پیر، 27 اپریل، 2020

بینظیر انکم سپورٹ پروگرام سے لیکر احساس کفالتی پروگرام اور غربت!




25 جولائی 2018 کو موجودہ حکومت نے اقتدار میں آتے ہی بہت سے اقدامات کرنے کی اعلانات کیں،جن میں سرفہرست کرپشن کی بیخ کنی، احتساب ، فلاحی ریاست ، پچاس ہزار نوکریاں، پانچ لاکھ گھر اور پاکستان کو معاشی بحران سے نکال کر خوشحال پاکستان بنانے کا اعلان شامل تھا۔ ۔ کرپشن کی روک تھام اور معاشی اصلاحات سمت آج تک کسی بھی دوسرے وعدے پر عمل در امد نہ ہوسکا۔
بقول شاعر ؛-
وہ وعدہ ہی کیا وعدہ ۔
جو وفاء نہ ہو۔
عالمی ادارہ صحت کے ایک حالیہ سروے کے مطابق پاکستان کے سب سے پسماندہ صوبہ بلوچستان کے شعبہ صحت میں %90 بیت الخلاء، %70 پانی اور %50 بجلی سے محروم ہے۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق بلوچستان جنوبی ایشیا کا سب سے غربت زدہ خطہ ہے۔
پاکستان کی کل آبادی کے %70 لوگ خط غربت کے لکیر کے نیچھے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ پاکستان کے اندر لوگوں کی غربت کم کرنے کیلئے مندرجہ ذیل ادارے زیرے سرپرستی حکومت پاکستان اپنا کام سر انجام دہے ہے۔
1. Banzir Income Support.
2. Pakistan Bait-ul-Mall Zakat.
3. Poverty Alleviation Fund.
4. Trust for Volountry Organization.
5. The Sun Network.
6. Centre for Social Entrepreneurship.
کپتان نے پاکستان میں غربت کم کرنے کیلئے اپنی کابینہ کے اراکین سے مشورہ کئے۔ چونکہ خان صاحب کی کابینہ میں شامل اکثر وزراء و مشیران کا تعلق سابقہ حکومت کرنے والے سیاسی جماعتوں سے ہے لہذا انہوں نے خان صاحب کو وہی مشہورے دئے جو اس سے پہلے حکومتیں سر انجام دے چکے تھے۔ یعنی مالی امداد دے کر غربت کو کم کیا جائے۔ پھر اس حکومت سے وہی غلطی سر زد ہوا جو 2008 میں پاکستان پیپلزپارٹی کے حکومت نے کی ۔ 2008 میں پی پی پی کے حکومت نے اعلان کہ ملک سے غربت ختم کرنے کےلئے فی خاندان ایک ہزار روپے ماہانہ غریب ترین خاندانوں کو دیا جائے گا۔ بجٹ 2009۔2008 میں اس مد میں 35 ارب روپے مختص کئے اور 35 لاکھ خاندان کو یہ رقم تقسیم کرنے کا پروگرام بنایا۔ اس سکیم کے تحت ایک نیا محکمہ بنایا گیا اور اس محکمے کو ایک وزیر بھی عنایت کردی گئی۔ اس پروگرام کے تحت 342 منتخب ایم۔این۔ایز اور 100 سینٹرز کو فی نمائیندہ 8000 فارم دئے گئے تا کہ وہ اپنے اپنے حلقہ انتخاب میں غریب ترین لوگوں کو یہ فارم دیں۔ ان کی تصدیق کرکے یہ فارم متعلقہ محکمہ کو واپس کریں تا کہ غریب خاندانوں کو فی خاندان ایک ہزار ماہانہ امداد شروع کی جاسکے۔ اس پروگرام کے لئے 6 کروڑ ڈالر کا قرض بھی حکومت نے حاصل کرلیا۔ یہ سب فارم سیاسی بنیادوں پر اپنے ووٹرز میں تقسیم کئے گئے۔ اس مرتبہ 27 مارچ 2017 میں عمران کی حکومت نے وہی غلطی دوبارہ دھراتے ہوئے احساس کفالتی پرگرام کا آغاز کردیا۔ جس کی مد میں سال 2019 کے بجٹ میں 80 بیلن روپے منظور کئے گئے۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب ملک انتہائی معاشی بحران کا شکار تھا۔ پاکستان میں لاکھوں کے حساب سے نوجوان بےروزگار بیٹھے ہوئے ہے۔ اگر حکومت توڈا بہت بھی سنجیدہ ہوتا تو مستقبل بنیادوں پر منصوبہ بندی کرتا تو اس سرمائے سے شہری اور ریہی حلقوں میں ٹیکس فری چھوٹی بڑی 100 کے قریب فیکڑیاں لگائی جاسکتی تھی، اور ان فیکٹریوں میں کوئی تقریبا ڈیڑھ لاکھ بے روزگار نوجوانوں کو ملازمت دی جاسکتی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ اسی سرمائے میں سے میڑک اور ایف اے پاس نوجوانوں کو ٹیکنیکل تعلیم دلواکر بے روزگاری کا چند سالوں میں حل نکالا جاسکتا تھا۔ بقول بندہ حقیر محنتی اور ہنرمند لوگ دنیا میں کبھی بھی بھوکے نہیں رہتے۔ اکیسویں صدی مشینوں کا دور ہے ، اس دور میں جس ملک کے پاس جینے ہنرمند لوگ ہوگئے وہ اتنے ہی ترقی یافتہ ہوسکتے ہے۔ جس کا واضح نمونہ ہمارے پاس بنگلادیش ہے جس نے بیران ممالک کام کرنے والے اپنے شہریوں کو وطن واپس بھولاکر ہنرمند بنا کر عالمی منڈی کے اندر داخل کے اور اب بنگلادیش ہم سے روز بروز آگے نکلتے جارہے ہیں۔
جو پاکستان کیلئے باعث شرمندگی ہے۔
اگر اس طرح کے عارضی پراجیکٹس سے ملک ترقی کرتا تو پہلے کرچکا ہوتا۔
پاکستان کے نااہل حکمرانوں کی ناقص پالیسوں کی وجہ سے یہ ملک آج تباہی کے دہانے پر پہچ چکا ہے۔
جان محمد انصاری.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

خیانت اور خیانت کاروں کا یہ سلسلہ آخر کب تک ؟

خیانت اور خیانت کاروں کا یہ سلسلہ آخر کب تک ؟ تاریخ کے اوراق اس بات کی گواہ ہے کہ تحریکوں اور غلام قوموں کے درمیان ہمیشہ سے غدار پیدا ہوئے ہ...