ہزارہ قوم کا تعلیمی نصاب !!!
کسی بھی قوم کی ترقی کا راز اس کے نظام تعلیم میں پوشیدہ ہے۔ کیونکہ گھریلو تربیت کے بعد قوم کے بچوں اور بچیوں یعنی ملت کے سرمایوں کو تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے تعلیمی اداروں میں داخل کروایا جاتا ہے۔ جس کا مقصد ہوتا کہ بچہ تعلیم حاصل کرکے اپنی انفاردی و اجتماعی زندگی کو بہترین طریقے سے گزار سکے۔۔۔
جہاں کتابوں کی شکل میں موجود علم کے ذخائر ان کے پاک ذہنوں تک اساتذہ کرام کی کرام سے پہنچایا جاتا ہیں۔
یہی طلبہ و طالبات جو ابھی چھوٹے کلاسز میں پڑھتے ہیں۔ یہی آگے جاکر اس قوم وملت کی رہنمائی کرتے ہے۔
کیونکہ فارسی زبان میں ایک کہاوت ہے کہ '' طفیل امروز قائد فردا "
بچوں کی تربیت کرنے کیلئے تا کہ وہ کل قوم و ملت کی خدمت کرسکے اس وجہ سے قوم و ملت کے بزرگ اہل دانش و قلم کار حضرات ان کیلئے ایک نصاب کا تعین کرتے ہیں۔ اس نصاب میں ایسے مواد شامل ہوتے ہے جو حال اور مستقبل کے حالات سے نمٹنے کیلئے قوم و ملت کے معماروں کو آمدہ کیا جاتا ہیں۔ ان کی انفرادی شخصیت سے لیکر اجتماعی شخصیت سازی میں ماحول، اساتذہ کرام ، والدین اور معاشرے کے ساتھ ساتھ نصاب کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہیں۔ لیکن یہ بات انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑھ رہا ہے کہ ہزارہ معاشرے میں اس سمت پر بہت کم توجہ دیا گیا ہے اور دیا جارہا ہے۔ جب دنیا کے دوسرے اقوام سائنس اور دوسرے علوم کے میدان میں آئے روز نئے نئے دریافت کررہے تھے ۔ وہی ہم اس وقت پہاڑ کی غاروں میں اپنی بقاء کی جنگ لڑھ رہے تھے۔
16 صدی میں دنیا جہاں سائنس سمت دوسرے مضامین میں ترقی کررہے تھے اور اپنے لئے تعلیمی اداروں کی بنیاد رکھ رہے تھے وہی ہزارہ قوم کا مذہبی و قومی نصاب تعلیم سی پارہ، قرآن مجید صرف تلاوت کی حد تک، اس کے بعد پنچ کتاب اور حافظ کی اشعار کا مجموعے پر مشتمل تھا۔
کیا ہزارہ قوم اس نصاب سے دنیا کے دوسرے اقوام کی برابری کرسکتے تھے۔ ہرگز نہیں پچھلے دو سو سالہ ظلم و جبر کے بعد بھی ہزارہ قوم کے دانشوروں اور اسٹیک ہولڈرز کو ایک نئے نصاب کی تشکیل دینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئے۔۔۔
لہذا دنیا مقابلہ کرنے اور اپنی بقاء کی خاطر اب ہزارہ قوم کو ایک ایسی نصاب کو ضرورت ہے جو اس کی دنیائی و آخرئ زندگی یعنی مذہبی و قومی تعلیمات و ضروریات کو پورہ کرسکے۔ یہ کام صرف ایک کمیونٹی نظام کی شکل میں ایک نظام ہی کرسکتا ہے۔ جس کیلیے ہمارے نوجوانوں کو جدوجہد کرنا ہوگا۔۔۔۔
جان محمد انصاری
کسی بھی قوم کی ترقی کا راز اس کے نظام تعلیم میں پوشیدہ ہے۔ کیونکہ گھریلو تربیت کے بعد قوم کے بچوں اور بچیوں یعنی ملت کے سرمایوں کو تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے تعلیمی اداروں میں داخل کروایا جاتا ہے۔ جس کا مقصد ہوتا کہ بچہ تعلیم حاصل کرکے اپنی انفاردی و اجتماعی زندگی کو بہترین طریقے سے گزار سکے۔۔۔
جہاں کتابوں کی شکل میں موجود علم کے ذخائر ان کے پاک ذہنوں تک اساتذہ کرام کی کرام سے پہنچایا جاتا ہیں۔
یہی طلبہ و طالبات جو ابھی چھوٹے کلاسز میں پڑھتے ہیں۔ یہی آگے جاکر اس قوم وملت کی رہنمائی کرتے ہے۔
کیونکہ فارسی زبان میں ایک کہاوت ہے کہ '' طفیل امروز قائد فردا "
بچوں کی تربیت کرنے کیلئے تا کہ وہ کل قوم و ملت کی خدمت کرسکے اس وجہ سے قوم و ملت کے بزرگ اہل دانش و قلم کار حضرات ان کیلئے ایک نصاب کا تعین کرتے ہیں۔ اس نصاب میں ایسے مواد شامل ہوتے ہے جو حال اور مستقبل کے حالات سے نمٹنے کیلئے قوم و ملت کے معماروں کو آمدہ کیا جاتا ہیں۔ ان کی انفرادی شخصیت سے لیکر اجتماعی شخصیت سازی میں ماحول، اساتذہ کرام ، والدین اور معاشرے کے ساتھ ساتھ نصاب کا بھی بہت بڑا ہاتھ ہوتا ہیں۔ لیکن یہ بات انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑھ رہا ہے کہ ہزارہ معاشرے میں اس سمت پر بہت کم توجہ دیا گیا ہے اور دیا جارہا ہے۔ جب دنیا کے دوسرے اقوام سائنس اور دوسرے علوم کے میدان میں آئے روز نئے نئے دریافت کررہے تھے ۔ وہی ہم اس وقت پہاڑ کی غاروں میں اپنی بقاء کی جنگ لڑھ رہے تھے۔
16 صدی میں دنیا جہاں سائنس سمت دوسرے مضامین میں ترقی کررہے تھے اور اپنے لئے تعلیمی اداروں کی بنیاد رکھ رہے تھے وہی ہزارہ قوم کا مذہبی و قومی نصاب تعلیم سی پارہ، قرآن مجید صرف تلاوت کی حد تک، اس کے بعد پنچ کتاب اور حافظ کی اشعار کا مجموعے پر مشتمل تھا۔
کیا ہزارہ قوم اس نصاب سے دنیا کے دوسرے اقوام کی برابری کرسکتے تھے۔ ہرگز نہیں پچھلے دو سو سالہ ظلم و جبر کے بعد بھی ہزارہ قوم کے دانشوروں اور اسٹیک ہولڈرز کو ایک نئے نصاب کی تشکیل دینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئے۔۔۔
لہذا دنیا مقابلہ کرنے اور اپنی بقاء کی خاطر اب ہزارہ قوم کو ایک ایسی نصاب کو ضرورت ہے جو اس کی دنیائی و آخرئ زندگی یعنی مذہبی و قومی تعلیمات و ضروریات کو پورہ کرسکے۔ یہ کام صرف ایک کمیونٹی نظام کی شکل میں ایک نظام ہی کرسکتا ہے۔ جس کیلیے ہمارے نوجوانوں کو جدوجہد کرنا ہوگا۔۔۔۔
جان محمد انصاری

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں