پیر، 13 اپریل، 2020

امریکہ اور طالبان امن معاہدے کی کہانی


 امریکہ جب بھی کہیں سے گیا ہے وہاں مسائل چھوڈ کر گیا ہے ۔ یہ امریکہ کی فطرت میں شامل ہوتا ہے۔ امریکہ عراق سے نکل گیا لیکن تاحال بھی عراق کی حالات بہتر نہیں ہوئے بلکہ داعش نامی تنظیم جیسے امریکہ اور دوسرے قوتوں کی پوشت پناہی حاصل تھی عراق کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ عراق آج بھی امریکہ کے پیدا کئے ہوئے مسائل حل نہ کرسکے۔ آج ایک اور امن معاہدہ ہورہا یعنی امریکہ باعزت افغانستان سے بھاگنے کی کوشش کررہاہے۔ جو معاہدے امریکہ اور طالبان کے درمیان گزشتہ روز ہوئے ہیں اس کی ثمرات افغان عوام تک  آس وقت تک نہیں پہنچ سکتا ہے جب تک بین الاافغان مذکرات کامیاب نہیں ہوتے۔ جو نکات طالبان کے اب ہے اگر اس میں لچک نہ آئے تو صاف ظاہر ہے کہ مذاکرات ممکن نہی نہیں ہوگی۔ اس من تقریب میں افغان حکومت کے کوئی بھی پور کشش سیاسی شخصیات نے حصہ نہیں لئے۔ دوسری جانب اقتدار کی  رسی کشی بھی ڈاکٹر اشرف غنی اور ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے درمیان موجودہے یہ بھی بین الاافغان مذاکرات
کے راستے میں رکاوٹ ثابت ہوسکتا ہے۔ جس سے طالبان کو کافی فائدہ ہوگا ۔ کیونکہ جب ملک  میں سیاسی استحکام نہ ہو تو لازمی ہے یہ طالبان کے حق میں بہتر ہے۔ ایک لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو یہ ایک طرح کا امن معاہدہ نہیں بلکہ دنیا کو افغانستان کے اندر ایک اور جنگ دیکھنے کو ملے گا یہ اس کا معاہدہ ہے۔ جوکہ افغانستان نوئے کی دہائی کی طرف قدم رکھتا ہوا نظر آتا ہے۔ اگر امریکہ اپنی کہی ہوئی باتوں پر عمل کرتا ہے جو کہ وہ اکثر نہیں کرتا تو اس صورت میں جنگ ہی افغانستان کا مقدر بنے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک ریاست کے اندر دو دو حکومتیں نہیں بن سکتی ہیں۔ طالبان  سمجھتے ہے کہ انہوں نے روس اور امریکہ جیسی عالمی قوتوں کو شکست دی ہے اب وہ باآسانی کابل حکومت کو شکست دینے کی اہلیت رکھتا ہے تو کیوں کر افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات کرلئے اور جمہوریت کے دائرے میں رہتے ہوئے سیاسی جدوجہد کرلئے یہ طالبان کے موجودہ نکات میں نظر نہیں آتے۔
تاریخ گواہ ہے کہ افغانستان کے باشندے آپس میں کبھی بھی ایک بات پر متفق نہیں ہوئے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ آپس میں ایک دوسرے کو برداشت اور حقوق دینے کی حوصلہ نہیں رکھتے تھیں۔ امن کی کنجی ابین الاافغان مفاہمت ہے نہ کہ امریکہ طالبان ڈیل۔
پاکستانی صحافی سیلم صافی لکھتے ہے کہ اگر اسی کی دہائی میں خلق اور پرچم کے رہنماوں کے برہان الدین ربانی اور حکمت یار جیسے قائدین کے ساتھ بین الاافغان مذکرات کامیاب ہوتے تو سوویت یونین کو مداخلت کا موقع نہیں ملتا ۔ پھر اگر مجاہدین آپس میں نہ لڑتے تو طالبان کا ظہور نہیں ہوسکتا تھا۔ پھر اگر طالبان اور مجاہدین کے بین الاافغان مذاکرات کامیاب ہوتے اور ان کے درمیان جنگیں نہ ہوتی تو امریکہ اور نیٹو کو مداخلت کا موقع نہیں ملتا۔ جنگ کی صورت میں حالات ماضی کے مقابلے میں بہت خطرناک ثابت ہوسکتے ہیں 
جان محمد انصاری

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیانت اور خیانت کاروں کا یہ سلسلہ آخر کب تک ؟

خیانت اور خیانت کاروں کا یہ سلسلہ آخر کب تک ؟ تاریخ کے اوراق اس بات کی گواہ ہے کہ تحریکوں اور غلام قوموں کے درمیان ہمیشہ سے غدار پیدا ہوئے ہ...