ہزارہ قوم کو بھی اپنے لئے ایک ایسے کمیونٹی نظام کی تشکیل کرنا چاہئے جو اس قوم کی دنیاوئی و اوخری ضروریات کو پورہ کرسکے۔ اس طرح کی ایک نظام میں ہزارہ قوم ایک خودمختار اور خود کفیل قوم ہوگا۔ اس وقت ہمیں کوئی بھی نہیں مارسکتا ہے ۔ ریاست پاکستان اپنی مفادات کو بچانے کی خاطر جس طرح آج قادیانیوں کو تحفظ دیتے نظر آتے ہے ٹھیک اسی طرح وہ ہمیں بھی اپنی مفادات کو بچانے کی خاطر تحفظ دینے کو اپنا اعزاز سمجھے ینگے۔۔۔ اسی طرح کے ایک نظام میں ہی ہماری بقاء کا راز پوشیدہ ہے۔ ہم نے پچھلے 70 سالوں سے جمہوریت کے ساتھ انتخابات میں حصہ لیتے رہے اور اپنی قسمت آزماتے رہے لیکن سوائے گریہ و زاری ہماری مقدر میں کچھ بھی نہیں آیا ۔۔۔۔۔
اس نسل کو صرف نسل کشی، تعصب اور محرومیوں کا تحفہ ملا۔۔۔۔
جان محمد انصاری

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں