Israel لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Israel لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

جمعہ، 7 جنوری، 2022

خیانت اور خیانت کاروں کا یہ سلسلہ آخر کب تک ؟

خیانت اور خیانت کاروں کا یہ سلسلہ آخر کب تک ؟


تاریخ کے اوراق اس بات کی گواہ ہے کہ تحریکوں اور غلام قوموں کے درمیان ہمیشہ سے غدار پیدا ہوئے ہے۔ 


شروعات کرتے ہے ہم اسلامی تاریخ سے اسلامی تاریخ میں سب سے پہلے جنگ احد کے میدان میں ہمیں اس کا زکر ملتا ہے کہ راستے سے عبداللہ ابن صابر اپنا لشکر الگ کردیتی ہے اور میدان جنگ میں مسلمانوں کا فتح دیکھ کر کچھ لوگ اپنے ذاتی خواہشات  کے تحت مقرر جگہ سے ہٹ جاتے ہے تاکہ مال غنیمت سمیٹ سیکھے ۔ 


اسی وجہ سے مسلمانوں کو اس جنگ میں شکست ہوتی ہیں۔  دوسری سب سے بڑی خیانت وہ امت کی جانب سے جنگ صفین اور پھر کربلاء کے میدان میں  ہمیں نظر آتا ہے۔  


مسلمان ممالک اور مسلمانوں کی زاول تو اس وقت سے شروع ہوتا ہے جب اہلیبت رسول (ص) سے امت خیانت کرنا شروع کردیتی ہے۔ 


برصغیر میں انگریز کبھی بھی حکومت کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتے تھے جب تک کہ مقامی  اقوام کے اندرسے کوئی غداری نہیں کرتے۔ ۔


میسور کا بادشاہ حیدر علی کا بیٹا  ٹپو سلطان اور بنگال کا بادشاہ نواب سراج الدولہ  کے اپنے وزیروں میں سے میر صادق اور میر جعفر جیسے غدار اور قوم فروش اگر پیدا نہیں ہوتے تو انگریز کبھی بھی حکومت قائم نہیں کرسکتی۔ 


ہزارہ قوم کی تاریخ میں بھی ایسے بہت سارے افراد کی ناموں کا ہمیں ذکر ملتا ہے 


جنہوں نے چند اعلی عہدوں اور چند روپیوں کی خاطر اپنے قوم سے غداری کا طوق اپنے گلے میں سجائے۔ 


گزشتہ بیس سالہ قتل عام ہمارے سامنے اس کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ 

کہ جہاں لوگ نان شعبنہ کے محتاج تھے وہی اس قتل عام کے دوران کچھ  لوگ ارب پتی بن گئے۔ 


دکھ کی بات یہ ہے کہ ہمارے گھروں کی حالت زار یہ ہے کہ والدین ہی تک گھروں سے میر جعفر و میر صادق تربیت کرتے ہوئے معاشرے کو افراد دے رہے ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں بچپن میں ہی والدین اپنے لوگوں کو خود عرضیاں سیکھائیں وہاں بلا کیسے ٹیپو سلطان ، نیلسن مینڈیلا . سقراط ، عبدالستار ایدھی جیسے شخصیات پیدا ہونگے۔ 


اسے معاشرے اور قوم کے ساتھ کیا کچھ نہ ہو جو ہر گھر سے ایک میر جعفر و میر صادق تربیت دے رہے ہیں۔ 


اب تو کئ نسلوں کی مسلسل غلامی کرنے کی وجہ سے آپ کو ہزارہ معاشرے میں غلامی وارثت میں ملتی نظر آئے گی۔۔ 

اب تو یوں ایسا لگتا ہے کہ خدا نخواستہ ہمارے جسم کے شریانہ میں موجود خون میں قوم سے خیانت اور غداری شامل ہے ۔  

کہتے ہے کہ جہاں لوگوں کی خمیر میں غداری شامل ہو وہاں آزادی اور استقلال کی باتیں کرنا خود کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔۔۔

جان محمد انصاری


ہفتہ، 18 اپریل، 2020

نوجوانان ذمہ دار قبول کیجئے !!!


زندگی میں آج جہاں پر بھی آپ کھڑے ہے وہ دراصل آپ کے ماضی کے خیالات اور عمل کا نتیجہ ہیں۔
کیونکہ ہر جانے والے ایام آنے والے آیام کو جنم دیتا ہیں۔ آج جو کچھ حاضر ہے وہ کبھی مستقبل ہوا کرتاتھا اور جو کبھی ماضی کہلائے گا۔ وقت کا سفر جاری ہیں اسے ہم صرف اپنی محنت، جدوجہد اور کوششوں سے اپنے مفاد میں استعمال کرسکتے ہیں۔ وقت کی سے کوئی بھی زی شعور انسان نکار نہیں کرسکتا ہے۔ اس کی قدروقیمت اگر روزمرہ کی زندگی میں دیکھنا چاہیتے ہوں تو صبح کی اخبار کو دیکھ لوں جو اخبار صبح ایک عدد 20 روپے کا ہوتی ہےوہی اخبار شام کو کوئی 20 روپے فی کلو لینے کو تیار نہیں ہوتا ۔ ہم میں سے ہر کسی نے ہر کسی نے شاید بہت سی کوشش کئے ہونگے کہ اپنی زندگیوں میں تبدلی لائے لیکن صرف چند دن کے بعد کم بخت نفس خود بخود انسان کو واپس اسی جگہ پر لاکر کھڑا کردیتا ہے جہاں سے ہم لوگوں نے شروع کی تھی۔ لیکن دراصل یہ باتیں غلط ہے کیونکہ آپ نے سنجیدگی سے کوشش کی ہی نہیں ہونگے۔ کیونکہ خیالات اور احساسات کی ڈور آپ کے اپنے ہاتھوں میں ہی ہیں۔ زمہ داری قبول کیجئے! ناکام لوگوں کی سب سے بڑی عادت اور نشانی یہ ہے کہ وہ کوئی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے صرف شکوہ و شکایت کے میدان کے غازی ہوتے ہے۔ وہ اپنی ناکامیوں کا الزام اپنے والدین ، وسائل کی کمی، خراب ماحول اور برئے لوگوں اور قمست کے کندے پر ڈالتے ہے۔ اور خود کو معصوم،شریف النفس انسان اور غیر جانبدار دکھاتے ہے۔ اور وہ خود زمہ داری لینے کو تیار نہیں ہوتے ۔ اسی وجہ سے وہ زندگی میں کبھی خوش نہیں رہ سکتے ہے۔ انسان کو اس کی زندگی میں تین چیزوں پر مکمل کنڑول ہے۔ خیالات،تصورات اور عمل و کردار آپ تینوں کا مثبت استعمال کرکے اپنی زندگی کو کامیاب اور ان کے منفی استعمال سے آپنے زندگی کو بگاڈ اور ناکام بھی بناسکتے ہیں۔ یہ میں نہیں کہتا بلکہ سائنس اور انسانی شعور کہتاہے۔ لہذا ایک عالم دین اور بزرگ وار علامہ محمد آصف حسینی صاحب فرماتے تھے کہ ہمارے نوجوان بے عمل نہیں بلکہ بے خبر ہے ۔ لہذا اسلام قوانین اور شریعت بھی بے خبر لوگوں پر اپنا ہاتھ ٹھوڈا بہت نرم رکھتاہے لیکن کسی چیز کے بارے میں آگاہی کے بعد اگر اس پر عمل نہ کاجائے تو آپ کی اپنی بدقسمتی ہوگی۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ تبدیلی چاہتے ہو ۔ چاہیے وہ تبدیلی آپ کی ذات میں ہو یا معاشرے میں دونوں صورتوں میں آپ کو زمہ داری قبول کرنے ہونگے۔ اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں۔
بقول شاعر :-
خود بخود ٹوٹ کے گرتی نہیں زنجیر کبھی
بدلی جاتی ہے بدلتی نہیں تقدیر کبھی
جان محمد انصاری

منگل، 14 اپریل، 2020

سیاسی عدم پختگی



ہزارہ قوم کو سب سے زیادہ نقصان عدم سیاسی بختگی اور فکری پسماندگی کی وجہ سے لاحق ہوئے ہیں۔
یہ بات دراصل 1979 کی ہے جب سوویت یونین افغانستان میں داخل ہوچکا تھا۔ امریکی نواز سیاستدان،جنرل اور مولویوں نے امریکہ کے ایماں پر ایسے اسلام اور کفار کے درمیان جنگ کا نام قرار دیا۔ امریکہ منصوبہ بندی ، عرب ریال اور پاکستان انسانی وسائل مہیا کرنے لگا۔ اس دوران افغانستان کے پڑوسی ملک ایران کے اندر شاہ پہلوی کے خلاف انقلاب برپا ہوا۔ اور اس کے نیتجے میں ایک نئی حکومت جنم لی۔
دنیائی اسلام نے سوویت یونین کے خلاف جہاد کا اعلان کردیا۔
مجاہدین کی امداد کیلئے صوبہ سرحد اور فاٹا میں کیمپ بنائےگئے ۔ اور صوبہ بلوچستان کے جنوبی پشتون خواہ میں بھی کئی کیمپ تعمیر ہوئے جہاں سے ایک کثیر لوگوں کو تربیت دے کہ افغانستان بھجوادیا جاتا تھا۔
افغانستان میں بسنے والے اقوام جن میں ہزارہ ،پشتون ، تاجک اور ازبک شامل ہے سب کے سب سوویت یونین کے خلاف صف آرہا ہوگئے۔
افغانستان کے اندر ہزارہ قوم کے کئی حزب بنے ، جن می ں حرکتی ، سپاہ حزب وحدت شامل تھیں۔ حزب وحدت اسلامی ہزاروں کا وہ واحد جماعت تھا جس میں مذہبی، قوم پرست، کیمونسٹ اور دوسرے افکار رکھنے والے ہزارے سب شامل تھیں۔ اس دوران کوئٹہ میں آباد ہزاروں نے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے ہتھیار اور پیسے لیتے رہے۔ اور روزانہ کی بنیاد پر عملدارروڑ پر واقعہ تنظیم بیلٹنگ سے ٹھینک، اور ہتھیاروں سے بھری گاڑیاں افغانستان روانہ کئے جاتے تھیں۔ دس سال کی مسلسل جنگ کے بعد جب سوویت یونین کی واپسی ہوئی تو یہ مجاہدین جو اللہ کی راہ میں کفار کے خلاف جہاد کرنے کے دعویدار تھے اقتدار کیلئے آپس میں دست و گریبان ہوئے اور آخر میں نیتجہ یہ نکلا کہ طالبان نامی گروپ کا ظہور ہوگیا۔ جیسے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ اب پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اسی گروپ کا حامی تھا جو کہ افغانستان کے اندر ہزارہ قوم کے خلاف بھی سربکف تھے۔ جو لوگ کوئٹہ کے اندر پہلے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے مراعات لیتے تھے اب وہ بھی بے بس ہوگئے اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر بہت سے ایسے بھی افعال سر انجام دی جو میں سمجھتا ہوں کہ یہاں قابل ذکر نہیں ہزارہ قوم فکری پسماندگی اور سیاسی عدم دور اندیشی کی کمی کی وجہ سے کئی مرتبہ دیگر اقوام کی مفادات کیلئے دانستہ و نادانستہ طور پر قربانی کا بکرا بن چکے ہیں۔۔
اب ایک مرتبہ پھر افغانستان میدان جنگ بننے جارہاہے ۔
امریکہ کے انخلاء کے بعد طالبان اور بے حس افغان حکومت کے درمیان اقتدار کیلئے سخت ترین جنگ ہونے جارہا ہے ۔
جس سے واسطہ اور بلاوسطہ ہزارہ قوم متاثر ہوگا۔
خطے کے اس طرف آباد ہزارہ قوم کے قائدین طالبان کے خلاف مزاحمت کا راستہ انتخاب کرینگے یا مفاہمت سے کام لیےگئے دونوں صورتوں میں ہمیں انتہائی باریک بنی اور دوراندیشی سیاست اختیار کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر ہمارے لئے حالات ماضی کے مقابلے میں کئی زیادہ خطرناک ثابت ہونگے ۔
جان محمد انصاری

کیا ہزارہ قوم کو ایک تعلیمی نصاب کی ضرورت نہیں !!!

ہزارہ قوم کا تعلیمی نصاب !!!
کسی بھی قوم کی ترقی کا راز اس کے نظام تعلیم میں پوشیدہ ہے۔ کیونکہ گھریلو تربیت کے بعد قوم کے بچوں اور بچیوں یعنی ملت کے سرمایوں کو تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے تعلیمی اداروں میں داخل کروایا جاتا ہے۔ جس کا مقصد ہوتا کہ بچہ تعلیم حاصل کرکے اپنی انفاردی و اجتماعی زندگی کو بہترین طریقے سے گزار سکے۔۔۔
جہاں کتابوں کی شکل میں موجود علم کے ذخائر ان کے پاک ذہنوں تک اساتذہ کرام کی کرام سے پہنچایا جاتا ہیں۔
یہی طلبہ و طالبات جو ابھی چھوٹے کلاسز میں پڑھتے ہیں۔ یہی آگے جاکر اس قوم وملت کی رہنمائی کرتے ہے۔
کیونکہ فارسی زبان میں ایک کہاوت ہے کہ '' طفیل امروز قائد فردا "
بچوں کی تربیت کرنے کیلئے تا کہ وہ کل قوم و ملت کی خدمت کرسکے اس وجہ سے قوم و ملت کے بزرگ اہل دانش و قلم کار حضرات ان کیلئے ایک نصاب کا تعین کرتے ہیں۔ اس نصاب میں ایسے مواد شامل ہوتے ہے جو حال اور مستقبل کے حالات سے نمٹنے کیلئے قوم و ملت کے معماروں کو آمدہ کیا جاتا ہیں۔ ان کی انفرادی شخصیت سے لیکر اجتماعی شخصیت سازی میں ماحول، اساتذہ کرام ، والدین اور معاشرے کے ساتھ ساتھ نصاب کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہیں۔ لیکن یہ بات انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑھ رہا ہے کہ ہزارہ معاشرے میں اس سمت پر بہت کم توجہ دیا گیا ہے اور دیا جارہا ہے۔ جب دنیا کے دوسرے اقوام سائنس اور دوسرے علوم کے میدان میں آئے روز نئے نئے دریافت کررہے تھے ۔ وہی ہم اس وقت پہاڑ کی غاروں میں اپنی بقاء کی جنگ لڑھ رہے تھے۔
16 صدی میں دنیا جہاں سائنس سمت دوسرے مضامین میں ترقی کررہے تھے اور اپنے لئے تعلیمی اداروں کی بنیاد رکھ رہے تھے وہی ہزارہ قوم کا مذہبی و قومی نصاب تعلیم سی پارہ، قرآن مجید صرف تلاوت کی حد تک، اس کے بعد پنچ کتاب اور حافظ کی اشعار کا مجموعے پر مشتمل تھا۔
کیا ہزارہ قوم اس نصاب سے دنیا کے دوسرے اقوام کی برابری کرسکتے تھے۔ ہرگز نہیں پچھلے دو سو سالہ ظلم و جبر کے بعد بھی ہزارہ قوم کے دانشوروں اور اسٹیک ہولڈرز کو ایک نئے نصاب کی تشکیل دینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئے۔۔۔
لہذا دنیا مقابلہ کرنے اور اپنی بقاء کی خاطر اب ہزارہ قوم کو ایک ایسی نصاب کو ضرورت ہے جو اس کی دنیائی و آخرئ زندگی یعنی مذہبی و قومی تعلیمات و ضروریات کو پورہ کرسکے۔ یہ کام صرف ایک کمیونٹی نظام کی شکل میں ایک نظام ہی کرسکتا ہے۔ جس کیلیے ہمارے نوجوانوں کو جدوجہد کرنا ہوگا۔۔۔۔
جان محمد انصاری

اتوار، 5 اپریل، 2020

یہودیوں کا قومی و مذہبی نصب العین!!!


یہودیوں کو پرانے زمانے میں ایک خاص قسم کا لباس پہنایا جاتا تھا تاکہ دوسرے لوگ دور سے ہی انہیں دیکھ کر پہچان سکے کہ یہ یہودی ہے۔ دنیا کے ہر ممالک میں انہیں کوئی انسانی حقوق میسر نہیں تھے جیسے آج کل دنیا کے کسی ممالک میں بھی ہمیں کوئی حیثیت حاصل نہیں ہر جگہ ہمیں قربانی کے بکرے کے طور پر استعمال کئے جاتے ہیں۔ لیکن پھر تاریخ نے یہود پر واضح کردیا کہ وہ دنیا میں کہیں بھی بطور یہودی نہیں پنپ سکتے۔ انہیں مختلف تحریکوں اور نظریاتی فلسفوں میں پناہ لینا پڑےگی، تاجر اور صنعت کار بن کر مزدوری کمانا ہوگی اور ہر ملک کے حکمران طبقے میں اپنے لئے جگہ بنانا ہوگی، دانشوروں کا روپ دھارنا ہوگا، سائنس کے میدان میں کارنامے انجام دینا ہوں گے تا کہ وہ ہر کسی کی ضرورت بن جائیں۔ یہودی یہ بات جانگے کہ جب تک دنیا کو آپ کا کوئی ضرورت نہ ہو تو وہ آپ کو اپنی مقاصد کیلئے قربانی کا بکرا بناتا جائےگا۔ اور جب تک آپ طاقتور نہیں ہونگے آپ کی آواز میں بھی اسحتکام اور بلندی پیدا نہیں ہوگی اور پھر آپ دنیا کے کسی بھی حالات یا معاملات میں کوئی بھی کردار ادا نہیں کرسکتے ہے ۔ یہودیوں نے یہ بات درک کردی اور دنیا کے جس بھی کونے میں رہے لیکن ہمیشہ دنیا پر حکومت اور ظلم و جبر سے نجات حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کرتے رہے۔۔۔
اقوام کی تقدیر افراد کے ہاتھوں میں ہیں۔ اور قیمتی افراد قوم کے ادارے ہی بناتے ہے ۔ اسی کے پیش نظر ایک جرمن یہودی موسی ہپٹس 1875-1812 نے صیہونیت کا علم بلند کردیا۔ چنانچہ مختلف ممالک میں آباد زندگی کے مختلف شعبوں میں مصروف یہودیوں نے مرحلہ وار پروگراموں کے تحت فلسطین کا رخ کردیا ۔ ہماری قوم میں بھی ہر طرح کے افراد پائے جاتے ہے یعنی مختلف شعبہ ہائی زندگی سے تعلق رکھتے ہے اگر انہیں ایک سمت اور ایک نظام اور مقصد دیا جائے تو یہ منتشر طاقت متحدہوکر اس قوم کو غلامی و جاہلیت کے اندھیرے سے نکال سکتا ہے۔ اور یہ یہودیوں کا طویل المعیاد منصوبہ تھا۔ کیا ہمارے پاس بھی کوئی طویل المعیاد منصوبہ ہے اس ظلم و جبر سے نکلنے کا۔ ؟؟؟ یہودیوں کی کامیابی کا راز یہ تھا کہ انہوں نے صیہونیت کو قومی اور مذہبی نصب العین قراد دیا تھا۔ ۔۔
ہمیں بھی ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جیسے ہم قومی و مذہبی طور پر اپنا نصب العین قرار دے سکے ۔۔
خواجہ کمیونٹی سسٹم، میمن کمیونٹی سسٹم اور آغا خان کمیونٹی سسٹم اس کی بہترین مثالیں ہیں۔
جان محمد انصاری

خیانت اور خیانت کاروں کا یہ سلسلہ آخر کب تک ؟

خیانت اور خیانت کاروں کا یہ سلسلہ آخر کب تک ؟ تاریخ کے اوراق اس بات کی گواہ ہے کہ تحریکوں اور غلام قوموں کے درمیان ہمیشہ سے غدار پیدا ہوئے ہ...