‏Australia لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
‏Australia لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 7 جنوری، 2022

خیانت اور خیانت کاروں کا یہ سلسلہ آخر کب تک ؟

خیانت اور خیانت کاروں کا یہ سلسلہ آخر کب تک ؟


تاریخ کے اوراق اس بات کی گواہ ہے کہ تحریکوں اور غلام قوموں کے درمیان ہمیشہ سے غدار پیدا ہوئے ہے۔ 


شروعات کرتے ہے ہم اسلامی تاریخ سے اسلامی تاریخ میں سب سے پہلے جنگ احد کے میدان میں ہمیں اس کا زکر ملتا ہے کہ راستے سے عبداللہ ابن صابر اپنا لشکر الگ کردیتی ہے اور میدان جنگ میں مسلمانوں کا فتح دیکھ کر کچھ لوگ اپنے ذاتی خواہشات  کے تحت مقرر جگہ سے ہٹ جاتے ہے تاکہ مال غنیمت سمیٹ سیکھے ۔ 


اسی وجہ سے مسلمانوں کو اس جنگ میں شکست ہوتی ہیں۔  دوسری سب سے بڑی خیانت وہ امت کی جانب سے جنگ صفین اور پھر کربلاء کے میدان میں  ہمیں نظر آتا ہے۔  


مسلمان ممالک اور مسلمانوں کی زاول تو اس وقت سے شروع ہوتا ہے جب اہلیبت رسول (ص) سے امت خیانت کرنا شروع کردیتی ہے۔ 


برصغیر میں انگریز کبھی بھی حکومت کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے تھے جب تک کہ مقامی  اقوام کے اندرسے کوئی غداری نہیں کرتے۔ ۔


میسور کا بادشاہ حیدر علی کا بیٹا  ٹپو سلطان اور بنگال کا بادشاہ نواب سراج الدولہ  کے اپنے وزیروں میں سے میر صادق اور میر جعفر جیسے غدار اور قوم فروش اگر پیدا نہیں ہوتے تو انگریز کبھی بھی حکومت قائم نہیں کرسکتی۔ 


ہزارہ قوم کی تاریخ میں بھی ایسے بہت سارے افراد کی ناموں کا ہمیں ذکر ملتا ہے 


جنہوں نے چند اعلی عہدوں اور چند روپیوں کی خاطر اپنے قوم سے غداری کا طوق اپنے گلے میں سجائے۔ 


گزشتہ بیس سالہ قتل عام ہمارے سامنے اس کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ 

کہ جہاں لوگ نان شعبنہ کے محتاج تھے وہی اس قتل عام کے دوران کچھ  لوگ ارب پتی بن گئے۔ 


دکھ کی بات یہ ہے کہ ہمارے گھروں کی حالت زار یہ ہے کہ والدین ہی تک گھروں سے میر جعفر و میر صادق تربیت کرتے ہوئے معاشرے کو افراد دے رہے ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں بچپن میں ہی والدین اپنے لوگوں کو خود عرضیاں سیکھائیں وہاں بلا کیسے ٹیپو سلطان ، نیلسن مینڈیلا . سقراط ، عبدالستار ایدھی جیسے شخصیات پیدا ہونگے۔ 


اسے معاشرے اور قوم کے ساتھ کیا کچھ نہ ہو جو ہر گھر سے ایک میر جعفر و میر صادق تربیت دے رہے ہیں۔ 


اب تو کئ نسلوں کی مسلسل غلامی کرنے کی وجہ سے آپ کو ہزارہ معاشرے میں غلامی وارثت میں ملتی نظر آئے گی۔۔ 

اب تو یوں ایسا لگتا ہے کہ خدا نخواستہ ہمارے جسم کے شریانہ میں موجود خون میں قوم سے خیانت اور غداری شامل ہے ۔  

کہتے ہے کہ جہاں لوگوں کی خمیر میں غداری شامل ہو وہاں آزادی اور استقلال کی باتیں کرنا خود کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔۔۔

جان محمد انصاری


ہفتہ، 25 اپریل، 2020

سوشل میڈیا اور احساس کمتری



ہمارےہاں نوجوان حضرات آج کل بڑے تیزی سے احساس کمتری میں مبتلا ہورہے ہیں۔ جس کا عملی مظاہرہ ہم معاشرے میں موجود نوجوانوں کے اخلاق و کردار سے دیکھ سکتے ہیں۔
کہ کس قدرہمارے نوجوان احساس کمتری میں مبتلاء ہے۔ ماہرین نفسیات کی ایک ریسرچ سے یہ ثابت ہوا ہے کہ جو نوجوان سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال کرتے ہے ۔ ان کا احساس کمتری میں مبتلاء ہونے کا زیادہ امکانات پایا جاتا ہیں۔ جس کے بعد وہ مکمل طور پر عملی زندگی میں ناکام ہوتے ہے ۔ کئی مرتبہ تو نوجوانوں کا خودکشی کے اطلاعات بھی ملے ہے۔ احساس کمتری دراصل ایک طرح کی نفسیاتی بیماری ہے جس کے بارے میں ہمیں علم ہونا ضروری ہے ۔ قارئین محترم
ماہر نفسیات ڈاکٹر صابر چوہدری کے
کے مطابق احساس کمتری ایک ایسی ذہنی کیفیت کا نام ہے جس میں انسان اپنا مقابلہ کسی سے کرنے کے بعد خود کو کم تر سمجھے۔
ماہر نفسیات ایڈلر کے مطابق احساس کمتری انسان کو بہتر بننے کی وجہ سے بنتا ہے مگر یہ بہتر بننے سے روکے تو یہ بیماری بن جاتا ہے۔
احساس کمتری کے شکار لوگوں کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ یہ لوگ تعریف کے معاملے میں یا تو بالکل بھی تعریف سننا پسند نہیں کرتے۔ کیونکہ دل میں سوچتے ہیں کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے ، یاپھر تعریف کے بھوکے رہتے ہیں کہ کاش کوئی ان کی تعریف کردے۔ سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال بھی نوجوانوں کو احساس کمتری یا پھر احساس برتری میں مبتلا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ ہم میں سے اکثریت نے لفظ احساس کمتری کئی مرتبہ سنے ہے لیکن بہت کم ہی احساس برتری کا لوگ ذکر کرتے ہے۔ یہ دونوں ہی ایک جیسے ذہنی کیفیات کا نام ہے۔ ہم صرف جسمانی طور پر بیمار یا پھر کمزور نہیں ہوتے بلکہ ہم میں سے بہت سارے نوجوانوں کو شاید معلوم ہی نہ ہو کہ ان کی زندگیوں میں جو مشکلات ہے وہ ان کی اپنی نفسیاتی بیماریوں کی وجہ سے ہے۔ اور اس بات سے علم بھی نہیں رکھتے ہوکہ جو وہ روزانہ پانچ پانچ گھنٹے سوشل میڈیا کے اوپر دوسروں کو دیکھتے ہے۔
اسی وجہ سے وہ نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہے۔ کچھ نوجوان ایسے بھی ہوتے ہے کہ سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال کرنے کی وجہ سے احساس کمتری میں نہیں بلکہ احساس برتری میں مبتلا ہو جاتے ہے۔ احساس برتری ایک طرح کا ذہنی کیفیت ہے کہ جس میں انسان خود کو دوسروں سے بہتر سجھتا ہے۔ مگر حقیقت میں وہ بہتر نہیں ہوتا۔
احساس برتری میں مبتلا لوگوں کی چند نشانیاں یوں ہے ۔ آپ دیکھے کئی سوشل میڈیا کے استعمال سے آپ کے اندر یہ علامات تو نہیں پائے جاتے۔
1۔ وہ اکثر تنقید کرتے رہتے ہے۔
2۔ لوگوں کا ہمیشہ مذاق آڑاتے ہیں۔
3۔ لوگوں میں عیب اور برائیاں تلاش کرتے ہیں۔
4۔ وہ دوسروں کی غلطیوں اور کمزوریوں کو اچھال کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔
5۔ اپنے آپ کو کچھ زیادہ ہی خاص سمجھتے ہے۔انہیں اپنے اندر کوئی خامی نظر نہیں آتی۔ اس لیے یہ اپنی اصلاح کی بھی کوشش نہیں کرتے ۔
اب آپ دیکھے کہ سوشل میڈیا ایک ایسا پیلٹ فارم بن چکا ہے جہاں پر دنیا بھر کے لوگ موجود ہوتے ہے۔ لازمی بات ہے اس میں ہر طبقے کے لوگ پائے جاتے ہے۔
ہمارے ہاں اکثریت کے عقلیں ان کے آنکھوں میں ہی ہوتے ہے۔ بظاہر وہ سوشل میڈیا کے اندر اپنی زندگی کو دوسروں کی ذاتی زندگی ( یعنی ان اسکرین ) سے موازنہ کرتے ہیں ۔ جس کے بعد انہیں اپنی زندگیوں میں صرف نادیدگی محرومیوں کا احساس ہوتا ہے۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ احساس کمتری یا احساس برتری دونوں آپ کے عملی سماجی روابط کے ذندگی کو خراب کرسکتے ہے ۔
جان محمد انصاری ۔

ہفتہ، 18 اپریل، 2020

نوجوانان ذمہ دار قبول کیجئے !!!


زندگی میں آج جہاں پر بھی آپ کھڑے ہے وہ دراصل آپ کے ماضی کے خیالات اور عمل کا نتیجہ ہیں۔
کیونکہ ہر جانے والے ایام آنے والے آیام کو جنم دیتا ہیں۔ آج جو کچھ حاضر ہے وہ کبھی مستقبل ہوا کرتاتھا اور جو کبھی ماضی کہلائے گا۔ وقت کا سفر جاری ہیں اسے ہم صرف اپنی محنت، جدوجہد اور کوششوں سے اپنے مفاد میں استعمال کرسکتے ہیں۔ وقت کی سے کوئی بھی زی شعور انسان نکار نہیں کرسکتا ہے۔ اس کی قدروقیمت اگر روزمرہ کی زندگی میں دیکھنا چاہیتے ہوں تو صبح کی اخبار کو دیکھ لوں جو اخبار صبح ایک عدد 20 روپے کا ہوتی ہےوہی اخبار شام کو کوئی 20 روپے فی کلو لینے کو تیار نہیں ہوتا ۔ ہم میں سے ہر کسی نے ہر کسی نے شاید بہت سی کوشش کئے ہونگے کہ اپنی زندگیوں میں تبدلی لائے لیکن صرف چند دن کے بعد کم بخت نفس خود بخود انسان کو واپس اسی جگہ پر لاکر کھڑا کردیتا ہے جہاں سے ہم لوگوں نے شروع کی تھی۔ لیکن دراصل یہ باتیں غلط ہے کیونکہ آپ نے سنجیدگی سے کوشش کی ہی نہیں ہونگے۔ کیونکہ خیالات اور احساسات کی ڈور آپ کے اپنے ہاتھوں میں ہی ہیں۔ زمہ داری قبول کیجئے! ناکام لوگوں کی سب سے بڑی عادت اور نشانی یہ ہے کہ وہ کوئی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے صرف شکوہ و شکایت کے میدان کے غازی ہوتے ہے۔ وہ اپنی ناکامیوں کا الزام اپنے والدین ، وسائل کی کمی، خراب ماحول اور برئے لوگوں اور قمست کے کندے پر ڈالتے ہے۔ اور خود کو معصوم،شریف النفس انسان اور غیر جانبدار دکھاتے ہے۔ اور وہ خود زمہ داری لینے کو تیار نہیں ہوتے ۔ اسی وجہ سے وہ زندگی میں کبھی خوش نہیں رہ سکتے ہے۔ انسان کو اس کی زندگی میں تین چیزوں پر مکمل کنڑول ہے۔ خیالات،تصورات اور عمل و کردار آپ تینوں کا مثبت استعمال کرکے اپنی زندگی کو کامیاب اور ان کے منفی استعمال سے آپنے زندگی کو بگاڈ اور ناکام بھی بناسکتے ہیں۔ یہ میں نہیں کہتا بلکہ سائنس اور انسانی شعور کہتاہے۔ لہذا ایک عالم دین اور بزرگ وار علامہ محمد آصف حسینی صاحب فرماتے تھے کہ ہمارے نوجوان بے عمل نہیں بلکہ بے خبر ہے ۔ لہذا اسلام قوانین اور شریعت بھی بے خبر لوگوں پر اپنا ہاتھ ٹھوڈا بہت نرم رکھتاہے لیکن کسی چیز کے بارے میں آگاہی کے بعد اگر اس پر عمل نہ کاجائے تو آپ کی اپنی بدقسمتی ہوگی۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ تبدیلی چاہتے ہو ۔ چاہیے وہ تبدیلی آپ کی ذات میں ہو یا معاشرے میں دونوں صورتوں میں آپ کو زمہ داری قبول کرنے ہونگے۔ اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں۔
بقول شاعر :-
خود بخود ٹوٹ کے گرتی نہیں زنجیر کبھی
بدلی جاتی ہے بدلتی نہیں تقدیر کبھی
جان محمد انصاری

منگل، 14 اپریل، 2020

سیاسی عدم پختگی



ہزارہ قوم کو سب سے زیادہ نقصان عدم سیاسی بختگی اور فکری پسماندگی کی وجہ سے لاحق ہوئے ہیں۔
یہ بات دراصل 1979 کی ہے جب سوویت یونین افغانستان میں داخل ہوچکا تھا۔ امریکی نواز سیاستدان،جنرل اور مولویوں نے امریکہ کے ایماں پر ایسے اسلام اور کفار کے درمیان جنگ کا نام قرار دیا۔ امریکہ منصوبہ بندی ، عرب ریال اور پاکستان انسانی وسائل مہیا کرنے لگا۔ اس دوران افغانستان کے پڑوسی ملک ایران کے اندر شاہ پہلوی کے خلاف انقلاب برپا ہوا۔ اور اس کے نیتجے میں ایک نئی حکومت جنم لی۔
دنیائی اسلام نے سوویت یونین کے خلاف جہاد کا اعلان کردیا۔
مجاہدین کی امداد کیلئے صوبہ سرحد اور فاٹا میں کیمپ بنائےگئے ۔ اور صوبہ بلوچستان کے جنوبی پشتون خواہ میں بھی کئی کیمپ تعمیر ہوئے جہاں سے ایک کثیر لوگوں کو تربیت دے کہ افغانستان بھجوادیا جاتا تھا۔
افغانستان میں بسنے والے اقوام جن میں ہزارہ ،پشتون ، تاجک اور ازبک شامل ہے سب کے سب سوویت یونین کے خلاف صف آرہا ہوگئے۔
افغانستان کے اندر ہزارہ قوم کے کئی حزب بنے ، جن می ں حرکتی ، سپاہ حزب وحدت شامل تھیں۔ حزب وحدت اسلامی ہزاروں کا وہ واحد جماعت تھا جس میں مذہبی، قوم پرست، کیمونسٹ اور دوسرے افکار رکھنے والے ہزارے سب شامل تھیں۔ اس دوران کوئٹہ میں آباد ہزاروں نے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے ہتھیار اور پیسے لیتے رہے۔ اور روزانہ کی بنیاد پر عملدارروڑ پر واقعہ تنظیم بیلٹنگ سے ٹھینک، اور ہتھیاروں سے بھری گاڑیاں افغانستان روانہ کئے جاتے تھیں۔ دس سال کی مسلسل جنگ کے بعد جب سوویت یونین کی واپسی ہوئی تو یہ مجاہدین جو اللہ کی راہ میں کفار کے خلاف جہاد کرنے کے دعویدار تھے اقتدار کیلئے آپس میں دست و گریبان ہوئے اور آخر میں نیتجہ یہ نکلا کہ طالبان نامی گروپ کا ظہور ہوگیا۔ جیسے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ اب پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اسی گروپ کا حامی تھا جو کہ افغانستان کے اندر ہزارہ قوم کے خلاف بھی سربکف تھے۔ جو لوگ کوئٹہ کے اندر پہلے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے مراعات لیتے تھے اب وہ بھی بے بس ہوگئے اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر بہت سے ایسے بھی افعال سر انجام دی جو میں سمجھتا ہوں کہ یہاں قابل ذکر نہیں ہزارہ قوم فکری پسماندگی اور سیاسی عدم دور اندیشی کی کمی کی وجہ سے کئی مرتبہ دیگر اقوام کی مفادات کیلئے دانستہ و نادانستہ طور پر قربانی کا بکرا بن چکے ہیں۔۔
اب ایک مرتبہ پھر افغانستان میدان جنگ بننے جارہاہے ۔
امریکہ کے انخلاء کے بعد طالبان اور بے حس افغان حکومت کے درمیان اقتدار کیلئے سخت ترین جنگ ہونے جارہا ہے ۔
جس سے واسطہ اور بلاوسطہ ہزارہ قوم متاثر ہوگا۔
خطے کے اس طرف آباد ہزارہ قوم کے قائدین طالبان کے خلاف مزاحمت کا راستہ انتخاب کرینگے یا مفاہمت سے کام لیےگئے دونوں صورتوں میں ہمیں انتہائی باریک بنی اور دوراندیشی سیاست اختیار کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر ہمارے لئے حالات ماضی کے مقابلے میں کئی زیادہ خطرناک ثابت ہونگے ۔
جان محمد انصاری

کیا ہزارہ قوم کو ایک تعلیمی نصاب کی ضرورت نہیں !!!

ہزارہ قوم کا تعلیمی نصاب !!!
کسی بھی قوم کی ترقی کا راز اس کے نظام تعلیم میں پوشیدہ ہے۔ کیونکہ گھریلو تربیت کے بعد قوم کے بچوں اور بچیوں یعنی ملت کے سرمایوں کو تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے تعلیمی اداروں میں داخل کروایا جاتا ہے۔ جس کا مقصد ہوتا کہ بچہ تعلیم حاصل کرکے اپنی انفاردی و اجتماعی زندگی کو بہترین طریقے سے گزار سکے۔۔۔
جہاں کتابوں کی شکل میں موجود علم کے ذخائر ان کے پاک ذہنوں تک اساتذہ کرام کی کرام سے پہنچایا جاتا ہیں۔
یہی طلبہ و طالبات جو ابھی چھوٹے کلاسز میں پڑھتے ہیں۔ یہی آگے جاکر اس قوم وملت کی رہنمائی کرتے ہے۔
کیونکہ فارسی زبان میں ایک کہاوت ہے کہ '' طفیل امروز قائد فردا "
بچوں کی تربیت کرنے کیلئے تا کہ وہ کل قوم و ملت کی خدمت کرسکے اس وجہ سے قوم و ملت کے بزرگ اہل دانش و قلم کار حضرات ان کیلئے ایک نصاب کا تعین کرتے ہیں۔ اس نصاب میں ایسے مواد شامل ہوتے ہے جو حال اور مستقبل کے حالات سے نمٹنے کیلئے قوم و ملت کے معماروں کو آمدہ کیا جاتا ہیں۔ ان کی انفرادی شخصیت سے لیکر اجتماعی شخصیت سازی میں ماحول، اساتذہ کرام ، والدین اور معاشرے کے ساتھ ساتھ نصاب کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہیں۔ لیکن یہ بات انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑھ رہا ہے کہ ہزارہ معاشرے میں اس سمت پر بہت کم توجہ دیا گیا ہے اور دیا جارہا ہے۔ جب دنیا کے دوسرے اقوام سائنس اور دوسرے علوم کے میدان میں آئے روز نئے نئے دریافت کررہے تھے ۔ وہی ہم اس وقت پہاڑ کی غاروں میں اپنی بقاء کی جنگ لڑھ رہے تھے۔
16 صدی میں دنیا جہاں سائنس سمت دوسرے مضامین میں ترقی کررہے تھے اور اپنے لئے تعلیمی اداروں کی بنیاد رکھ رہے تھے وہی ہزارہ قوم کا مذہبی و قومی نصاب تعلیم سی پارہ، قرآن مجید صرف تلاوت کی حد تک، اس کے بعد پنچ کتاب اور حافظ کی اشعار کا مجموعے پر مشتمل تھا۔
کیا ہزارہ قوم اس نصاب سے دنیا کے دوسرے اقوام کی برابری کرسکتے تھے۔ ہرگز نہیں پچھلے دو سو سالہ ظلم و جبر کے بعد بھی ہزارہ قوم کے دانشوروں اور اسٹیک ہولڈرز کو ایک نئے نصاب کی تشکیل دینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئے۔۔۔
لہذا دنیا مقابلہ کرنے اور اپنی بقاء کی خاطر اب ہزارہ قوم کو ایک ایسی نصاب کو ضرورت ہے جو اس کی دنیائی و آخرئ زندگی یعنی مذہبی و قومی تعلیمات و ضروریات کو پورہ کرسکے۔ یہ کام صرف ایک کمیونٹی نظام کی شکل میں ایک نظام ہی کرسکتا ہے۔ جس کیلیے ہمارے نوجوانوں کو جدوجہد کرنا ہوگا۔۔۔۔
جان محمد انصاری

اتوار، 12 اپریل، 2020

حقیقت خرافات میں کھوگئ یہ امت روایت میں کھوگئی۔ اقبال


منصوبہ چاہئے کتنا ہی شاندار کیوں نہ ہو اس وقت تک بے کار ہے جب تک اس پر عمل در امد نہ کیا جائے۔ انسانی فلاح و بہبود کے لئے قران مجید میں ایک شاندار پلان موجود ہے مگر اس پر عمل نہ کرکے ہم آخرت کے علاوہ اس دنیا میں بھی ذلت و رسوائی کا شکار ہے۔ ہم افعال تو سر انجام دیتے ہے۔ لیکن اسلام کی روح پر نہیں بلکہ رسومات ادا کرنتے رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے اسلام ہمیں نجات نہیں دی سکتی ہے۔
آپ کے اذانیں، نمازوں ، روزے ، حج ، مجالس و ماتم، جشن ولادت اگر آپ کی انفرادی و اجتماعی زندگیوں میں تبدیلی پیدا نہیں کرتے تو سمجھ جائے کہ آپ صرف رسومات ادا کرکے اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں۔۔
کہتے ہے کہ جب امریکن آرمی عراق میں داخل ہوئے تو انہوں نے عراق کی سر زمین پر قبصہ کردی۔ امریکن سولجرز گلی محلوں میں گشت کررہے تھے کہ اچانک سے قریب کی کسی مسجد سے اذان کی بلند آواز گونجنے لگی۔ تمام سپاہی خوف ذدہ ہوئے اور راستے سے گزرنے والے ایک نوجوان عراقی سے پوچھا یہ آواز کس چیز کی ہے ؟اور کیا کہ رہا ہے، اتنے میں عراقی نوجوان نے اسے فلسفہ اذان اور نماز کی حکمت بتانے لگے۔ امریکی سپاہی درمیان سے بات کو کاٹ کرکہا کہ بھائی مجھے صرف اتنا بتادوں کہ کیا اس سے امریکہ یا ہمیں کوئی خطرہ تو نہیں تو اس سوال کے جواب میں عراقی نوجوان نے کہا نہیں آپ کو کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ یہ سن کر امریکی سپاہی نے کہا کہ دن میں ہزار مرتبہ اسے اذان دےدوں ہمیں اس سے کوئی تکلیف نہیں۔ ہماری مثال بھی یو ہی ہے اگر ہمارے ، نمازوں سے ،مجالس و ماتم سے دشمن کو نقصان نہیں پہچتا ہے یعنی ہمارے درمیان انقلاب و جدوجہد اور تبدیلی پیدا نہیں ہوتا تو سمجھ جائے کہ صرف رسومات ادا کی جارہی ہے اور رسومات ادا کرنے سے کوئی بھی قوم ترقی نہیں کرسکتا ہے ۔ اگر ایسا ہوتا تو افریقہ کے باشندوں کو دنیا پر حکومت کرنے چاہئے تھے کیونکہ وہ سب سے زیادہ رسومات ادا کرتے ہیں۔ اسلام صرف رسومات کا نام نہیں بلکہ انقلاب جدوجہد کا نام ہیں۔
جان محمد انصاری

ہفتہ، 11 اپریل، 2020

ہمارے تعلیمی ادارے اور منشیات!!




کسی بھی معاشرے کی تباہی اور بربادی کے پیچھے سب سے بڑا ہاتھ منشیات کا ہوتا ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ آج کل ہمارے تعلیم یافتہ نوجوان اس لعنت میں مبتلا ہوتے جارہے ہیں۔ اس کی روک تھام کیلئے باقاعدہ وفاقی اینٹی نارکوٹکس فورس کے نام سے بھی ایک ادارہ موجود ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑھتا ہے کہ وہ بھی یاتو منشیات سمگلروں کے ہاتھوں بے بس ہے یا پھر دال میں کچھ کالا ہے ۔ ماہرین کے مطابق منشیات کے لعنت میں مبتلا روزانہ نشے کے عادی افراد تقریبا 700 افراد اپنے ہاتھوں اپنی زندگی ختم کررہے ہیں۔ 2019 کی ورلڈ ڈرگ رپورٹ کے مطابق دنیا کے تقریبا 35 ملین افراد منشیات کو مختلیف طریقوں سے استمعال کرتے ہیں۔ جن کی عمر 12 سے 64 سال تک کی ہیں ۔ خطرے کی بات تو یہ ہے کہ اب یہ لعنت اب ہمارے تعلیمی اداروں کے پھیل چکا ہے ۔ جس سے معصوم طلباء و طلبات کی صحت اور زندگی پر مضر اثرات پڑرہے ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ لوگ تعلیم پر بھی بھرپور توجہ دینے سے قاصر رہتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق ہمارے اسکولوں اور کالجوں اور یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی مراکز پر ہر دس میں سے ایک طالب علم منشیات کا عادی ہے اور تیزی سے اس کی اعدادوشمار میں اضافہ ہوتا جارہاہیں۔ جو واقعی ہمارے لئے قابل تشویش بات ہے۔ نوجوان نسل دن بدن اس لعنت کی جانب راغب ہورہے ہیں۔ یقین اس کے پیچھے کچھ لوگوں کا خاص ہاتھ شامل ہے جو چند رقم کمانے کی غرض سے قوم کے جوانوں کے سر سے کھیل رہے ہیں۔ اس لعنت کا اندازہ آپ ہزارہ ٹاون کے گلی کوچوں میں دیکھ سکتے ہے جہاں چھوٹے چھوٹے لڑکے سیگریٹ و نسوار پیتے نظر آتے ہے ۔
سیگریٹ کے ایک کش سے شروع ہوا یہ فعل بالا آخر ہیروئن ، اور دوسرے سگین اور نشے کے مواد پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ ہمارا معاشرہ کس قدر اس لعنت میں جل رہا ہے اس کا اندازہ آپ آئے روز معاشرے میں اہسپتال برائے انسداد منشیات کے ناموں سے اداروں کا افتتاح دیکھتے آرہے ہیں۔
معاشرے کو اس لعنت سے نجات دینے کیلئے والدین ، اساتذہ ،علماءکرام ،سیاسی اکابرین، سماجی تنظیمیں،سول سوسائٹی کے اراکین، اور ہر ذی شعور انسان کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
جان محمد انصاری

منگل، 7 اپریل، 2020

ہزارہ قوم کا احتجاج !!!۱


‏پاکستان میں دوسرے اقوام اپنی حقوق کیلئے احتجاج و مظاہر کرتے ہے۔
وہ کاروبار ، روزگار، اور زندگی کے دوسرے سہولیت کا مطالبہ کرتے ہیں۔
لیکن ہزارہ برادری کا ہر احتجاج مظاہرہ مطالبہ صرف اور صرف یہی ہوتا ہے ہمیں زندہ رہنے دیا جائے۔
ہم غلام ہی صحیح لیکن ہمیں صرف جینے کا حق دیا جائے۔
لوگ آپ کو زندہ رہنے کا حق دینے کو تیار نہیں کیا وہ آپ کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرینگے۔۔۔
آخر یہ ظلم کب تک ؟؟؟
کیا ہمارے مردوں میں غیرت نہیں ہے کہ ہم ہمیشہ زندگی کا بھیک مانگتے پھیرے 

اتوار، 5 اپریل، 2020

یہودیوں کا قومی و مذہبی نصب العین!!!


یہودیوں کو پرانے زمانے میں ایک خاص قسم کا لباس پہنایا جاتا تھا تاکہ دوسرے لوگ دور سے ہی انہیں دیکھ کر پہچان سکے کہ یہ یہودی ہے۔ دنیا کے ہر ممالک میں انہیں کوئی انسانی حقوق میسر نہیں تھے جیسے آج کل دنیا کے کسی ممالک میں بھی ہمیں کوئی حیثیت حاصل نہیں ہر جگہ ہمیں قربانی کے بکرے کے طور پر استعمال کئے جاتے ہیں۔ لیکن پھر تاریخ نے یہود پر واضح کردیا کہ وہ دنیا میں کہیں بھی بطور یہودی نہیں پنپ سکتے۔ انہیں مختلف تحریکوں اور نظریاتی فلسفوں میں پناہ لینا پڑےگی، تاجر اور صنعت کار بن کر مزدوری کمانا ہوگی اور ہر ملک کے حکمران طبقے میں اپنے لئے جگہ بنانا ہوگی، دانشوروں کا روپ دھارنا ہوگا، سائنس کے میدان میں کارنامے انجام دینا ہوں گے تا کہ وہ ہر کسی کی ضرورت بن جائیں۔ یہودی یہ بات جانگے کہ جب تک دنیا کو آپ کا کوئی ضرورت نہ ہو تو وہ آپ کو اپنی مقاصد کیلئے قربانی کا بکرا بناتا جائےگا۔ اور جب تک آپ طاقتور نہیں ہونگے آپ کی آواز میں بھی اسحتکام اور بلندی پیدا نہیں ہوگی اور پھر آپ دنیا کے کسی بھی حالات یا معاملات میں کوئی بھی کردار ادا نہیں کرسکتے ہے ۔ یہودیوں نے یہ بات درک کردی اور دنیا کے جس بھی کونے میں رہے لیکن ہمیشہ دنیا پر حکومت اور ظلم و جبر سے نجات حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کرتے رہے۔۔۔
اقوام کی تقدیر افراد کے ہاتھوں میں ہیں۔ اور قیمتی افراد قوم کے ادارے ہی بناتے ہے ۔ اسی کے پیش نظر ایک جرمن یہودی موسی ہپٹس 1875-1812 نے صیہونیت کا علم بلند کردیا۔ چنانچہ مختلف ممالک میں آباد زندگی کے مختلف شعبوں میں مصروف یہودیوں نے مرحلہ وار پروگراموں کے تحت فلسطین کا رخ کردیا ۔ ہماری قوم میں بھی ہر طرح کے افراد پائے جاتے ہے یعنی مختلف شعبہ ہائی زندگی سے تعلق رکھتے ہے اگر انہیں ایک سمت اور ایک نظام اور مقصد دیا جائے تو یہ منتشر طاقت متحدہوکر اس قوم کو غلامی و جاہلیت کے اندھیرے سے نکال سکتا ہے۔ اور یہ یہودیوں کا طویل المعیاد منصوبہ تھا۔ کیا ہمارے پاس بھی کوئی طویل المعیاد منصوبہ ہے اس ظلم و جبر سے نکلنے کا۔ ؟؟؟ یہودیوں کی کامیابی کا راز یہ تھا کہ انہوں نے صیہونیت کو قومی اور مذہبی نصب العین قراد دیا تھا۔ ۔۔
ہمیں بھی ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جیسے ہم قومی و مذہبی طور پر اپنا نصب العین قرار دے سکے ۔۔
خواجہ کمیونٹی سسٹم، میمن کمیونٹی سسٹم اور آغا خان کمیونٹی سسٹم اس کی بہترین مثالیں ہیں۔
جان محمد انصاری

جمعہ، 3 اپریل، 2020

دنیا کا مظلوم ترین قوم!

پرانے زمانے میں غلاموں کو جیل نما کالونیوں میں رکھا جاتا تھا۔ جہاں انہیں کسی بھی قسم کی انسانی حقوق حاصل نہیں تھا۔ ان سے صرف اپنی مفادات تک کی حدتک لگاو رکھا جاتا تھا۔ ان کے بستیوں کے باہر آنے جانے پر پابندی ہوتا تھا۔ وہ صرف محافظوں کے اجازت سے باہر اور اندر جاسکتے تھے۔ ٹھیک اسلام کے قلعے میں ہزارہ قوم کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جارہا ہیں۔ انہیں بھی غلاموں کی طرح شہر کے کناروں میں ان کے اپنے علاقوں میں قید کردیاگیا ہے ۔ جہاں انہیں صرف زندہ رہنے کیلئے سہولیات زندگی دیا جاتا ہے۔
اس طرح پاکستان کو دنیا میں سب سے بڑا جیل رکھنے کا اعزاز حاصل ہیں۔
1۔ سینٹرل جیل مری آباد۔
2۔ سینٹرل جیل ہزارہ ٹاون ۔
یہ دونوں جیل بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں واقع ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ان جیلوں میں قیدیوں کی تعداد 6 لاکھ سے 9 لاکھ کے درمیان تک ہے۔
حکومت وقت کو سب سے زیادہ جزیہ انہی جیلوں سے حاصل ہوتا ہے۔ ان قیدیوں کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ یہ اپنی نوعیت کے واحد قیدی ہے جو اپنی زندگی پر رضامند ہے اور انہیں کسی بھی قسم کی حقوق حاصل کرنے کے شوق نہیں۔ شاہ کی فرمابرداری میں یہ لوگ شاہ کو بھی پیچھے چھوڈتے ہے۔ یہ قیدی آپس میں تو کافی ظالم ہے مگر جیلر کے ساتھ ان کا رویہ انتہائی شائستہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے شاید انہیں جلد دنیا میں سب سے بہترین قیدی ہونے کا اعزاز حاصل ہو۔ ان کے نسلیں یہی پیدا ہوتے ہے اور پھر یہی مرجاتے ہے۔ جیل کی آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے حکومت وقت کبھی کبھار نسل کش مہم کا اعلان بھی کرتے رہتے ہے۔ ان کے نوجوانوں میں کسی بھی قسم کی قید و تعصب کے متعلق بیداری اور جدوجہد نظر نہیں آتے۔ دنیا کے سب سے شریف قیدی انہیں جیلوں میں رہتے ہے۔
جان محمد انصاری

ہزارہ قوم کے ساتھ قادیانیوں جیسا سلوک!!!


آج ہزارہ قوم پاکستان میں رہنے والے دوسرے اقلیتوں کے مقابلے میں بدترین زندگی گزاررہے ہیں۔ آئین پاکستان کے تحت گستاخ رسول (ص) اور کافر قرار دینے کے بعد جن حالات کا قادیانیوں کو سامنا تھا آج وہی حالات ہزارہ قوم کو سامنا ہے۔ پاکستان آبادی کے لحاظ سے 97 فیصد مسلم اور 3 فیصد غیر مسلم آبادی پر مشتمل ہے۔ گوگل ویکی پیڈیا کے مطابق پاکستان میں قادیانیوں کی آبادی 4 ملین ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ریاست پاکستان میں ان کے جان، مال، اولاد اور کاروبار محفوظ نہیں تھے بلکہ آئیے روز انہیں مختلف گلی چوراہوں پر کھلے عام قتل کردیے جاتے تھے۔ جس طرح ہزارہ قوم کا بھی اسی طرح قتل عام کیا جارہا ہے۔ پاکستان کے اندر اگر کسی کو معلوم ہوجائے کہ یہ بندہ قادیانی کمیونٹی سے تعلق رکھتا ہے تو اس سے سلام و دعا ترک کردیاجاتا تھا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ان کے اوپر ہر قسم کی پابندیاں لگائی گئی تھی۔ جس طرح ہمارے اوپر بھی ہر قسم کی سیاسی فارمولے تجربہ کئے جاتے ہے۔ جس طرح لوگ ان سے کاروباری، سماجی و معاشرتی روابط رکھنے سے اجتناب کرتے تھے اور ہر جگہ ان کے جان و مال کے درپے ہوتے تھے۔ ٹھیک ہزارہ قوم کو بھی یہی حالات کا سامنا ہے۔ قادنیوں کو کسی بھی قسم کا سیاسی آزادی حاصل نہیں تھا اور نہ ہی ان کے پاس کوئی سیاسی جماعت موجود ہے۔ وہ اپنی شناخت چھپاتے پھرتے تھے اپنی جان کی امان کی خاطر ہم بھی اپنی پہچان اکثر چھپاتے نظر آتے ہے تا کہ اگر کسی علم ہوجائے تو ہماری زندگیاں خطرے میں پڑھ سکتا ہے۔ پھر انہوں نے اپنا تقدیر بدل ڈالا آج یہ کمیونٹی اتنا طاقتور ہے کہ اس کا انداز قومی اسمبلی کے حلف بیان میں ختم نبوت کے حروف کو پاک کرنے سے لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اپنی ضرورت زندگی کو پورہ کرنے کیلئے اپنا ایک خود کفیل کمیونٹی سسٹم بنایاہے۔ جو پاکستان اور دنیا بھرکے قادیانیوں کی تعلیم، صحت، روزگار ،کاروبار ، مذہبی تعلیمات نیز ضروریات زندگی کے ہر سہولیات مہیا کرتے ہے۔ انہیں پاکستان کی 97 فیصد مسلمانوں کی ضرورت ہی نہیں کہ وہ آکے ان کو تعلیم، صحت، کاروبار، نوکریاں دے بلکہ وہ ایک خودمختار ریاست کے اندر رہتے ہوئے ایک ریاستی ڈھانچہ بنائے ہوئے ہے۔ پاکستان کی رہاستی ادارے اور مسلم آبادی خود ان کے محتاج ہوچکے ہے۔ واگر نہ انہیں اب تک نسل و نابود کرچکے ہوتے۔ آج ریاست پاکستان اپنی مفادات کی خاطر انہیں تحفظ دینے پر مجبور ہے۔
ہزارہ قوم کو بھی اپنے لئے ایک ایسے کمیونٹی نظام کی تشکیل کرنا چاہئے جو اس قوم کی دنیاوئی و اوخری ضروریات کو پورہ کرسکے۔ اس طرح کی ایک نظام میں ہزارہ قوم ایک خودمختار اور خود کفیل قوم ہوگا۔ اس وقت ہمیں کوئی بھی نہیں مارسکتا ہے ۔ ریاست پاکستان اپنی مفادات کو بچانے کی خاطر جس طرح آج قادیانیوں کو تحفظ دیتے نظر آتے ہے ٹھیک اسی طرح وہ ہمیں بھی اپنی مفادات کو بچانے کی خاطر تحفظ دینے کو اپنا اعزاز سمجھے ینگے۔۔۔ اسی طرح کے ایک نظام میں ہی ہماری بقاء کا راز پوشیدہ ہے۔ ہم نے پچھلے 70 سالوں سے جمہوریت کے ساتھ انتخابات میں حصہ لیتے رہے اور اپنی قسمت آزماتے رہے لیکن سوائے گریہ و زاری ہماری مقدر میں کچھ بھی نہیں آیا ۔۔۔۔۔
اس نسل کو صرف نسل کشی، تعصب اور محرومیوں کا تحفہ ملا۔۔۔۔
جان محمد انصاری

خیانت اور خیانت کاروں کا یہ سلسلہ آخر کب تک ؟

خیانت اور خیانت کاروں کا یہ سلسلہ آخر کب تک ؟ تاریخ کے اوراق اس بات کی گواہ ہے کہ تحریکوں اور غلام قوموں کے درمیان ہمیشہ سے غدار پیدا ہوئے ہ...