کسی بھی قوم یا معاشرے کو سمت دینے والے اس قوم کے اندر بیٹھے ہوئے سیاسی اکابرین، علماءکرام، ادیب ،سماجی تنظیمیں، سول سوسائٹی کے لوگ ،اساتذہ کرام، طلباء و طالبات ،تاجر طبقے سمیت ہر وہ فرد قوم یا طبقہ اس میں شامل ہوتا ہے جو معاشرے میں اثرورسوخ رکھتے ہیں۔ جیسے دنیا اشرافیہ ، حواض ، اسٹیک ہولڈرز ، وغیرہ جیسے نام و القابات سے یاد کرتے ہیں۔ دنیا کی ہر قوم جس طرح آپس میں مختلف قبائل پر مشتمل ہوتی ہے ویسے ہی ہزارہ قوم بھی بھی کئی قبائل پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جیسے ہم اپنی مادری زبان ہزارگی میں طائفہ بولتے ہے۔ اب تو یہ بھی ایک بحث سخن بن چکی ہے کہ کیا ہزارگی ایک الگ زبان کی حیثیت رکھتا ہے یا پھر فارسی دری کا ایک انتہائی خوب صورت دلکش لہجہ ہے۔ اس بحث کی طرف اب ہم نہیں جاتے بلکہ کہنے کا مقصد یہ تھا کہ ہم ہمیشہ اہم کاموں کو چھوڈکر ثانوی حیثیت رکھنے والے اعمال و اشیاء کے پیچھے اپنا رخ کرتے ہے یہ ہمارے نفسیات میں شامل ہے اس کا اندازہ آپ میرے اس کالم میں کرلئے کہ موضوع مقصد کی جانب حرکت کرنے کے بجائے میں ہزارگی زبان کی تشریح پر چلا گا ۔ کیا کرو میں بھی تو آخر میں ایک ہزارہ ہوں۔ اور میرا تعلق بھی اسی معاشرے سے ہیں۔ مزید دوسری طرف نہیں جاتے بلکہ واپس اپنے موضوغ سخن پر آتے ہے۔ ہزارہ معاشرے کے اندر ہر طائفے کے اپنی اپنی ایک چندہ ہوتا ہے ۔ بہ الفاظ عام گروپ ہوتا ہے ۔ جس کے سربراہ کو سرچندہ نام کے خطاب سے نوازا جاتا ہے۔ طائفے میں موجود جیتنے بھی گھرانے ہوتے ہے ، سرچندہ ان کے اجتماعی زندگیوں کے فیصلہ کرنے میں اختیار رکھتے ہیں۔ جو سرچندہ فیصلہ کرتا ہے اسے تمام اراکین باخوشی یا بہ غم مانا ہی پڑتا ہے۔ وہ اجتماعی فیصلہ کے اختیارات رکھتے ہے۔ فکر کی بات یہ ہے کہ ان میں اکثریت بےچارے تعلیم یافتہ نہیں ہوتے بلکہ صرف حاجی یا کربلائی ہوتے ہے کیونکہ سرچندہ بنے کا معیار ہزارہ قوم میں صرف دولت مند ہونا ہی کافی ہوتا ہے ۔ معیار صرف دولت ہے جس کے پاس بھی ہو وہ بندہ اہل ہے کہ سرچندہ بن جائے چاہے وہ معاشرتی ، سیاسی،اخلاقی،نفسیاتی اور تعلیمی شعور رکھتا بھی ہوں یا نہیں کوئی مسلہ نہیں ہے بس طائفے کے لوگوں کو ہفتے یا مہینے میں ایک یا دو مرتبہ دعوت پر کھانا دے سکے بس ۔
ان میں اکثریت زیادہ تعلیم بھی نہیں رکھتے ہے ۔ ہزارہ قوم کی سب سے بڑی خامی یہی ہے کہ یہ اپنے زندگی کے اجتماعی اختیارات کو ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں تھاماتے ہے جو حالات حاضرہ ، سیاسی و سماجی بصیرت سے پیدل ہوتے ہے۔ جو صرف اپنی ذاتی مفادات یا پھر ذاتی تجربے کی بنیاد پر فیصلے و اعمال سرانجام دیتے ہے جو اکثر موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگی نہیں رکھتے بلکہ ذمینی حقائق کے بھی متضاد نکلتےہیں۔
ہزارہ معاشرے کے اندر جتینے بھی ایسے ادارے ہے جو اس قوم کی اجتماعی زندگیوں سے تعلق رکھتے ہے۔ وہاں نوجوانوں کے بجائے ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہی ہیں۔ جو بے چارے فکر سے قاصر ہے۔ اس موقعے پر مجھے علامہ اقبال کا ایک شعر یاد آرہاہے ۔ قارئین محترم اگر آپ چاہئے تو عرض کرلوں۔ اقبال نے کہا تھا
یہاں ہر شاخ پر بیٹھے ہے آلو
انجام گلستاں کا کیا ہوگا۔
گلستان کو تباہ کرنے کیلئے ایک الو کافی ہوتا ہے ہزارہ معاشرے میں تو ہر ایک عوامی اداروں پے الو بیٹھے ہوئےہیں۔ انجام معاشرہ اور آئیندہ نسلوں کا کیا ہوگا۔ یہ اللہ اور آپ قارئین محترم بہتر جانتے ہیں۔ لہذا اب ہزارہ معاشرے کو ایک ایسی ادارے کی ضرورت ہیں کہ جس میں باقی تمام سماجی و معاشرتی ،تعلیمی و فرہنگی، مذہبی و قومی اقدار ، کاروباری سمیت تمام ادارے جو ایک معاشرےیا قوم کی ضرورت ہے ایک عظیم ادارے کے اندر انضمام ہوں۔ جیسے آپ ایکب کمیونٹی نظام بھی کہ سکتے ہیں ، ۔ جس کی قیادت نوجوان نسل ہاتھوں میں ہوں ۔ جب سب ہی ایک سرچشمہ سے پانی پیئےنگے تو آپس میں اختلاف کا کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گئی ۔ کیونکہ تمام طرح بے اتفاقیوں کے پیچھے مفادات کا کالا ہاتھ ہوتا ہے۔ جب کے مفادات ایک سرچشمہ ہونگے تو اس سے آپس میں اتحاد و اتفاق پیدا ہوگا ۔ جو کسی بھی قوم کی کامیابی کا ضامن ہوتا ہے ۔ شاید آپ لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال آیا ہوگا کہ بالا آخر ان سب کو اکٹھا کیسے کیا جائے جیسے پہلے بھی میں ذکر کرچکا ہوں کی بے اتحاد کے پیچھے مفادات کا ہاتھ ہوتا ہے ۔ مفادات کا سرچشمہ ایک ہونے سے آپس میں اتحاد و اتفاق پیدا ہوتے ہے کیونکہ ہمارے ہاں اختلافات نظریات پر نہیں بلکہ ذاتی و مفاداتی اختلافات ہوتے ہیں۔ یہ معاشرہ اس سطح فکری تک نہیں پہنچا ہے کہ یہاں کے لوگ فکر و نظریاتی اختلاف کرئے اور منطق و عوامی فلاح و بہبود کی بنیاد پر اپنے اجتماعی فیصلے و رہبر منتخب کرلئے لہذا آپ کو سمجھانے کی عرض سے ایک مثلا دیتا ہوں کہ مثال کے طور پر ایک کمرہ جماعت میں تمام طلباء و طالبات پڑھتے ہے ۔ جن میں مختلف قومیت ،مذاہب سے طلباء و طلبات تعلق رکھتے ہے ۔ ہر ایک بنیادی طور پر آپس میں ایک دوسرے متضاد ہوتے ہے ، علاقائی ، لسانی ، فرہنگی ،مذہبی اور قومی بنیادوں پر آپس میں ایک دوسرے سے الگ ہونے کے باوجود ایک کمرہ جماعت میں آپس میں کیوں بیٹھتے ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان سب کا مفاد آپس میں ایک ہے ۔ وہ سب تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس صورت میں ہی ہماری بقاء پوشیدہ ہے کہ اہم ایک ایسے ادارے کی بنیاد رکھے۔ اور اس نظام کے تحت ہی ہم لوگ اس قوم کو ترقی و کامرانی کی سمیت پے لے جاسکتے ہیں۔
جان محمد انصاری

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں