Iran لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں
Iran لیبل والی اشاعتیں دکھا رہا ہے۔ سبھی اشاعتیں دکھائیں

ہفتہ، 18 اپریل، 2020

نوجوانان ذمہ دار قبول کیجئے !!!


زندگی میں آج جہاں پر بھی آپ کھڑے ہے وہ دراصل آپ کے ماضی کے خیالات اور عمل کا نتیجہ ہیں۔
کیونکہ ہر جانے والے ایام آنے والے آیام کو جنم دیتا ہیں۔ آج جو کچھ حاضر ہے وہ کبھی مستقبل ہوا کرتاتھا اور جو کبھی ماضی کہلائے گا۔ وقت کا سفر جاری ہیں اسے ہم صرف اپنی محنت، جدوجہد اور کوششوں سے اپنے مفاد میں استعمال کرسکتے ہیں۔ وقت کی سے کوئی بھی زی شعور انسان نکار نہیں کرسکتا ہے۔ اس کی قدروقیمت اگر روزمرہ کی زندگی میں دیکھنا چاہیتے ہوں تو صبح کی اخبار کو دیکھ لوں جو اخبار صبح ایک عدد 20 روپے کا ہوتی ہےوہی اخبار شام کو کوئی 20 روپے فی کلو لینے کو تیار نہیں ہوتا ۔ ہم میں سے ہر کسی نے ہر کسی نے شاید بہت سی کوشش کئے ہونگے کہ اپنی زندگیوں میں تبدلی لائے لیکن صرف چند دن کے بعد کم بخت نفس خود بخود انسان کو واپس اسی جگہ پر لاکر کھڑا کردیتا ہے جہاں سے ہم لوگوں نے شروع کی تھی۔ لیکن دراصل یہ باتیں غلط ہے کیونکہ آپ نے سنجیدگی سے کوشش کی ہی نہیں ہونگے۔ کیونکہ خیالات اور احساسات کی ڈور آپ کے اپنے ہاتھوں میں ہی ہیں۔ زمہ داری قبول کیجئے! ناکام لوگوں کی سب سے بڑی عادت اور نشانی یہ ہے کہ وہ کوئی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے صرف شکوہ و شکایت کے میدان کے غازی ہوتے ہے۔ وہ اپنی ناکامیوں کا الزام اپنے والدین ، وسائل کی کمی، خراب ماحول اور برئے لوگوں اور قمست کے کندے پر ڈالتے ہے۔ اور خود کو معصوم،شریف النفس انسان اور غیر جانبدار دکھاتے ہے۔ اور وہ خود زمہ داری لینے کو تیار نہیں ہوتے ۔ اسی وجہ سے وہ زندگی میں کبھی خوش نہیں رہ سکتے ہے۔ انسان کو اس کی زندگی میں تین چیزوں پر مکمل کنڑول ہے۔ خیالات،تصورات اور عمل و کردار آپ تینوں کا مثبت استعمال کرکے اپنی زندگی کو کامیاب اور ان کے منفی استعمال سے آپنے زندگی کو بگاڈ اور ناکام بھی بناسکتے ہیں۔ یہ میں نہیں کہتا بلکہ سائنس اور انسانی شعور کہتاہے۔ لہذا ایک عالم دین اور بزرگ وار علامہ محمد آصف حسینی صاحب فرماتے تھے کہ ہمارے نوجوان بے عمل نہیں بلکہ بے خبر ہے ۔ لہذا اسلام قوانین اور شریعت بھی بے خبر لوگوں پر اپنا ہاتھ ٹھوڈا بہت نرم رکھتاہے لیکن کسی چیز کے بارے میں آگاہی کے بعد اگر اس پر عمل نہ کاجائے تو آپ کی اپنی بدقسمتی ہوگی۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ تبدیلی چاہتے ہو ۔ چاہیے وہ تبدیلی آپ کی ذات میں ہو یا معاشرے میں دونوں صورتوں میں آپ کو زمہ داری قبول کرنے ہونگے۔ اس کے سوا کوئی اور راستہ نہیں۔
بقول شاعر :-
خود بخود ٹوٹ کے گرتی نہیں زنجیر کبھی
بدلی جاتی ہے بدلتی نہیں تقدیر کبھی
جان محمد انصاری

ہفتہ، 11 اپریل، 2020

ہمارے تعلیمی ادارے اور منشیات!!




کسی بھی معاشرے کی تباہی اور بربادی کے پیچھے سب سے بڑا ہاتھ منشیات کا ہوتا ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ آج کل ہمارے تعلیم یافتہ نوجوان اس لعنت میں مبتلا ہوتے جارہے ہیں۔ اس کی روک تھام کیلئے باقاعدہ وفاقی اینٹی نارکوٹکس فورس کے نام سے بھی ایک ادارہ موجود ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑھتا ہے کہ وہ بھی یاتو منشیات سمگلروں کے ہاتھوں بے بس ہے یا پھر دال میں کچھ کالا ہے ۔ ماہرین کے مطابق منشیات کے لعنت میں مبتلا روزانہ نشے کے عادی افراد تقریبا 700 افراد اپنے ہاتھوں اپنی زندگی ختم کررہے ہیں۔ 2019 کی ورلڈ ڈرگ رپورٹ کے مطابق دنیا کے تقریبا 35 ملین افراد منشیات کو مختلیف طریقوں سے استمعال کرتے ہیں۔ جن کی عمر 12 سے 64 سال تک کی ہیں ۔ خطرے کی بات تو یہ ہے کہ اب یہ لعنت اب ہمارے تعلیمی اداروں کے پھیل چکا ہے ۔ جس سے معصوم طلباء و طلبات کی صحت اور زندگی پر مضر اثرات پڑرہے ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ لوگ تعلیم پر بھی بھرپور توجہ دینے سے قاصر رہتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق ہمارے اسکولوں اور کالجوں اور یونیورسٹیوں اور دیگر تعلیمی مراکز پر ہر دس میں سے ایک طالب علم منشیات کا عادی ہے اور تیزی سے اس کی اعدادوشمار میں اضافہ ہوتا جارہاہیں۔ جو واقعی ہمارے لئے قابل تشویش بات ہے۔ نوجوان نسل دن بدن اس لعنت کی جانب راغب ہورہے ہیں۔ یقین اس کے پیچھے کچھ لوگوں کا خاص ہاتھ شامل ہے جو چند رقم کمانے کی غرض سے قوم کے جوانوں کے سر سے کھیل رہے ہیں۔ اس لعنت کا اندازہ آپ ہزارہ ٹاون کے گلی کوچوں میں دیکھ سکتے ہے جہاں چھوٹے چھوٹے لڑکے سیگریٹ و نسوار پیتے نظر آتے ہے ۔
سیگریٹ کے ایک کش سے شروع ہوا یہ فعل بالا آخر ہیروئن ، اور دوسرے سگین اور نشے کے مواد پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ ہمارا معاشرہ کس قدر اس لعنت میں جل رہا ہے اس کا اندازہ آپ آئے روز معاشرے میں اہسپتال برائے انسداد منشیات کے ناموں سے اداروں کا افتتاح دیکھتے آرہے ہیں۔
معاشرے کو اس لعنت سے نجات دینے کیلئے والدین ، اساتذہ ،علماءکرام ،سیاسی اکابرین، سماجی تنظیمیں،سول سوسائٹی کے اراکین، اور ہر ذی شعور انسان کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
جان محمد انصاری

معاشرے کو سمت دینے والے کون ہوتے ہیں؟



کسی بھی قوم یا معاشرے کو سمت دینے والے اس قوم کے اندر بیٹھے ہوئے سیاسی اکابرین، علماءکرام، ادیب ،سماجی تنظیمیں، سول سوسائٹی کے لوگ ،اساتذہ کرام، طلباء و طالبات ،تاجر طبقے سمیت ہر وہ فرد قوم یا طبقہ اس میں شامل ہوتا ہے جو معاشرے میں اثرورسوخ رکھتے ہیں۔ جیسے دنیا اشرافیہ ، حواض ، اسٹیک ہولڈرز ، وغیرہ جیسے نام و القابات سے یاد کرتے ہیں۔ دنیا کی ہر قوم جس طرح آپس میں مختلف قبائل پر مشتمل ہوتی ہے ویسے ہی ہزارہ قوم بھی بھی کئی قبائل پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جیسے ہم اپنی مادری زبان ہزارگی میں طائفہ بولتے ہے۔ اب تو یہ بھی ایک بحث سخن بن چکی ہے کہ کیا ہزارگی ایک الگ زبان کی حیثیت رکھتا ہے یا پھر فارسی دری کا ایک انتہائی خوب صورت دلکش لہجہ ہے۔ اس بحث کی طرف اب ہم نہیں جاتے بلکہ کہنے کا مقصد یہ تھا کہ ہم ہمیشہ اہم کاموں کو چھوڈکر ثانوی حیثیت رکھنے والے اعمال و اشیاء کے پیچھے اپنا رخ کرتے ہے یہ ہمارے نفسیات میں شامل ہے اس کا اندازہ آپ میرے اس کالم میں کرلئے کہ موضوع مقصد کی جانب حرکت کرنے کے بجائے میں ہزارگی زبان کی تشریح پر چلا گا ۔ کیا کرو میں بھی تو آخر میں ایک ہزارہ ہوں۔ اور میرا تعلق بھی اسی معاشرے سے ہیں۔ مزید دوسری طرف نہیں جاتے بلکہ واپس اپنے موضوغ سخن پر آتے ہے۔ ہزارہ معاشرے کے اندر ہر طائفے کے اپنی اپنی ایک چندہ ہوتا ہے ۔ بہ الفاظ عام گروپ ہوتا ہے ۔ جس کے سربراہ کو سرچندہ نام کے خطاب سے نوازا جاتا ہے۔ طائفے میں موجود جیتنے بھی گھرانے ہوتے ہے ، سرچندہ ان کے اجتماعی زندگیوں کے فیصلہ کرنے میں اختیار رکھتے ہیں۔ جو سرچندہ فیصلہ کرتا ہے اسے تمام اراکین باخوشی یا بہ غم مانا ہی پڑتا ہے۔ وہ اجتماعی فیصلہ کے اختیارات رکھتے ہے۔ فکر کی بات یہ ہے کہ ان میں اکثریت بےچارے تعلیم یافتہ نہیں ہوتے بلکہ صرف حاجی یا کربلائی ہوتے ہے کیونکہ سرچندہ بنے کا معیار ہزارہ قوم میں صرف دولت مند ہونا ہی کافی ہوتا ہے ۔ معیار صرف دولت ہے جس کے پاس بھی ہو وہ بندہ اہل ہے کہ سرچندہ بن جائے چاہے وہ معاشرتی ، سیاسی،اخلاقی،نفسیاتی اور تعلیمی شعور رکھتا بھی ہوں یا نہیں کوئی مسلہ نہیں ہے بس طائفے کے لوگوں کو ہفتے یا مہینے میں ایک یا دو مرتبہ دعوت پر کھانا دے سکے بس ۔
ان میں اکثریت زیادہ تعلیم بھی نہیں رکھتے ہے ۔ ہزارہ قوم کی سب سے بڑی خامی یہی ہے کہ یہ اپنے زندگی کے اجتماعی اختیارات کو ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں تھاماتے ہے جو حالات حاضرہ ، سیاسی و سماجی بصیرت سے پیدل ہوتے ہے۔ جو صرف اپنی ذاتی مفادات یا پھر ذاتی تجربے کی بنیاد پر فیصلے و اعمال سرانجام دیتے ہے جو اکثر موجودہ دور کے تقاضوں سے ہم آہنگی نہیں رکھتے بلکہ ذمینی حقائق کے بھی متضاد نکلتےہیں۔
ہزارہ معاشرے کے اندر جتینے بھی ایسے ادارے ہے جو اس قوم کی اجتماعی زندگیوں سے تعلق رکھتے ہے۔ وہاں نوجوانوں کے بجائے ایسے لوگوں کے ہاتھوں میں ہی ہیں۔ جو بے چارے فکر سے قاصر ہے۔ اس موقعے پر مجھے علامہ اقبال کا ایک شعر یاد آرہاہے ۔ قارئین محترم اگر آپ چاہئے تو عرض کرلوں۔ اقبال نے کہا تھا
یہاں ہر شاخ پر بیٹھے ہے آلو
انجام گلستاں کا کیا ہوگا۔
گلستان کو تباہ کرنے کیلئے ایک الو کافی ہوتا ہے ہزارہ معاشرے میں تو ہر ایک عوامی اداروں پے الو بیٹھے ہوئےہیں۔ انجام معاشرہ اور آئیندہ نسلوں کا کیا ہوگا۔ یہ اللہ اور آپ قارئین محترم بہتر جانتے ہیں۔ لہذا اب ہزارہ معاشرے کو ایک ایسی ادارے کی ضرورت ہیں کہ جس میں باقی تمام سماجی و معاشرتی ،تعلیمی و فرہنگی، مذہبی و قومی اقدار ، کاروباری سمیت تمام ادارے جو ایک معاشرےیا قوم کی ضرورت ہے ایک عظیم ادارے کے اندر انضمام ہوں۔ جیسے آپ ایکب کمیونٹی نظام بھی کہ سکتے ہیں ، ۔ جس کی قیادت نوجوان نسل ہاتھوں میں ہوں ۔ جب سب ہی ایک سرچشمہ سے پانی پیئےنگے تو آپس میں اختلاف کا کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گئی ۔ کیونکہ تمام طرح بے اتفاقیوں کے پیچھے مفادات کا کالا ہاتھ ہوتا ہے۔ جب کے مفادات ایک سرچشمہ ہونگے تو اس سے آپس میں اتحاد و اتفاق پیدا ہوگا ۔ جو کسی بھی قوم کی کامیابی کا ضامن ہوتا ہے ۔ شاید آپ لوگوں کے ذہنوں میں یہ سوال آیا ہوگا کہ بالا آخر ان سب کو اکٹھا کیسے کیا جائے جیسے پہلے بھی میں ذکر کرچکا ہوں کی بے اتحاد کے پیچھے مفادات کا ہاتھ ہوتا ہے ۔ مفادات کا سرچشمہ ایک ہونے سے آپس میں اتحاد و اتفاق پیدا ہوتے ہے کیونکہ ہمارے ہاں اختلافات نظریات پر نہیں بلکہ ذاتی و مفاداتی اختلافات ہوتے ہیں۔ یہ معاشرہ اس سطح فکری تک نہیں پہنچا ہے کہ یہاں کے لوگ فکر و نظریاتی اختلاف کرئے اور منطق و عوامی فلاح و بہبود کی بنیاد پر اپنے اجتماعی فیصلے و رہبر منتخب کرلئے لہذا آپ کو سمجھانے کی عرض سے ایک مثلا دیتا ہوں کہ مثال کے طور پر ایک کمرہ جماعت میں تمام طلباء و طالبات پڑھتے ہے ۔ جن میں مختلف قومیت ،مذاہب سے طلباء و طلبات تعلق رکھتے ہے ۔ ہر ایک بنیادی طور پر آپس میں ایک دوسرے متضاد ہوتے ہے ، علاقائی ، لسانی ، فرہنگی ،مذہبی اور قومی بنیادوں پر آپس میں ایک دوسرے سے الگ ہونے کے باوجود ایک کمرہ جماعت میں آپس میں کیوں بیٹھتے ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان سب کا مفاد آپس میں ایک ہے ۔ وہ سب تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس صورت میں ہی ہماری بقاء پوشیدہ ہے کہ اہم ایک ایسے ادارے کی بنیاد رکھے۔ اور اس نظام کے تحت ہی ہم لوگ اس قوم کو ترقی و کامرانی کی سمیت پے لے جاسکتے ہیں۔
جان محمد انصاری

منگل، 7 اپریل، 2020

ہزارہ قوم کا احتجاج !!!۱


‏پاکستان میں دوسرے اقوام اپنی حقوق کیلئے احتجاج و مظاہر کرتے ہے۔
وہ کاروبار ، روزگار، اور زندگی کے دوسرے سہولیت کا مطالبہ کرتے ہیں۔
لیکن ہزارہ برادری کا ہر احتجاج مظاہرہ مطالبہ صرف اور صرف یہی ہوتا ہے ہمیں زندہ رہنے دیا جائے۔
ہم غلام ہی صحیح لیکن ہمیں صرف جینے کا حق دیا جائے۔
لوگ آپ کو زندہ رہنے کا حق دینے کو تیار نہیں کیا وہ آپ کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرینگے۔۔۔
آخر یہ ظلم کب تک ؟؟؟
کیا ہمارے مردوں میں غیرت نہیں ہے کہ ہم ہمیشہ زندگی کا بھیک مانگتے پھیرے 

اتوار، 5 اپریل، 2020

یہودیوں کا قومی و مذہبی نصب العین!!!


یہودیوں کو پرانے زمانے میں ایک خاص قسم کا لباس پہنایا جاتا تھا تاکہ دوسرے لوگ دور سے ہی انہیں دیکھ کر پہچان سکے کہ یہ یہودی ہے۔ دنیا کے ہر ممالک میں انہیں کوئی انسانی حقوق میسر نہیں تھے جیسے آج کل دنیا کے کسی ممالک میں بھی ہمیں کوئی حیثیت حاصل نہیں ہر جگہ ہمیں قربانی کے بکرے کے طور پر استعمال کئے جاتے ہیں۔ لیکن پھر تاریخ نے یہود پر واضح کردیا کہ وہ دنیا میں کہیں بھی بطور یہودی نہیں پنپ سکتے۔ انہیں مختلف تحریکوں اور نظریاتی فلسفوں میں پناہ لینا پڑےگی، تاجر اور صنعت کار بن کر مزدوری کمانا ہوگی اور ہر ملک کے حکمران طبقے میں اپنے لئے جگہ بنانا ہوگی، دانشوروں کا روپ دھارنا ہوگا، سائنس کے میدان میں کارنامے انجام دینا ہوں گے تا کہ وہ ہر کسی کی ضرورت بن جائیں۔ یہودی یہ بات جانگے کہ جب تک دنیا کو آپ کا کوئی ضرورت نہ ہو تو وہ آپ کو اپنی مقاصد کیلئے قربانی کا بکرا بناتا جائےگا۔ اور جب تک آپ طاقتور نہیں ہونگے آپ کی آواز میں بھی اسحتکام اور بلندی پیدا نہیں ہوگی اور پھر آپ دنیا کے کسی بھی حالات یا معاملات میں کوئی بھی کردار ادا نہیں کرسکتے ہے ۔ یہودیوں نے یہ بات درک کردی اور دنیا کے جس بھی کونے میں رہے لیکن ہمیشہ دنیا پر حکومت اور ظلم و جبر سے نجات حاصل کرنے کیلئے جدوجہد کرتے رہے۔۔۔
اقوام کی تقدیر افراد کے ہاتھوں میں ہیں۔ اور قیمتی افراد قوم کے ادارے ہی بناتے ہے ۔ اسی کے پیش نظر ایک جرمن یہودی موسی ہپٹس 1875-1812 نے صیہونیت کا علم بلند کردیا۔ چنانچہ مختلف ممالک میں آباد زندگی کے مختلف شعبوں میں مصروف یہودیوں نے مرحلہ وار پروگراموں کے تحت فلسطین کا رخ کردیا ۔ ہماری قوم میں بھی ہر طرح کے افراد پائے جاتے ہے یعنی مختلف شعبہ ہائی زندگی سے تعلق رکھتے ہے اگر انہیں ایک سمت اور ایک نظام اور مقصد دیا جائے تو یہ منتشر طاقت متحدہوکر اس قوم کو غلامی و جاہلیت کے اندھیرے سے نکال سکتا ہے۔ اور یہ یہودیوں کا طویل المعیاد منصوبہ تھا۔ کیا ہمارے پاس بھی کوئی طویل المعیاد منصوبہ ہے اس ظلم و جبر سے نکلنے کا۔ ؟؟؟ یہودیوں کی کامیابی کا راز یہ تھا کہ انہوں نے صیہونیت کو قومی اور مذہبی نصب العین قراد دیا تھا۔ ۔۔
ہمیں بھی ایک ایسے نظام کی ضرورت ہے جیسے ہم قومی و مذہبی طور پر اپنا نصب العین قرار دے سکے ۔۔
خواجہ کمیونٹی سسٹم، میمن کمیونٹی سسٹم اور آغا خان کمیونٹی سسٹم اس کی بہترین مثالیں ہیں۔
جان محمد انصاری

جمعہ، 3 اپریل، 2020

دنیا کا مظلوم ترین قوم!

پرانے زمانے میں غلاموں کو جیل نما کالونیوں میں رکھا جاتا تھا۔ جہاں انہیں کسی بھی قسم کی انسانی حقوق حاصل نہیں تھا۔ ان سے صرف اپنی مفادات تک کی حدتک لگاو رکھا جاتا تھا۔ ان کے بستیوں کے باہر آنے جانے پر پابندی ہوتا تھا۔ وہ صرف محافظوں کے اجازت سے باہر اور اندر جاسکتے تھے۔ ٹھیک اسلام کے قلعے میں ہزارہ قوم کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا جارہا ہیں۔ انہیں بھی غلاموں کی طرح شہر کے کناروں میں ان کے اپنے علاقوں میں قید کردیاگیا ہے ۔ جہاں انہیں صرف زندہ رہنے کیلئے سہولیات زندگی دیا جاتا ہے۔
اس طرح پاکستان کو دنیا میں سب سے بڑا جیل رکھنے کا اعزاز حاصل ہیں۔
1۔ سینٹرل جیل مری آباد۔
2۔ سینٹرل جیل ہزارہ ٹاون ۔
یہ دونوں جیل بلوچستان کے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں واقع ہے۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ان جیلوں میں قیدیوں کی تعداد 6 لاکھ سے 9 لاکھ کے درمیان تک ہے۔
حکومت وقت کو سب سے زیادہ جزیہ انہی جیلوں سے حاصل ہوتا ہے۔ ان قیدیوں کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ یہ اپنی نوعیت کے واحد قیدی ہے جو اپنی زندگی پر رضامند ہے اور انہیں کسی بھی قسم کی حقوق حاصل کرنے کے شوق نہیں۔ شاہ کی فرمابرداری میں یہ لوگ شاہ کو بھی پیچھے چھوڈتے ہے۔ یہ قیدی آپس میں تو کافی ظالم ہے مگر جیلر کے ساتھ ان کا رویہ انتہائی شائستہ ہوتا ہے۔ اس وجہ سے شاید انہیں جلد دنیا میں سب سے بہترین قیدی ہونے کا اعزاز حاصل ہو۔ ان کے نسلیں یہی پیدا ہوتے ہے اور پھر یہی مرجاتے ہے۔ جیل کی آبادی کو کنٹرول کرنے کیلئے حکومت وقت کبھی کبھار نسل کش مہم کا اعلان بھی کرتے رہتے ہے۔ ان کے نوجوانوں میں کسی بھی قسم کی قید و تعصب کے متعلق بیداری اور جدوجہد نظر نہیں آتے۔ دنیا کے سب سے شریف قیدی انہیں جیلوں میں رہتے ہے۔
جان محمد انصاری

ہزارہ قوم کے ساتھ قادیانیوں جیسا سلوک!!!


آج ہزارہ قوم پاکستان میں رہنے والے دوسرے اقلیتوں کے مقابلے میں بدترین زندگی گزاررہے ہیں۔ آئین پاکستان کے تحت گستاخ رسول (ص) اور کافر قرار دینے کے بعد جن حالات کا قادیانیوں کو سامنا تھا آج وہی حالات ہزارہ قوم کو سامنا ہے۔ پاکستان آبادی کے لحاظ سے 97 فیصد مسلم اور 3 فیصد غیر مسلم آبادی پر مشتمل ہے۔ گوگل ویکی پیڈیا کے مطابق پاکستان میں قادیانیوں کی آبادی 4 ملین ہے۔ کچھ عرصہ پہلے ریاست پاکستان میں ان کے جان، مال، اولاد اور کاروبار محفوظ نہیں تھے بلکہ آئیے روز انہیں مختلف گلی چوراہوں پر کھلے عام قتل کردیے جاتے تھے۔ جس طرح ہزارہ قوم کا بھی اسی طرح قتل عام کیا جارہا ہے۔ پاکستان کے اندر اگر کسی کو معلوم ہوجائے کہ یہ بندہ قادیانی کمیونٹی سے تعلق رکھتا ہے تو اس سے سلام و دعا ترک کردیاجاتا تھا۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ان کے اوپر ہر قسم کی پابندیاں لگائی گئی تھی۔ جس طرح ہمارے اوپر بھی ہر قسم کی سیاسی فارمولے تجربہ کئے جاتے ہے۔ جس طرح لوگ ان سے کاروباری، سماجی و معاشرتی روابط رکھنے سے اجتناب کرتے تھے اور ہر جگہ ان کے جان و مال کے درپے ہوتے تھے۔ ٹھیک ہزارہ قوم کو بھی یہی حالات کا سامنا ہے۔ قادنیوں کو کسی بھی قسم کا سیاسی آزادی حاصل نہیں تھا اور نہ ہی ان کے پاس کوئی سیاسی جماعت موجود ہے۔ وہ اپنی شناخت چھپاتے پھرتے تھے اپنی جان کی امان کی خاطر ہم بھی اپنی پہچان اکثر چھپاتے نظر آتے ہے تا کہ اگر کسی علم ہوجائے تو ہماری زندگیاں خطرے میں پڑھ سکتا ہے۔ پھر انہوں نے اپنا تقدیر بدل ڈالا آج یہ کمیونٹی اتنا طاقتور ہے کہ اس کا انداز قومی اسمبلی کے حلف بیان میں ختم نبوت کے حروف کو پاک کرنے سے لگایا جاسکتا ہے۔ انہوں نے اپنی ضرورت زندگی کو پورہ کرنے کیلئے اپنا ایک خود کفیل کمیونٹی سسٹم بنایاہے۔ جو پاکستان اور دنیا بھرکے قادیانیوں کی تعلیم، صحت، روزگار ،کاروبار ، مذہبی تعلیمات نیز ضروریات زندگی کے ہر سہولیات مہیا کرتے ہے۔ انہیں پاکستان کی 97 فیصد مسلمانوں کی ضرورت ہی نہیں کہ وہ آکے ان کو تعلیم، صحت، کاروبار، نوکریاں دے بلکہ وہ ایک خودمختار ریاست کے اندر رہتے ہوئے ایک ریاستی ڈھانچہ بنائے ہوئے ہے۔ پاکستان کی رہاستی ادارے اور مسلم آبادی خود ان کے محتاج ہوچکے ہے۔ واگر نہ انہیں اب تک نسل و نابود کرچکے ہوتے۔ آج ریاست پاکستان اپنی مفادات کی خاطر انہیں تحفظ دینے پر مجبور ہے۔
ہزارہ قوم کو بھی اپنے لئے ایک ایسے کمیونٹی نظام کی تشکیل کرنا چاہئے جو اس قوم کی دنیاوئی و اوخری ضروریات کو پورہ کرسکے۔ اس طرح کی ایک نظام میں ہزارہ قوم ایک خودمختار اور خود کفیل قوم ہوگا۔ اس وقت ہمیں کوئی بھی نہیں مارسکتا ہے ۔ ریاست پاکستان اپنی مفادات کو بچانے کی خاطر جس طرح آج قادیانیوں کو تحفظ دیتے نظر آتے ہے ٹھیک اسی طرح وہ ہمیں بھی اپنی مفادات کو بچانے کی خاطر تحفظ دینے کو اپنا اعزاز سمجھے ینگے۔۔۔ اسی طرح کے ایک نظام میں ہی ہماری بقاء کا راز پوشیدہ ہے۔ ہم نے پچھلے 70 سالوں سے جمہوریت کے ساتھ انتخابات میں حصہ لیتے رہے اور اپنی قسمت آزماتے رہے لیکن سوائے گریہ و زاری ہماری مقدر میں کچھ بھی نہیں آیا ۔۔۔۔۔
اس نسل کو صرف نسل کشی، تعصب اور محرومیوں کا تحفہ ملا۔۔۔۔
جان محمد انصاری

خیانت اور خیانت کاروں کا یہ سلسلہ آخر کب تک ؟

خیانت اور خیانت کاروں کا یہ سلسلہ آخر کب تک ؟ تاریخ کے اوراق اس بات کی گواہ ہے کہ تحریکوں اور غلام قوموں کے درمیان ہمیشہ سے غدار پیدا ہوئے ہ...