ہزارہ قوم کو سب سے زیادہ نقصان عدم سیاسی بختگی اور فکری پسماندگی کی وجہ سے لاحق ہوئے ہیں۔
یہ بات دراصل 1979 کی ہے جب سوویت یونین افغانستان میں داخل ہوچکا تھا۔ امریکی نواز سیاستدان،جنرل اور مولویوں نے امریکہ کے ایماں پر ایسے اسلام اور کفار کے درمیان جنگ کا نام قرار دیا۔ امریکہ منصوبہ بندی ، عرب ریال اور پاکستان انسانی وسائل مہیا کرنے لگا۔ اس دوران افغانستان کے پڑوسی ملک ایران کے اندر شاہ پہلوی کے خلاف انقلاب برپا ہوا۔ اور اس کے نیتجے میں ایک نئی حکومت جنم لی۔
دنیائی اسلام نے سوویت یونین کے خلاف جہاد کا اعلان کردیا۔
مجاہدین کی امداد کیلئے صوبہ سرحد اور فاٹا میں کیمپ بنائےگئے ۔ اور صوبہ بلوچستان کے جنوبی پشتون خواہ میں بھی کئی کیمپ تعمیر ہوئے جہاں سے ایک کثیر لوگوں کو تربیت دے کہ افغانستان بھجوادیا جاتا تھا۔
افغانستان میں بسنے والے اقوام جن میں ہزارہ ،پشتون ، تاجک اور ازبک شامل ہے سب کے سب سوویت یونین کے خلاف صف آرہا ہوگئے۔
افغانستان کے اندر ہزارہ قوم کے کئی حزب بنے ، جن می ں حرکتی ، سپاہ حزب وحدت شامل تھیں۔ حزب وحدت اسلامی ہزاروں کا وہ واحد جماعت تھا جس میں مذہبی، قوم پرست، کیمونسٹ اور دوسرے افکار رکھنے والے ہزارے سب شامل تھیں۔ اس دوران کوئٹہ میں آباد ہزاروں نے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے ہتھیار اور پیسے لیتے رہے۔ اور روزانہ کی بنیاد پر عملدارروڑ پر واقعہ تنظیم بیلٹنگ سے ٹھینک، اور ہتھیاروں سے بھری گاڑیاں افغانستان روانہ کئے جاتے تھیں۔ دس سال کی مسلسل جنگ کے بعد جب سوویت یونین کی واپسی ہوئی تو یہ مجاہدین جو اللہ کی راہ میں کفار کے خلاف جہاد کرنے کے دعویدار تھے اقتدار کیلئے آپس میں دست و گریبان ہوئے اور آخر میں نیتجہ یہ نکلا کہ طالبان نامی گروپ کا ظہور ہوگیا۔ جیسے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ اب پاکستانی اسٹیبلشمنٹ اسی گروپ کا حامی تھا جو کہ افغانستان کے اندر ہزارہ قوم کے خلاف بھی سربکف تھے۔ جو لوگ کوئٹہ کے اندر پہلے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ سے مراعات لیتے تھے اب وہ بھی بے بس ہوگئے اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے کہنے پر بہت سے ایسے بھی افعال سر انجام دی جو میں سمجھتا ہوں کہ یہاں قابل ذکر نہیں ہزارہ قوم فکری پسماندگی اور سیاسی عدم دور اندیشی کی کمی کی وجہ سے کئی مرتبہ دیگر اقوام کی مفادات کیلئے دانستہ و نادانستہ طور پر قربانی کا بکرا بن چکے ہیں۔۔
اب ایک مرتبہ پھر افغانستان میدان جنگ بننے جارہاہے ۔
امریکہ کے انخلاء کے بعد طالبان اور بے حس افغان حکومت کے درمیان اقتدار کیلئے سخت ترین جنگ ہونے جارہا ہے ۔
جس سے واسطہ اور بلاوسطہ ہزارہ قوم متاثر ہوگا۔
خطے کے اس طرف آباد ہزارہ قوم کے قائدین طالبان کے خلاف مزاحمت کا راستہ انتخاب کرینگے یا مفاہمت سے کام لیےگئے دونوں صورتوں میں ہمیں انتہائی باریک بنی اور دوراندیشی سیاست اختیار کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر ہمارے لئے حالات ماضی کے مقابلے میں کئی زیادہ خطرناک ثابت ہونگے ۔
جان محمد انصاری

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں