پاکستان میں دوسرے اقوام اپنی حقوق کیلئے احتجاج و مظاہر کرتے ہے۔
وہ کاروبار ، روزگار، اور زندگی کے دوسرے سہولیت کا مطالبہ کرتے ہیں۔
لیکن ہزارہ برادری کا ہر احتجاج مظاہرہ مطالبہ صرف اور صرف یہی ہوتا ہے ہمیں زندہ رہنے دیا جائے۔
ہم غلام ہی صحیح لیکن ہمیں صرف جینے کا حق دیا جائے۔
لوگ آپ کو زندہ رہنے کا حق دینے کو تیار نہیں کیا وہ آپ کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرینگے۔۔۔
آخر یہ ظلم کب تک ؟؟؟
کیا ہمارے مردوں میں غیرت نہیں ہے کہ ہم ہمیشہ زندگی کا بھیک مانگتے پھیرے

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں