعی زندگیوں میں تبدیلی پیدا نہیں کرتے تو سمجھ جائے کہ آپ صرف رسومات ادا کرکے اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں۔۔
کہتے ہے کہ جب امریکن آرمی عراق میں داخل ہوئے تو انہوں نے عراق کی سر زمین پر قبصہ کردی۔ امریکن سولجرز گلی محلوں میں گشت کررہے تھے کہ اچانک سے قریب کی کسی مسجد سے اذان کی بلند آواز گونجنے لگی۔ تمام سپاہی خوف ذدہ ہوئے اور راستے سے گزرنے والے ایک نوجوان عراقی سے پوچھا یہ آواز کس چیز کی ہے ؟اور کیا کہ رہا ہے، اتنے میں عراقی نوجوان نے اسے فلسفہ اذان اور نماز کی حکمت بتانے لگے۔ امریکی سپاہی درمیان سے بات کو کاٹ کرکہا کہ بھائی مجھے صرف اتنا بتادوں کہ کیا اس سے امریکہ یا ہمیں کوئی خطرہ تو نہیں تو اس سوال کے جواب میں عراقی نوجوان نے کہا نہیں آپ کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ یہ سن کر امریکی سپاہی نے کہا کہ دن میں ہزار مرتبہ اسے اذان دےدوں ہمیں اس سے کوئی تکلیف نہیں۔ ہماری مثال بھی یو ہی ہے اگر ہمارے ، نمازوں سے ،مجالس و ماتم سے دشمن کو نقصان نہیں پہچتا ہے یعنی ہمارے درمیان انقلاب و جدوجہد اور تبدیلی پیدا نہیں ہوتا تو سمجھ جائے کہ صرف رسومات ادا کی جارہی ہے اور رسومات ادا کرنے سے کوئی بھی قوم ترقی نہیں کرسکتا ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو افریقہ کے باشندوں کو دنیا پر حکومت کرنے چاہئے تھے کیونکہ وہ سب سے زیادہ رسومات ادا کرتے ہیں۔ اسلام صرف رسومات کا نام نہیں بلکہ انقلاب جدوجہد کا نام ہیں۔
جان محمد انصاری

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیانت اور خیانت کاروں کا یہ سلسلہ آخر کب تک ؟

خیانت اور خیانت کاروں کا یہ سلسلہ آخر کب تک ؟ تاریخ کے اوراق اس بات کی گواہ ہے کہ تحریکوں اور غلام قوموں کے درمیان ہمیشہ سے غدار پیدا ہوئے ہ...