ہفتہ، 25 اپریل، 2020

سوشل میڈیا اور احساس کمتری



ہمارےہاں نوجوان حضرات آج کل بڑے تیزی سے احساس کمتری میں مبتلا ہورہے ہیں۔ جس کا عملی مظاہرہ ہم معاشرے میں موجود نوجوانوں کے اخلاق و کردار سے دیکھ سکتے ہیں۔
کہ کس قدرہمارے نوجوان احساس کمتری میں مبتلاء ہے۔ ماہرین نفسیات کی ایک ریسرچ سے یہ ثابت ہوا ہے کہ جو نوجوان سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال کرتے ہے ۔ ان کا احساس کمتری میں مبتلاء ہونے کا زیادہ امکانات پایا جاتا ہیں۔ جس کے بعد وہ مکمل طور پر عملی زندگی میں ناکام ہوتے ہے ۔ کئی مرتبہ تو نوجوانوں کا خودکشی کے اطلاعات بھی ملے ہے۔ احساس کمتری دراصل ایک طرح کی نفسیاتی بیماری ہے جس کے بارے میں ہمیں علم ہونا ضروری ہے ۔ قارئین محترم
ماہر نفسیات ڈاکٹر صابر چوہدری کے
کے مطابق احساس کمتری ایک ایسی ذہنی کیفیت کا نام ہے جس میں انسان اپنا مقابلہ کسی سے کرنے کے بعد خود کو کم تر سمجھے۔
ماہر نفسیات ایڈلر کے مطابق احساس کمتری انسان کو بہتر بننے کی وجہ سے بنتا ہے مگر یہ بہتر بننے سے روکے تو یہ بیماری بن جاتا ہے۔
احساس کمتری کے شکار لوگوں کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ یہ لوگ تعریف کے معاملے میں یا تو بالکل بھی تعریف سننا پسند نہیں کرتے۔ کیونکہ دل میں سوچتے ہیں کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے ، یاپھر تعریف کے بھوکے رہتے ہیں کہ کاش کوئی ان کی تعریف کردے۔ سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال بھی نوجوانوں کو احساس کمتری یا پھر احساس برتری میں مبتلا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ ہم میں سے اکثریت نے لفظ احساس کمتری کئی مرتبہ سنے ہے لیکن بہت کم ہی احساس برتری کا لوگ ذکر کرتے ہے۔ یہ دونوں ہی ایک جیسے ذہنی کیفیات کا نام ہے۔ ہم صرف جسمانی طور پر بیمار یا پھر کمزور نہیں ہوتے بلکہ ہم میں سے بہت سارے نوجوانوں کو شاید معلوم ہی نہ ہو کہ ان کی زندگیوں میں جو مشکلات ہے وہ ان کی اپنی نفسیاتی بیماریوں کی وجہ سے ہے۔ اور اس بات سے علم بھی نہیں رکھتے ہوکہ جو وہ روزانہ پانچ پانچ گھنٹے سوشل میڈیا کے اوپر دوسروں کو دیکھتے ہے۔
اسی وجہ سے وہ نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہے۔ کچھ نوجوان ایسے بھی ہوتے ہے کہ سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال کرنے کی وجہ سے احساس کمتری میں نہیں بلکہ احساس برتری میں مبتلا ہو جاتے ہے۔ احساس برتری ایک طرح کا ذہنی کیفیت ہے کہ جس میں انسان خود کو دوسروں سے بہتر سجھتا ہے۔ مگر حقیقت میں وہ بہتر نہیں ہوتا۔
احساس برتری میں مبتلا لوگوں کی چند نشانیاں یوں ہے ۔ آپ دیکھے کئی سوشل میڈیا کے استعمال سے آپ کے اندر یہ علامات تو نہیں پائے جاتے۔
1۔ وہ اکثر تنقید کرتے رہتے ہے۔
2۔ لوگوں کا ہمیشہ مذاق آڑاتے ہیں۔
3۔ لوگوں میں عیب اور برائیاں تلاش کرتے ہیں۔
4۔ وہ دوسروں کی غلطیوں اور کمزوریوں کو اچھال کر خوشی محسوس کرتے ہیں۔
5۔ اپنے آپ کو کچھ زیادہ ہی خاص سمجھتے ہے۔انہیں اپنے اندر کوئی خامی نظر نہیں آتی۔ اس لیے یہ اپنی اصلاح کی بھی کوشش نہیں کرتے ۔
اب آپ دیکھے کہ سوشل میڈیا ایک ایسا پیلٹ فارم بن چکا ہے جہاں پر دنیا بھر کے لوگ موجود ہوتے ہے۔ لازمی بات ہے اس میں ہر طبقے کے لوگ پائے جاتے ہے۔
ہمارے ہاں اکثریت کے عقلیں ان کے آنکھوں میں ہی ہوتے ہے۔ بظاہر وہ سوشل میڈیا کے اندر اپنی زندگی کو دوسروں کی ذاتی زندگی ( یعنی ان اسکرین ) سے موازنہ کرتے ہیں ۔ جس کے بعد انہیں اپنی زندگیوں میں صرف نادیدگی محرومیوں کا احساس ہوتا ہے۔
کہنے کا مقصد یہ ہے کہ احساس کمتری یا احساس برتری دونوں آپ کے عملی سماجی روابط کے ذندگی کو خراب کرسکتے ہے ۔
جان محمد انصاری ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیانت اور خیانت کاروں کا یہ سلسلہ آخر کب تک ؟

خیانت اور خیانت کاروں کا یہ سلسلہ آخر کب تک ؟ تاریخ کے اوراق اس بات کی گواہ ہے کہ تحریکوں اور غلام قوموں کے درمیان ہمیشہ سے غدار پیدا ہوئے ہ...