جمعہ، 3 اپریل، 2020

ہزارہ قوم کے ساتھ قادیانیوں جیسا سلوک!!!


آج ہزارہ قوم پاکستان میں رہنے والے دوسرے اقلیتوں کے مقابلے میں بدترین زندگی گزاررہے ہیں۔ آئین پاکستان کے تحت گستاخ رسول (ص) اور کافر قرار دینے کے بعد جن حالات کا قادیانیوں کو سامنا تھا آج وہی حالات ہزارہ قوم کو سامنا ہے۔ پاکستان آبادی کے لحاظ سے 97 فیصد مسلم اور 3 فیصد غیر مسلم آبادی پر مشتمل ہے۔ گوگل ویکی پیڈیا کے مطابق پاکستان میں قادیانیوں کی آبادی 4 ملین ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ریاست پاکستان میں ان کے جان، مال، اولاد اور کاروبار محفوظ نہیں تھے بلکہ آئیے روز انہیں مختلف گلی چوراہوں پر کھلے عام قتل کردیے جاتے تھے۔ جس طرح ہزارہ قوم کا بھی اسی طرح قتل عام کیا جارہا ہے۔ پاکستان کے اندر اگر کسی کو معلوم ہوجائے کہ یہ بندہ قادیانی کمیونٹی سے تعلق رکھتا ہے تو اس سے سلام و دعا ترک کردیاجاتا تھا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ان کے اوپر ہر قسم کی پابندیاں لگائی گئی تھی۔ جس طرح ہمارے اوپر بھی ہر قسم کی سیاسی فارمولے تجربہ کئے جاتے ہے۔ جس طرح لوگ ان سے کاروباری، سماجی و معاشرتی روابط رکھنے سے اجتناب کرتے تھے اور ہر جگہ ان کے جان و مال کے درپے ہوتے تھے۔ ٹھیک ہزارہ قوم کو بھی یہی حالات کا سامنا ہے۔ قادنیوں کو کسی بھی قسم کا سیاسی آزادی حاصل نہیں تھا اور نہ ہی ان کے پاس کوئی سیاسی جماعت موجود ہے۔ وہ اپنی شناخت چھپاتے پھرتے تھے اپنی جان کی امان کی خاطر ہم بھی اپنی پہچان اکثر چھپاتے نظر آتے ہے تا کہ اگر کسی علم ہوجائے تو ہماری زندگیاں خطرے میں پڑھ سکتا ہے۔ پھر انہوں نے اپنا تقدیر بدل ڈالا آج یہ کمیونٹی اتنا طاقتور ہے کہ اس کا انداز قومی اسمبلی کے حلف بیان میں ختم نبوت کے حروف کو پاک کرنے سے لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اپنی ضرورت زندگی کو پورہ کرنے کیلئے اپنا ایک خود کفیل کمیونٹی سسٹم بنایاہے۔ جو پاکستان اور دنیا بھرکے قادیانیوں کی تعلیم، صحت، روزگار ،کاروبار ، مذہبی تعلیمات نیز ضروریات زندگی کے ہر سہولیات مہیا کرتے ہے۔ انہیں پاکستان کی 97 فیصد مسلمانوں کی ضرورت ہی نہیں کہ وہ آکے ان کو تعلیم، صحت، کاروبار، نوکریاں دے بلکہ وہ ایک خودمختار ریاست کے اندر رہتے ہوئے ایک ریاستی ڈھانچہ بنائے ہوئے ہے۔ پاکستان کی رہاستی ادارے اور مسلم آبادی خود ان کے محتاج ہوچکے ہے۔ واگر نہ انہیں اب تک نسل و نابود کرچکے ہوتے۔ آج ریاست پاکستان اپنی مفادات کی خاطر انہیں تحفظ دینے پر مجبور ہے۔
ہزارہ قوم کو بھی اپنے لئے ایک ایسے کمیونٹی نظام کی تشکیل کرنا چاہئے جو اس قوم کی دنیاوئی و اوخری ضروریات کو پورہ کرسکے۔ اس طرح کی ایک نظام میں ہزارہ قوم ایک خودمختار اور خود کفیل قوم ہوگا۔ اس وقت ہمیں کوئی بھی نہیں مارسکتا ہے ۔ ریاست پاکستان اپنی مفادات کو بچانے کی خاطر جس طرح آج قادیانیوں کو تحفظ دیتے نظر آتے ہے ٹھیک اسی طرح وہ ہمیں بھی اپنی مفادات کو بچانے کی خاطر تحفظ دینے کو اپنا اعزاز سمجھے ینگے۔۔۔ اسی طرح کے ایک نظام میں ہی ہماری بقاء کا راز پوشیدہ ہے۔ ہم نے پچھلے 70 سالوں سے جمہوریت کے ساتھ انتخابات میں حصہ لیتے رہے اور اپنی قسمت آزماتے رہے لیکن سوائے گریہ و زاری ہماری مقدر میں کچھ بھی نہیں آیا ۔۔۔۔۔
اس نسل کو صرف نسل کشی، تعصب اور محرومیوں کا تحفہ ملا۔۔۔۔
جان محمد انصاری

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیانت اور خیانت کاروں کا یہ سلسلہ آخر کب تک ؟

خیانت اور خیانت کاروں کا یہ سلسلہ آخر کب تک ؟ تاریخ کے اوراق اس بات کی گواہ ہے کہ تحریکوں اور غلام قوموں کے درمیان ہمیشہ سے غدار پیدا ہوئے ہ...