جمعرات، 9 اپریل، 2020

ہزارہ قوم اکابرین کے نام

قوم نسل کشی کا شکار ہے ہمارے معاشرے کے خواص اور دانشور طبقہ آپس میں اس بات پہ لڑتے جھگڑتے نظر آتے ہے کہ ہم اکثریت مذہبی ہے یا پھر قوم پرست !
 بیس سالہ قتل عام کے بعد ہزارہ قوم اس وقت  بری طرح اخلاقی و معاشی بحران کا شکار ہے۔ ہزارہ ٹاون میں آپ کو  توڈا بہت کاروبار یا دولت کا سرکولیشن ہوتا ہوا نظر آتا ہے لیکن علمدارروڑ میں کاروبار اور روزگار کے مواقعے نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کا  اندازہ آپ  آئے روز بند گلیوں کے اندر پراپرٹی ڈیلرز کے دوکانوں میں اضافے کی شکل میں دیکھ سکتے ہے ۔ کیونکہ ہمارے معاشرے میں اور دوسرا منافع بخش کاروبار نہیں رہا دہشت گردی کے  خوف و ڈر نے  اب بھی ہمیں بازار میں کاروبار کرنے سے روکے رکھا ہے۔  ہزارہ ٹاون اور علمدارروڑ میں آباد ہزارہ قوم اس وقت صرف بیرونی ممالک سے آنے والے پیسوں پر زندگی بسر کررہے ہیں۔  جس دن یہ آنا کم ہوجائیں تو پھر یہاں قیامت صغری برپا ہوگا۔ کیونکہ یہاں کوئی معاشی اصلاحات اور سرمایہ داری نظر نہیں آتے۔  ہمارے پاس نہ تو زراعت  کیلئے زمین ، صنعت ، اور دوسرے وسائل دستیاب ہیں اور نہ ہی ایسے ادارےہمارےپاس موجود ہے جو باہر سے پیسے اس سوسائٹی کیلئے لائے۔  آخران سب کا ذمہ دار کون ہے ؟ اور ایسے کون حل کرسکتا ہیں؟ ۔ صوبائی حکومت ؟؟؟ صوبائی حکومت تو خود اپنے آپ کو سنبھال نہیں سکتی ہے وہ آپ کے معاشرے یا قوم کو کیا دے سکتے ہیں۔ جو گزشتہ بیس سالوں سے آپ کے ایک قاتل کو گرفتار نہ کرسکے یا پھر ان کا من نہیں کیا کہ گرفتار کرئے وہ آپ کے مسائل حل کرینگے ایسا ہے تو یہ ایک قسم کا دھوکا ہوگا۔
اللہ تعائی نے خود قران کریم میں فرمایا ہے میں اس قوم کی حالت نہیں بدلتا
ہو جس کو اپنے  حالت بدلنے کی فکر نہ ہوں  ۔  ہمارے اسٹیک ہولڈرز تو آپس میں ان باتوں میں الجھے ہوئے ہیں کہ سوشلزم ایسا ہے  سرمایہ دارانہ نظام ویسا ہے ، دوسری جانب ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو بے چارے قوم کے مسائل کو خانقاوں میں بیٹھتے ہوئے صرف علمی بحث و مباحثوں کے زریعےسے  حل کرنےکی کوشش کرتے ہیں۔ یہ معاشرہ ٹارگیٹ کلینک کے بعد اب معاشی و سماجی بحران کا شکار ہیں۔ خاندانی نظام یہاں درہم برہم ہوچکے ہیں۔ طلاق کی شرح آسمانوں سے باتیں کررہا ہیں۔ عورتوں کی تعداد مردوں کے مقابلے میں دوگنی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت نہیں ہے کہ ہم آپس میں کمیونزم ، سوشلزم، کس  ذکر کا کتنا ثواب زیادہ ہے اور اس جیسے دوسرے چیزوں میں بحث و مباحثہ کرتے رہے اور  میں علمی بحث و مباحثے کا مخالف نہیں بلکہ بحث و مباحثے کا ہونا بہت ضروری ہیں۔ ترقی اور منطق تک پہنچنے کیلئے لیکن موجودہ حالات کے تقاضے ایسے نہیں اس قوم کو اداروں کی شدت سے ضرورت ہیں۔ ہم اکثر  افعال و اعمال کے بظاہر عوامل کو دیکھتے ہے ان کے پیچھے حقیقت تک پہچنے کی کوشش نہیں کرتے یا پھر دلچسپی نہیں لیتے۔ یہ جومعاشرے کے اندر سماجی برائیاں آسمانوں  سے باتیں کررہے ہیں دراصل اس کے پیچھے  غربت یعنی معاشی بحران کا ہاتھ شامل ہیں۔ کہتے ہے کہ ایک پہاڑ کے دامن میں ایک گاوں واقع تھا۔ اس پہاڑ کی چوٹی پر تین بھائی رہتے تھے۔
جس میں سے ایک کانام پانی ،دوسرے کا ہوا اور تیسرے کا نام آسمانی بجلی تھا ۔ ان تینوں کی وجہ سے گاوں کے لوگ اکثر پریشان رہتے تھے۔ جب پانی آتا تو سب چیزیں اپنے ساتھ بہاکر لئے جاتا اور جب ہوا آتی تو کھیت کے کھیت کو آڈاکے لے جاتا اور راتوں کو لوگ آسمانی بجلی کی آواز اور خوف سے سو نہیں سکتے تھے۔ گاوں کے لوگ آخر تنگ آکر آپس میں فیصلے کئے کہ ایک وفد ترتیب دیا جائے اور ان تینوں سے مذاکرات کیا جائے شاید کوئی راہ حل نکل سکے ۔ بالا آخر وفد ترتیب دیا گیا اور پہاڑ کے چوٹی پر چڑھنے کیلئے روانہ ہوئے وہاں پہنچتے ہوئے انہوں نے کہا صاحب  آپ کی وجہ سے ہمیں کافی مشکلات کا سامنا ہیں لہذا آپ ہمیں زیادہ تکلیف نہ دے تو بہتر ہوگا ۔ ہم آپ کی ہر شرط مانے کو تیار ہے تو ان تینوں نے کہا صائب ہمیں کوئی کام دھندہ دے۔ ہمارے پاس اس کے کرنے کے علاوہ اور کرنے کو کچھ ہے ہی نہیں تو ہم کرئے تو کیا کریں۔؟؟
لہذا اب ہمارے دانشوروں ، اکابرین ، علماءکرام  کو یہ بات سمجھنا ہوگا کہ اب آپس میں صرف بحث و مباحثے کی مزید گنجائش نہیں رہی بلکہ اب  مل کر کام کرنے کا وقت آچکا ہیں۔
جان محمد انصاری

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیانت اور خیانت کاروں کا یہ سلسلہ آخر کب تک ؟

خیانت اور خیانت کاروں کا یہ سلسلہ آخر کب تک ؟ تاریخ کے اوراق اس بات کی گواہ ہے کہ تحریکوں اور غلام قوموں کے درمیان ہمیشہ سے غدار پیدا ہوئے ہ...