منگل، 21 اپریل، 2020

ہزارہ قوم! قائداعظم سے لیکر عمران خان تک !!

اکیسویں صدی میں معاشی ترقی کے بغیر ترقی کا مفہوم ہی نامکمل ہیں۔
معاشیات کی اہمیت کا انداز اپنے انفرادی زندگی سے لیکر عالمی قوتوں کی کردار میں دیکھ سکتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اگر ہم اقتصادی طور پر ترقی یافتہ ہوجائے تو خود بخود ہماری ثقافتی پسماندگی کا مسلہ حل ہوجائے گا۔ کیونکہ زبان ،اقدار , اخلاقیات ،خوراک ، پوشاک ،موسیقی اور تربیت پر انسان اس وقت صحیح طور پر توجہ دے سکتا ہیں جب انسان اور سماج کے پاس وسائل سر پلس میں موجود ہو۔ یعنی زندگی کے بنیادی ضروریات سے بڑھ کر انسان کے پاس وسائل موجود ہوں۔ معاشرہ اور قوم بھی اس وقت ترقی کرسکتا ہے کہ جب وسائل ہمارے پاس سرپلس میں موجود ہوں یا پھر موجودہ انسانی اور مالیاتی محدود وسائل کا صحیح اور درست استعمال کرنے کے طور طریقے انسان کو آتے ہو۔ چنانچہ تمام حقیقتوں کے باوجود معاشی پسمنادگی ہماری ثقافتی و مذہبی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ ہمیں اس بات کا علم ہونا چاہئے کہ معاشیات اور سیاسیات کا آپس میں لازم و ملزوم ہے۔ یہ دونوں ایک سکہ کے دو روخ ہے اور ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہیں ، فلسفہ کے بعد تمام علوم سیاست کے اندر ضم ہوتا ہے۔ ہمیں اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ سیاسی میدان میں کامیاب ہوئے بغیر ہم ترقی حاصل نہیں کرسکتے ہیں۔ یہاں سیاست کی مفہوم سے مراد صرف صوبائی یا قومی اسمبلی کی نشت کی جنگ تک محدود نہیں بلکہ نظریاتی نظام ، سماجی منصوبہ بندی، کارکاردگی، کردار و شعور اور لوگوں کی معیار زندگی بہتر بنانے کیلئے جدوجہد کو سیاست کہتے ہیں۔ اگر چند کے لفظ سیاست کا مفہوم کافی وسیع ہے۔
ہزارہ قوم کو شاید صوبائی اسمبلی سے زیادہ ایک نظام کی ضرورت ہے جو اس قوم کی مذہبی و قومی تعلیمات کا سرچشمہ سے انہیں سیرآب کرلئے۔
اس قوم کو جدید بنیادوں پر ترقی دینے کیلئے معاشرے کی از سر نو تشکیل کرئے جس میں اس کی معاشی منصوبہ بندی، نئے سیاسی نصاب اور تعلیمی نصاب میں تبدیلی لائے ۔۔ کیونکہ ماضی کے روایت اور اصولوں سے ہم تجربہ و فائدہ تو آٹھاسکتے ہے لیکن آئیندہ دور کے چلینجز کا مقابلہ کرنے کیلئے اس قوم کو باقاعدہ ایک نظام کی ضرورت ہے۔ دشمن باقاعدہ ایک نظام کے تحت اس قوم کے خلاف سازشیں کرتے ہے اور سازشوں کا صحیح ادراک اور اس کا جواب بھی ایک نظام ہی دے سکتا ہے۔
اور اس صورت میں ہماری بقاء کا راز پوشیدہ ہے۔ بصورت دیگر ہم نے یہاں قائداعظم محمد علی جناح سے عمران خان تک اور نور محمد صراف سے لیکر عبدالخالق تک اس بوسیدہ نظام سیاست کو دیکھ چکے ہے ۔ جس کا اس قوم کو کوئی فائدہ نہیں ہوا ہے۔۔لہذا پھر بھی اس نظام کے امید میں بیٹھنا آزمائے ہوئے کو آزمانے کی مترادف ہوگا۔۔
بلکہ اس کے بجائے ہمیں ایک نظریاتی اور منظم نظام کی تشکیل کیلئے جدوجہد کرنا ہوگا۔۔۔
جان محمد انصاری

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیانت اور خیانت کاروں کا یہ سلسلہ آخر کب تک ؟

خیانت اور خیانت کاروں کا یہ سلسلہ آخر کب تک ؟ تاریخ کے اوراق اس بات کی گواہ ہے کہ تحریکوں اور غلام قوموں کے درمیان ہمیشہ سے غدار پیدا ہوئے ہ...